Sunday, September 20, 2020  | 1 Safar, 1442
ہوم   > Latest

دنیا کی بلند ترین چوٹی ماونٹ ایورسٹ پر ٹوائلٹ بنانے کا اعلان

SAMAA | - Posted: Apr 12, 2019 | Last Updated: 1 year ago
SAMAA |
Posted: Apr 12, 2019 | Last Updated: 1 year ago

دنیا کی بلند ترین چوٹی ماونٹ ایورسٹ پر چین کی جانب سے ٹوائلٹ نصب کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

 سلسلہ کوہ ہمالیہ میں نیپال اور چین کے درمیان واقعہ ماونٹ ایورسٹ دنیا کی سب سے اونچی چوٹی ہے۔ اس چوٹی کی بلندی 8848 میٹر یا 29028 فٹ ہے۔

یہ نہ صرف دنیا کی اونچی ترین چوٹی ہے، بلکہ دنیا کی اونچی اور بلند ترین کچرا کنڈی بھی تصور کی جاتی ہے اور اس کی وجہ یہاں آنے والے لوگوں کی جانب سے پھیلائی جانے والی گندگی ہے، تاہم یہاں آنے والے لوگوں کی رفع حاجت کے باعث پھیلنے والی گندگی کو روکنے کیلئے چین نے یہاں ٹوائلٹ نصب کرنے کا اعلان کیا ہے۔

تقریبا 7028 میٹر کی بلندی پر چینی ماہرین کی جانب سے ٹوائلٹ نصب کرنے کی تیاریاں شروع کردی گئی ہیں۔ پہاڑوں کی حفاظت اور صفائی کیلئے سرگرم تنظیم کا کہنا ہے کہ حکومت اور اداروں کی جانب سے کوہ پیماوں کیلئے لاکھوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں، تاہم اس علاقے کی صفائی اور پہاڑوں کیلئے وہ معیار اور خیال نہیں رکھا جاتا، تو اس کا حق ہے۔

سالوں سے یہاں آنے والے لوگوں نے اس صاف ستھرے اور خوبصورت ماحول کو آلودہ بنا دیا ہے، یہ ہی وجہ ہے کہ دنیا کے اس بلند ترین مقام کو مزید گندگی سے بچانے کیلئے چینی حکومت نے کوہ پیماوں کیلئے ٹوائلٹ نصب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق رواں سال بہار کے موسم میں چینی کمپنی تبت کی جانب شمالی ڈھلان پر ٹوائلٹ نصب کرے گی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ان ٹوائلٹس میں لوگوں کو پلاسٹک بیگز بھی فراہم کیے جائیں گے تاکہ ٹوائلٹس کی گندگی کو تھیلیوں میں بھر کر پہاڑ سے نیچے لایا جا سکے اور جگہ کو گندا ہونے سے بچایا جا سکے، تاہم کی عارضی ٹوائلٹس کو سیزن کے اختتام پر بند کردیا جائے گا۔

کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ ایسی ہی سہولت چوٹی کے بیس کیمپ پر5 ہزار 200 میٹر کی سطح پر بھی مہیا کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بیس کیمپ میں قائم ٹوائلٹس کی ہر روز صفائی ہوتی ہے اور یہاں کی گندگی کھیتی باڑی کے کام آتی ہے۔

دوسری جانب نیپالی انجینیرز کی جانب سے بھی چوٹی کی جنوبی طرف بائیو گیس پلانٹ قائم کرنے کے منصوبے پر بھی کام کیا جا رہا ہے، تاکہ سخت سردی سے بچنے کیلئے لوگوں کو ایندھن یا گیس کی فراہمی ممکن بنائی جاسکے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ نذیر صابر پہلے پاکستانی ہیں، جنہوں نے اس چوٹی کو سر کیا۔ ماؤنٹ ایورسٹ کا نیپالی نام ساگرماتھا ہے۔

ماؤنٹ ایورسٹ صرف دنیا کی بلند ترین چوٹی ہی نہیں بلکہ یہ نیپال اور چین کے درمیان سرحد بھی ہے۔گذشتہ کئی عشروں سے دونوں ممالک کی حکومتیں کوہ پیماؤں میں مقبول اس عظیم چوٹی پر جانے والے مہم جوؤں کو اپنے اپنے ملکی قوانین کے مطابق اجازت نامے یا پرمٹ دے رہی ہیں۔ لیکن چونکہ دونوں ملکوں کے قوانین ایک جیسے نہیں اس لیے یہ کام دونوں کے لیے دردِ سر رہا ہے۔

ایک نئے منصوبے کے تحت چین نے اعلان کیا ہے کہ وہ 29 ہزار 29 فٹ بلند اس چوٹی پر پہنچنے کے لیے لاکھوں ڈالر کے خرچ سے ایک نیا راستہ بنائے گا۔ چین کے بقول مجوزہ نئے راستے پر حفاظتی انتظامات بھی نیپال کی نسبت بہت بہتر ہوں گے اور ان پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے گا۔

اس کے علاوہ چین نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ وہ ہر سال کوہ پیمائی کا موسم شروع ہونے سے پہلے تبت میں واقع ایورسٹ کی شمالی چوٹی کو جانے والے راستے پر لگے ہوئے رسّوں کی بھی مرمت کرے گا تاکہ بین الاقوامی حفاظتی معیار کو برقرار رکھا جا سکے۔ یاد رہے کہ نیپال گذشتہ عرصے میں اس قسم کے حفاظتی انتظامات کو برقرار رکھنے میں ناکام رہا ہے۔

چین کا کہنا ہے کہ سال 2019 میں کوہ پیمائی کا موسم شروع ہونے سے پہلے تبت میں ماؤنٹ ایورسٹ کو جانے والا ایک نیا راستہ، پھنس جانے والے کوہ پیماؤں کے لیے ہیلی کاپٹر سروس اور چین کے نئے قوائد و ضوابط، ہر چیز مکمل تیار ہوگی۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube