خیرپور کا شاہکار اور ماضی کی یادیں

February 10, 2019

خیرپور رس بھری اور مزیدار کھجوروں کی پیداوار کے حوالے سے شہرت رکھتا ہے مگر وہ تاریخی اعتبار سے بھی بہت اہمیت کا حامل ہے۔تالپور حکمرانوں نے خیرپور کو مرکز بنا کر سندھ پر طویل عرصے تک حکمرانی کی ۔ خیرپور کی صدیوں پرانی تہذیب کشش رکھتی ہے۔

خیرپور سندھ میں کھجور کے باغات کا منظر ذہن میں ابھرتا ہے مگر بہت کم ہی لوگ اسے تاریخ کے حوالے سے جانتے ہیں۔ مغل طرز تعمیر کا ایک شاہکار یہاں آنے والوں کوآج بھی ماضی میں لے جاتا ہے۔ کوٹ ڈیجی قلعے میں جوداخل ہوجاتا ہے وہ کھوجاتا ہے۔ خیرپور سے  20 کلومیٹرآبادی کے بیچوں بیچ یہ تاریخی ورثہ موجود ہے جہاں کی  تنگ گلیوں کشادہ دلی سے یہاں آنے والوں کا خیرمقدم کرتی ہیں۔

ایک اعشاریہ آٹھ کلومیٹر رقبے پر پھیلا کوٹ ڈیجی قلعہ تالپور حکمرانوں کامرکز تھا۔ کلہوڑو کوشکست دینے کے بعد تالپوروں نے سندھ کا اقتدار سنبھالا تھا۔ مضبوط فصیلیں ، بڑے بڑے برج جنگوں کی پرانی کہانیاں سناتے ہیں۔ اس کے دروازے  250 سال بعد بھی اصل حالت میں موجود ہیں۔

قدیم طرز کی زرد اینٹیں اور چونے کے پتھرکا یہ شاہکار1785 سے1795 کے دس سالہ عرصہ میں تعمیر کیا گیا۔ ایک سالار کی نگرانی میں 500 سپاہیوں کا دستہ 100 توپوں کے ساتھ یہاں 1843ء تک مامور رہا۔

قلعے میں داخل ہوں تو ایک رستہ اوپر کی طرف جاتا ہےجو کافی پیچیدہ ہے۔ اور یہ دشمن کیلئے بھول بھلیوں سے کم نہ تھا۔ 1972تک یہاں توپیں اورگولے نظر آتے تھے اور  پھر اچانک غائب کردیے گئے۔

قلعے کی اونچائی 80فٹ سے زیادہ ہے جبکہ بڑے برج کی بلندی 50 فٹ ہے جس کوسرکرنا آسان کام نہ تھا۔ برجوں کے نام ملک میدان، صفن صفا،مریم، داد شہید اورجیسلمپیر ہیں۔ مرکزی حصے میں حکمرانوں کا ایک شاندارتخت بنا ہوا ہے۔

قلعے میں قیدخانے،اسٹور روم ، اناج گودام اور بتی گودام کےعلاوہ امرا کیلئے میر حرم کے نام سے ایک شاندار مکان ہے۔ وسیع کمروں کی دیواروں پر نقش و نگار ہیں۔