سعودی عرب میں پہلے فرعونی آثار قدیمہ دریافت

January 11, 2019

سعودی عرب کے تیماء صوبے کو ملک کے تاریخی اور آثار قدیمہ کے اعتبار سے انتہائی اہمیت کے حامل مقامات قرار دیا جاتا ہے۔

حال ہی میں مقام کی اہمیت اس وقت اور بھی دو چند ہوگئی جب ماہرین آثار قدیمہ نے اس علاقے میں مصری فراعنہ کے آثار قدیمہ دریافت کیے۔

العربیہ ٹی وی کے مطابق ماہرین آثار قدیمہ کو تیماء میں کھدائی کے دوران حیرو گلیفی کا ایک نسخہ ملا ہے جس پر فرعونی بادشاہ رمسیس سوم کی مہر ثبت ہے۔سعودی عرب میں ماہرین آثار قدیمہ کو الزیدانیہ کے مقام سے کھدائی کے دوران ایک پتھر ملا جس پر حیر گلیفی نقوش میں رمسیس سوم کی مہر بھی لگی ہے، یہ فرعونی بادشاہ بارہ سو قبل مسیح گزرا ہے۔

تیماء میں آثاریات کے ڈائریکٹر محمد النجم نے بتایا کہ اس طرح کے نقوش صرف فرعون کے زمانے میں پائے جاتے تھے۔ یہاں سے ایسے نوادرات کا ملنا اس بات کا ثبوت ہے کہ فرعونی بادشاہ اس علاقے میں بھی آیا ہوگا۔