Wednesday, January 19, 2022  | 15 Jamadilakhir, 1443

کراچی: ہاتھ سے بنے جوتے برینڈڈ جوتوں سے کم نہیں

SAMAA | - Posted: Nov 9, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Nov 9, 2021 | Last Updated: 2 months ago

ویسے تو پاکستان میں ہاتھ سے چمڑے کے جوتے بنانے کا فن ناپید ہوتا جا رہا ہے، لیکن مصنوعی چمڑے، ریگزین سے بنے چین کے جوتے بازار میں آنے کی وجہ سے یہ فن سیکھنے کا رجحان ختم ہونے کے باوجود کراچی کے علاقے انچولی میں سن 1987 سے قائم کارخانے میں جدید طرز کی مشینوں کا استعمال کیے بغیر ہاتھوں کے ذریعے چمڑے کی مختلف اشیاء جن میں نت نئے ڈیزائن کے جوتے ، والٹ ، بیلٹ ، چشمے کے پاوچ اب بھی بنائے جاتے ہیں۔

کارخانے کے مالک سجاد حسین کے مطابق اس فن کے معدوم ہونے کی بنیادی وجہ کاری گروں کی کمی ہے۔ ان کے پاس 50 سے 90 سال تک کی عمر کے باہنر کاریگر موجود ہیں، جن کی بنائی ہوئی چمڑے کی اشیاء، ڈیزائن اور ان کی پائیداری اپنی مثال آپ ہیں۔

ان کی کوشش ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں عام آدمی کیلئے معیاری جوتے مناسب قیمت پر فراہم کیے جا سکیں، جو کہ شہر کی بڑی دکانوں پر مشینوں کی مدد سے تیار ہونے والے جوتوں کے مقابلے میں آدھی قیمت پر دستیاب ہونگے۔ کارخانے کے مالک کا یہ بھی کہنا ہے کہ چمڑے کے جوتے بیچنے والی بڑی براینڈڈ کمپنیاں اور بیرون ملک سے آنے والے بھی من پسند ڈیزائن اور سائز کے مطابق آرڈر پر ان سے جوتے بنواتے ہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube