Friday, January 21, 2022  | 17 Jamadilakhir, 1443

گوادر دھرنا اور ابتر گورننس

SAMAA | - Posted: Dec 6, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Dec 6, 2021 | Last Updated: 2 months ago

بلوچستان کے لا یخل مسائل اور اقتدار کی چار دیواری کے اندر مختلف النوع عنوانات کے ساتھ ضروریات کی رسہ کشی علیٰ حالہ موجود و جاری ہے۔ درحقیقت یہ عنوانات سیاسی جماعتوں و لوگوں کے نزدیک سیاسی و اصولی بیانیہ ٹھہرا ہے۔ اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے کیلئے یہاں تک کہ عبدالقدوس بزنجو یا ان جیسے دوسرے جو صوبے کو لاحق مختلف عوارض کے اسباب میں سے تصور کئے جاتے ہیں نے بھی اقتدار ہاتھ میں لینے کیلئے صوبے کے مسائل یا گورننس کا حیلہ بیان کیا۔ یقیناً محض فریب بیانی تھی کہ اب صوبہ ایک اور آزمائش سے دو چار ہے۔

مزے کی بات تو یہ ہے کہ جن کے سہارے حکومت ملی ہے، اپنی نجی محلفوں میں انہی کی برائیاں کی جاتی ہیں، حزب اختلاف کے افراد ملک سکندر ایڈووکیٹ جیسے صاف ستھرے لوگ اپنے کئے پر شرمندہ ہیں، پر کرے کیا کہ سیاسی و جماعتی مجبوریوں نے حصار باندھ رکھا ہے، وگرنہ دل کی بات زبان پر ضرور لاتے، حکومت کی کارکردگی بس نوٹسز لینے کے متواتر بیانات پر مشتمل ہے۔

محض جزوی و معمول کے سرکاری امور کو حکومت کی کارکردگی کہہ کر اخبارات کو مہنگے اشتہارات جاری کئے جاتے ہیں۔ سرکاری لکھاریوں سے کامیابیوں اور تعریفوں کے پل باندھنے کی سعی ہورہی ہے۔ حکومتیں کب نمود نمائش اور سطحی اقدامات سے چلتی ہیں، شہر میں اگر صفائی کا نظام مفلوج ہے تو اس کیلئے استفسار و سوال وزیر بلدیات سے ہونا چاہئے جو عضو معطل ہیں۔ ایڈمنسٹریٹر کی گوشمالی ہو، بلکہ میٹروپولیٹن کے اندر تطہیر کرائی جائے، جس نے فی الواقع شہر کو تباہ کرنے میں مزید کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی ہے۔

سچی بات یہ ہے کہ مناصب سے توقیر کا اظہار نہیں ہوتا، بعض ملنے والے محکموں کے حوالے سے تحفظات رکھتے ہیں اور بہت سوں کو گویا خزانے کی کلید تھمادی دی گئی ہیں، حال یہ ہے کہ حکومتی مؤقف بھی واضح نہیں۔

جامعہ بلوچستان کے اندر دو طالبعلم سہیل بلوچ اور فصیح بلوچ یکم نومبر 2021ء کو لاپتہ ہوئے، اگلے روز جامعہ کے طلباء نے احتجاج شروع کیا، درس و تدریس کا عمل روک دیا، پھر یہ سلسلہ دیگر یونیورسٹیوں اور کالجوں تک پھیل گیا۔ طلبہ تنظیموں اور سیاسی لوگوں نے الزام قانون نافذ کرنے والوں پر ٹھہرایا ہے۔ چنانچہ مواصلات و تعمیرات کے وزیر سردار عبدالرحمان کھیتران جامعہ بلوچستان مذاکرا ت کیلئے پہنچ گئے۔ موصوف نے طلباء کے ہمراہ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کی۔ فرمایا کہ ”تعلیمی اداروں میں تعلیم کھلے ماحول میں ملنی چاہئے، طلباء میں صلاحیتیں ہیں مگر ان کی صلاحیتوں کو مختلف حیلے بہانوں سے روک دیا جاتا ہے، پاکستان کے اسٹیک ہولڈرز سے گزارش ہے کہ انہیں کھلے ماحول میں تعلیم کے مواقع دیں، ملک کے اداروں سے درخواست ہے کہ بلوچستان کے طلباء کا گلہ نہ دبایا جائے‘‘۔ یعنی بادی النظر میں کھیتران کی گفتگو نے الزامات پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے۔

ساحلی شہر گوادر میں 15 نومبر سے ’گوادر کو حق دو تحریک‘ کے نام سے دھرنا ہورہا ہے، خواتین اس بڑی تعداد میں نکلی ہیں کہ اس کی نظیر بلوچستان کی سیاسی تاریخ میں نہیں ملتی، اس تحریک کی قیادت عام لوگ کررہے ہیں۔

جماعت اسلامی بلوچستان کے سیکریٹری جنرل مولانا ہدایت الرحمان بلوچ پہلی رو میں کھڑے ہیں، وہاں کے عوام ان کی قیادت میں اکٹھے ہیں، مولانا ہدایت الرحمان ایک غریب ماہی خاندان کے فرد ہیں، تعجب ہے کہ عبدالقدوس بزنجو سرکار نے ان کا نام فورتھ شیڈول میں ڈال دیا ہے، اس مکروہ فعل میں بلوچستان نیشنل پارٹی کا رکن اسمبلی حمل کلمتی اور صوبائی وزیر ظہور بلیدی کی رضا و منشا بیان کی جاتی ہے۔ دونوں بلوچستان اسمبلی میں گوادر اور مکران سے منتخب نمائندے ہیں، گویا دوسروں کی طرح انہیں بھی عوامی احتجاج ایک آنکھ نہیں بھایا ہے، ٹرالنگ مافیا بھی یقیناً پشت پر ہے۔

جام کمال کابینہ کے اکبر آسکانی مافیا کے شریک دھندہ رہے ہیں، حمل کلمتی کا بھی ٹرالنگ مافیا سے یارانہ رہا ہے، جام کمال نے انہیں روکا تو ناراض ہوکر قدوس بزنجو کے حلقہ میں شامل ہوئے۔ افسر شاہی اور مقامی انتظامی عہدیداروں کے آگے بھی جام کمال کھڑے ہوئے، حال ہی میں جام کمال اس بارے میں گفتگو بھی کرچکے ہیں۔ عبدالقدوس بزنجو ایسا کچھ بھی روکنے کے حامی نہیں ہیں، ان کا روزگار حیات اسی سے جڑا ہے اور ہوتے تو اپنی کابینہ میں پھر اکبر آسکانی کو فشریز کا محکمہ نہ دیتے۔

بات ذہن میں رہے کہ سندھ کے سمندر سے 3 ہزار ٹرالر شکار کیلئے بلوچستان کی حدود میں آتے ہیں، ہر ٹرالر میں 9 ٹن مچھلی اٹھانے کی گنجائش ہوتی ہے، فی ٹرالر 2 لاکھ روپے لئے جاتے ہیں، جو ماہانہ 60 کروڑ روپے بنتے ہیں۔ یہ خطیر رقم اکبر آسکانی، محکمہ ماہی گیری، اوپر نیچے وردی بے وردی سب میں تقسیم ہوتی ہے جبکہ مقامی ماہی گیر کیلئے متعین کردہ صوبائی حدود میں بھی طرح طرح کی مشکلات پیدا کی جاچکی ہیں۔

گوادر کو حق دو تحریک کے مطالبات میں ٹرالنگ یعنی سندھ سے آنیوالی بڑی کشتیوں اور ممنوعہ جالوں کے ذریعے بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں غیرقانونی ماہی گیری کی روک تھام، پاک ایران سرحد پر مقامی سطح پر ہونے والی تجارت میں حائل رکاٹوں کو دور کرکے سرحد پر ٹوکن سسٹم اور غیرضروری چیک پوسٹوں کا خاتمہ شامل ہیں۔

احتجاج کرنے والوں کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ مقامی ماہی گیروں کو سمندر تک آزادانہ رسائی دے کر ان کا روزگار بحال کیا جائے، کوسٹ گارڈ اور ایف سی کی طرف سے تنگ کرنے، کشتیوں اور گاڑیوں کو پکڑنے کا سلسلہ ختم کیا جائے، شراب خانوں اور منشیات کے اڈے بند کئے جائے۔
سوال یہ ہے کہ ان مطالبات میں ایسا کونسا باغیانہ نکتہ شامل ہے کہ جس کی پاداش میں ایک محب وطن شہری اور سیاسی رہنماء کا نام فورتھ شیڈول میں ڈال دیا جائے، حالانکہ خود حکومت ان مطالبات کو درست تسلیم کرچکی ہے۔ اس بابت کچھ اقدامات کئے ہیں مگر مولانا ہدایت الرحمان اور مظاہرین کو مطالبات پر عملدرآمد سے متعلق حکومت پر اعتماد نہیں۔

بات امن کی کی جائے تو جام کمال کی وزارت اعلیٰ کے بعد سیکیورٹی فورسز پر حملوں کے کئی واقعات پیش آئے ہیں، مخبر کے الزام کے تحت شہری، مزدور اور سیاسی کارکن قتل ہوئے ہیں، نیز گورننس تہہ و بالا ہے، وزیراعلیٰ بزنجو ایک نجی ٹی وی کے اینکر کو بتاچکے ہیں کہ انہوں نے وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ یا اپنے حلقہ انتخاب میں جام کمال دور کے کسی سرکاری عامل کا تبادلہ نہیں کیا۔ ان کی اس بات میں صداقت نہیں ہے، حالانکہ 29 اکتوبر کو حلف اٹھانے کے محض 2 گھنٹوں کے اندر اندر سی ایم سیکریٹریٹ میں منظور نظر افراد لانے کے فرمان جاری ہوچکے ہیں، ایسا مختلف سطح اور مقامات میں دوہرایا گیا، اگر اس کی تردید کی جاتی ہے تو جواب میں تفصیل پیش کرنے میں ہرگز کوئی دقت نہیں ہے۔

وزیراعلیٰ ہاﺅس سے کئیوں کے کاروبار پروان چڑھے ہیں، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی تو ویسے بھی ملک کی بڑی تعمیراتی کمپنی کے پیٹی ٹھیکیدار کا خطاب لے چکے ہیں۔ چنانچہ وزیراعلیٰ ہاﺅس میں بھی ایسے دھندے رواٹھہر چکے ہیں، اخبارات و ٹی وی چینل کے وابستگان تک افسران و سرکاری عاملین کو پُرکشش سیٹ اور اضلاع میں تبادلوں کے فائل پیش کرتے ہیں۔ ظاہر ہے یہ سب کچھ کوئی بلا عوض تو نہیں کرتا۔

محکمہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر کے منصب کیلئے پسندیدہ افراد کی سفارشیں ہوئی ہیں۔ چنانچہ سردست فرحت جان احمدزئی کو منصب سے ہٹاکر راستہ سہل بنایا گیا، یہ رہا موجودہ وزیراعلیٰ ہاﺅس کے تقدس اور امور حکومت بارے سنجیدگی کا اجمالی جائزہ۔

درحقیقت گیرائی و گہرائی کی سوچ و طرز عمل مزید نہیں رہی ہے۔ الغرض جام کمال خان چند دن کی رخصت کے بعد کوئٹہ پہنچے ہیں، سیاسی و تنظیمی سرگرمیاں شروع کرچکے ہیں۔ نیز گفتگوﺅں اور ملاقاتوں کا سلسلہ مربوط ہوچکا ہے۔ یقینی طور سیاسی در و بست و تبدل کی نشاندہی ہورہی ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube