ٹیسٹ ڈرائیو کے دوران چور کروڑوں کی کلاسک فراری لے اڑا

May 16, 2019

بعض اوقات کچھ کاموں کا انجام واضح ہوتا ہے لیکن پھر بھی انسان انہیں کرڈالتا ہے، جرمنی میں ایک شخص یہ جاننے کے باوجود کہ کچھ حاصل نہیں ہونا، کروڑوں روپےمالیت کی فراری لیکر فرار ہوگیا۔

برطانوی نشریاتی ادارے میں شائع رپورٹ کے مطابق گاڑیوں کا یہ کلیکٹر 2 ملین یوروز (پاکستانی روپوں میں 3 کروڑ 25 لاکھ سے زائد ) مالیت کی فراری ٹیسٹ ڈرائیو کے دوران لے اڑا۔

واقعہ جرمنی کے شہر ڈوسلڈورف میں پیش آیا جہاں گاڑی کے ڈیلر نے اس کی فروخت کا اشتہاردیا تھا۔ پولیس کے مطابق 1985 ماڈل کی فراری 288 جی ٹی او خریدنے میں دلچسپی ظاہر کرنے والا مبینہ چور ٹیکسی کے ذریعے آیا تھا جہاں ڈیلر کے ساتھ کچھ دیر بعد وہ ٹیسٹ ڈرائیو کیلئے نکلے۔

اس دوران جب ڈیلر نے ڈرائیونگ سیٹ سے اتر کر اسٹیئرنگ نقلی گاہک کے حوالے کیا تواس نے گاڑی بھگا دی۔

پولیس کے مطابق یہ تاریخی گاڑی 43 ہزار کلومیٹرزچل چکی تھی۔ گاڑی کے سابق مالک شمالی آئرلینڈ کے فارمولا ون ڈرائیور ایڈی اروین تھے جنھوں نے اس میں 1996 سے 1999 تک فراری ٹیم کے لیے ریسنگ کی۔

عام طور پر ایسی گاڑیوں کی قیمت 15 سے 20 لاکھ پاؤنڈ قیمت ہوتی ہے جنہیں اکثر نیلام کیا جاتا ہے۔ فراری 288 جی ٹی او کے صرف 272یونٹ بنائے گئے تھے۔

گاڑی انتہائی شوخ لال رنگ ہونے کی وجہ سے توجہ کا مرکز تھی، اسی لیے پولیس کی جانب سے عوامی سطح پر لوگوں سے گاڑی کی تلاش کی اپیل کے تھوڑی ہی دیر بعد ہی یہ شہر کے مضافاتی علاقے میں ایک گیراج سے مل گئی۔

گاڑی کا مبینہ چور اب تک پکڑا نہیں جا سکا تاہم پولیس نے چور کی تصویرجاری کی ۔

ڈیلرکے مطابق گاڑی بلیک مارکیٹ میں بھی فروخت نہیں جا سکتی تھی کیونکہ خریدنے والے کو فوراً پتہ چل جاتا کہ یہ گاڑی چوری کی گئی ہے۔ نقلی گاہک کئی ہفتوں تک ای میل اور فون کے ذریعے ڈیلر سےرابطے میں رہا۔