بھارت میں بوڑھی گائیں اور بوڑھے افراد ایک ساتھ رہیں گے

January 11, 2019

بھارت میں بے گھر بوڑھی گائیوں اور بوڑھے افراد کیلئے مشترکا شیلٹر ہوم بنایا جا رہا ہے۔

امریکی ذرائع ابلاغ سے جاری رپورٹس کے مطابق بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں بڑی عمر کے افراد اور سڑکوں پر آوارہ گھومنے پھرنے والی گائیوں کے لئے خصوصی مشترکا شلٹر ہوم بنایا جا رہا ہے، جہاں دونوں اکھٹے رہیں گے۔

امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق ترقیاتی امور کے وزیر گوپال رائے نے کہا ہے کہ ہم ایک ایسا شیلٹر ہوم بنا رہے ہیں جہاں گھروں سے بے دخل کی جانے والی گائیوں اور ان بوڑھے افراد کو رکھا جائے گا جنہیں لوگ اولڈ ایج ہاؤس میں چھوڑ جاتے ہیں۔ مشترکہ شیلٹر ہوم دہلی کے جنوب مشرقی حصے میں قائم کیا جا رہا ہے۔

مقامی میڈیا کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ جب گائے دودھ دینے کی عمر سے گزر جاتی ہے، تو لوگ اسے اپنے وسائل پر ایک بھاری بوجھ سمجھنا شروع کر دیتے ہیں اور انہیں یا تو گائیوں کے شلٹر ہوم میں بھیج دیتے ہیں یا گھر سے نکال کر سڑکوں پر آوارہ پھرنے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں، جب کہ اب کچھ ایسا ہی سلوک انسانوں کے ساتھ ہونا بھی شروع ہو گیا ہے، جن بوڑھوں کے پاس جمع پونجی یا جائیداد نہیں ہوتی اور وہ کام کرنے کے بھی قابل نہیں رہتے تو بہت سے خاندان انہیں اپنے پاس نہیں رکھتے اور ’اولڈ ایج ہوم‘ پہنچا دیتے ہیں۔

فرانسیسی نیوز ایجنسی کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت میں بوڑھے افراد کو اولڈ ایج ہاؤس بھیجنے کا رواج بڑھتا جا رہا ہے اور اب کھاتے پیتے گھرانے بھی اپنے بزرگوں کو اولڈ ایج ہومز بھیج رہے ہیں۔ گائیوں کے علاوہ بھارت کے گلی کوچوں اور شاہراہوں پر آوارہ اور آزاد پھرنے والے بندر اور کتے بھی ایک بڑا مسئلہ ہیں، جن کی وجہ سے ٹریفک کے حادثات ہوتے ہیں اور آوارہ کتوں کے کاٹے سے بھارت میں ہر سال درجنوں افراد ہلاک ہو جاتے ہیں۔