لڑکی نے شادی کے منڈپ سے دلہااغواکرلیا

May 18, 2017

dulha

عین شادی کے وقت اگر دلہا اغوا ہو جائے اوریہ سب کرائے کے غنڈوں کے بجائے کوئی لڑکی کرے تو فلم دیکھتے ہوئے شائقین کو کچھ بھی عجیب نہیں لگے گا کیونکہ ایسا ہو سکتا ہے۔ مگرحقیقی زندگی میں بھی ایسا ہی سین دیکھنے کو ملے تو دانتوں میں انگلیاں دبا لینے والوں کی کمی نہیں ہو گی۔

ریاست اترپردیش کے ہمیر پور ضلع میں یہ فلمی کہانی اس وقت سچ ثابت ہوئی جب عین شادی کی تقریب کے وقت لڑکی  دولہا کی کنپٹی پرپستول رکھ کراسے اغوا کر کے لے گئی۔ نمیر پور کے مودها نامی قصبے میں واقع پدمنابھن اسکول میں جاری شادی کی یہ تقریب بس ختم ہونے والی تھی۔مہمان کھانا کھاکر نکل چکے تھے اوردونوں خاندانوں کےقریبی عزیزواقارب ہی شادی کے منڈپ میں موجود تھے کہ ڈرامائی موڑ آیا۔

ایک فور وہیل گاڑی پہنچی جس میں سے ایک خاتون ہاتھ میں پستول لہراتی ہوئی باہرنکلیں، پستول دولہے کی کنپٹی پر رکھی اور اسے ساتھ چلنے کو کہا۔خاتون کے ساتھ دو مرد اور بھی تھے۔ دولہا کنپٹی پر پستول دیکھ کربےبس ہوا اور ساتھ چل پڑا، ان کے بیٹھتے ہی گاڑی فراٹے سے وہاں سے نکل گئی اور پیچھے رہ جانے والے لوگ حیران پریشان رہ گئے۔

پولیس اور انتظامیہ تفتیش کر رہے ہیں کہ آخر یہ عجیب حرکت کرنے والی خاتون تھیں کون اور ایسا کیوں کیا؟ پولیس کے مطابق اشوک یادو نامی دلہا كمپاؤنڈرہے جس کی شادی مودها میں رہنے والی لڑکی بھارتی یادو سے ہو رہی تھی۔

اشوک کے والد کے مطابق اشوک کی پہلی بیوی دو سال قبل چل بسی تھی اور اسکی یہ دوسری شادی ہو رہی تھی۔ دوسری طرف دلہن کے والد کا کہنا تھا کہ  شادی میں ہمارا کافی پیسہ خرچہ ہوا، ہمیں انصاف چاہیے۔

پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ممکن ہے اغوا کار خاتون اور اشوک کے درمیان محبت کا کوئی تعلق ہو۔ سماء

Email This Post
 
 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.