ہوم   > Latest

دنیاکی مہنگی ترین پینٹنگ خریدنےکیلئےنامعلوم فون کال سعودی شہزادے کی نکلی

4 months ago

مونا لیزا کی شہرت یافتہ تصویر بنانے والے خالق لیونارڈو ڈاونچی کی ایک اور نایاب ترین اور دنیا کی مہنگی ترین پینٹنگ سعودی شہزادی محمد بن سلمان نے اپنی قیمتی کشتی میں آویزاں کرلی۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی جانب سے جاری رپورٹس کے مطابق لیونارڈو ڈاونچی کی ایک اور نایاب ترین پینٹنگ ” سلواٹور مونڈی ” کو دنیا کی سب سے مہنگی ترین پینٹنگ کا درجہ دیا گیا ہے۔

اس سے قبل کسی کو یہ معلوم نہ تھا کہ نیویارک کے نیلام گھر میں 500 سال پرانی تصویر “سلواتور مونڈی” کو ٹیلی فون پر خریدنے والا نامعلوم شخص کون تھا؟، اس وقت اس نامعلوم شخص نے اس پینٹنگ کو 45 کروڑ امریکی ڈالرز میں خریدا، جو پاکستانی کرنسی میں 45 ارب سے زائد کی رقم بنتی ہے۔

نیلام ہاوس میں نیلامی کے بعد کسی کو یہ پتا نہ چل سکا کہ یہ پینٹنگ خریدنے کے بعد کہاں گئی؟۔ اس 26 انچ اونچی پینٹنگ کی بولی 10 کروڑ ڈالر سے شروع ہوئی، جو 40 کروڑ ڈالر تک جا پہنچی تھی۔

اس پینٹںگ کی نیلامی کے دوران اس وقت دلچسپ صورت حال دیکھنے میں آئی جب پینٹنگ کی بولی 30 کروڑ تک پہنچی، تو آکشن ہاؤس تالیوں کی آوازوں سے گونج اٹھا، تاہم ’سلواٹور مونڈی‘ کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا۔

 

نیلامی کے آخری 20 منٹ کے دوران پینٹنگ کی بولی 40 کروڑ ڈالر لگائی گئی، اور پھر اچانک ایک ایسی فون کال موصول ہوئی جس نے اس کی بولی کو 45 پر خریدنے کا اعلان کیا۔

اس بات کا انکشاف برطانیہ سے تعلق رکھنے والے آرٹ ڈیلر کینی کی جانب سے اپنی ویب سائٹ پر کیا گیا۔ آرٹ نیوز کے نام سے بنی اس ویب سائٹ پر کینی کا کہنا تھا کہ اس پہلی کا جواب مل گیا ہے کہ دنیا کی مہنگی ترین پینٹنگ سلواٹور مونڈی کہیں اور نہیں بلکہ سعودی عرب کے طاقت ور ترین شہزادے محمد بن سلمان کی وسیع و عریض کشتی میں آویزاں ہیں۔

اس پینٹنگ سے متعلق بھی لوگوں میں مختلف رائے پائی جاتی ہے، کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ پینٹنگ اصلی نہیں بلکہ جعلی ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ پینٹنگ خود لیونارڈو نے نہیں بلکہ ان کے ورکشاپ میں بنائی گئی۔ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ محمد بن سلمان نے 45 کروڑ امریکی ڈالر ایک جعلی پینٹںگ کو خریدنے میں ضائع کردیئے۔


وال اسٹریٹ جنرل کی جانب سے پہلی بار اس بات کا انکشاف کیا گیا تھا کہ یہ پینٹنگ سعودی شہزادے بندر بن عبداللہ نے خریدی ہے، تاہم بہت کم لوگوں کو یہ بات معلوم تھی کہ یہ بند بن عبداللہ سعودی علی عہد کے قریب ترین دوست ہیں، تاہم ریاض حکومت کی جانب سے کبھی اس بات کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔

کینی نے مزید انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ پینٹنگ کو نیلامی کی رات ہی ایم بی ایس کے ذاتی طیارے میں کشتی کی جانب روانہ کردیا گیا تھا۔ کینی کا مزید کہنا تھا کہ یہ پینٹنگ فی الحال سعودی شہزادے کی کشتی کی زینت بنی رہے گی، جب تک سعودی عرب نئی سیاحتی اور کلچرل مقام ال اولا گورنوریٹ کو مکمل فعال نہ کردے۔

واضح رہے کہ یہ دنیا کی واحد پینٹنگ ہے جو اتنی بڑی رقم میں فروخت ہوئی، اس سے قبل ستمبر 2015 میں ڈچ امریکن مصور ولیم ڈی کوننگ کی ایک پینٹنگ 30 کروڑ ڈالر میں فروخت ہوئی تھی۔ مئی 2015 میں مصور پکاسو کی (ویمن آف الجزائر) بھی 17 کروڑ ڈالر سے زائد میں فروخت ہوئی تھی۔ ایک عام تاثر یہ بھی ہے کہ لیونارڈو ڈاونچی کی یہ نایاب تصویر ان 20 پینٹنگز میں سے ایک ہے جو انہوں نے سن 1500 اور 1505 کے درمیان بنائی تھیں۔

پینٹنگ کی پراسراریت

کچھ ماہرین اس کے لیے تصویر میں ہاتھ میں موجود گولے کا ذکر کرتے ہیں جو کپڑے سے ڈھکا ہوا نہیں اور ان کے خیال میں لیونارڈو ڈاونچی جیسا مصور اس طرح کی فلیٹ امیج پینٹ نہیں کرسکتا مگر کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دانستہ طور پر کیا گیا تاکہ لوگ پینٹنگ میں چہرے پر ہی توجہ دیں۔اس پینٹنگ کے بارے میں کہا جا تا ہے کہ یہ ایک وقت میں سوئٹزرلینڈ کے انتہائی سیکیورٹی والے مقام پر محفوظ کی گئی تھی۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
 
 
 
 
 
 
 
مقبول خبریں