Monday, January 24, 2022  | 20 Jamadilakhir, 1443

ڈھول کی تھاپ اور نوٹوں کی بارش میں جنازوں کے جلوس

SAMAA | and - Posted: Feb 10, 2021 | Last Updated: 12 months ago
Posted: Feb 10, 2021 | Last Updated: 12 months ago

پاکستان میں کچھ افراد ایسے بھی ہیں جن کے جنازوں کو ڈھول کی تھاپ پر تدفین کیلئے لے جایا جاتا ہے اور ان کا عقیدہ ہے کہ اپنے مردے کو سفر آخرت پر ہنسی خوشی رخصت کرنا چاہئے۔

ایسی انوکھی بات پنجاب کے ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ  کے شہر گوجرہ سے ضلع گجرات کے درمیان بسے کچھ خاندانوں میں دیکھی جاتی ہے جو ڈیڑھ صدی قبل کے بزرگ حضرت دتے شاہ پالکی والی سرکار رحمۃ اللہ تعالیٰ کے مرید ہیں اور ’’دتے شاہیے‘‘ کہلاتے ہیں۔

ان حضرات کے ہاں جنازے تدفین کیلئے بينڈ باجے کے ساتھ لے جائے جاتے ہیں اور اس دوران کرنسی نوٹ بھی نچھاور کئے جاتے ہیں۔ گو اب یہ لوگ اس بات کو سرعام تسلیم نہیں کرتے لیکن کہا جاتا ہے کہ ان کے جنازوں پر یہ سب کچھ ہوتا ہے تاہم یہ امکان ضرور ہے کہ حضرت کے تمام مریدین اب ایسا نہ کرتے ہوں۔

حال ہی میں ان مریدین میں سے ایک بزرگ کی تدفین کے موقع پر یہی ڈھول تاشے بجتے دکھائی دیے تاہم سماء نے جب ان کے صاحبزادے سے پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ اس چیز کو درست نہیں سمجھتے لیکن کچھ لوگوں نے اپنے طور پر ہی ڈھول بجوا دیئے اور منع کرنے کے باوجود نہ مانے۔

تاریخ دان شاہد گلزار نے بتایا کہ بزرگ کا اصل نام اللہ دتہ جو اپنے پیرو مرشد کے حکم پر پیدل ہی سیہون چل پڑے تھے اور وہاں سے کچھ دنوں بعد جب وہ واپس نکلے تو دو ڈھول والے ساتھ لیکر نکلے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس کے بعد یہ روایت بن گئی اور حضرت کے مرید بھی سفر میں ڈھول کا استعمال کرنے لگے۔ بعد ازاں یہ عمل سفر آخرت یعنی جنازے کے جلوسوں میں بھی کیا جانے لگا۔

شاہد گلزار نے یہ بھی بتایا کہ  ڈھول کا مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ بزرگ شخصیت دنیا میں اپنا کردار ادا کرکے اپنے مالک حقیقی کے پاس لوٹ رہی ہے اس لئے خوشی میں ڈھول بجایا جاتا ہے تاہم خواتین کے جنازوں پر ایسا نہیں کیا جاتا۔

ایک ادیب ڈاکٹر اظہر چوہدری کا کہنا تھا کہ ’’دتے شاہیے‘‘ سفر کے دوران ڈھول بجانے کی ایک وجہ یہ بھی بیان کرتے کہ چوں کہ ہم گناہ گار لوگ ہیں اس لئے ہم ڈھول بجاکر لوگوں کو خبردار کردیتے ہیں کہ ہم گزر رہے ہیں جسے ہمارے سائے سے دور رہنا ہے وہ احتیاط کرے۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ یہ روایت اور اس سے متعلق باتیں کہیں تحریری شکل میں موجود نہیں بلکہ سینہ بہ سینہ لوگوں تک پہنچی ہیں۔

سماء نے جب بینڈ باجے والوں سے دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ عام شادی و خوشی کی تقاریب میں انہیں 4 تا 7 ہزار روپے مل جاتے ہیں تاہم ایسے جنازوں کیلئے انہیں زیادہ پیسے دیئے جاتے ہیں جو 15 ہزار روپے تک بھی ہوتے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ انہیں جنازوں پر ڈھول بجانا اچھا تو نہیں لگتا لیکن اب چونکہ ان کا روزگار اس سے وابستہ ہے لہٰذا وہ ایسے جنازوں میں جانے سے انکار نہیں کرتے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube