Saturday, January 22, 2022  | 18 Jamadilakhir, 1443

مریم نوازکےفیشن سینس سے شرمیلا فاروقی الجھن میں

SAMAA | - Posted: Sep 28, 2021 | Last Updated: 4 months ago
Posted: Sep 28, 2021 | Last Updated: 4 months ago

مریم نواز کی پہچان سیاست کے علاوہ فیشن کا اعلیٰ ذوق بھی ہے، کپڑوں سے لیکرجوتوں اور اسٹائلنگ تک مریم کا فیشن سینس ان کے مخالفین کو بھی بھاتا ہے۔

حال ہی میں سینئرلیگی رہنما پرویزرشید کے لال موزوں کو سراہنے والی پی پی رہنما شرمیلا فاروقی نے اس بار مریم کی ڈریسنگ پر تبصرہ کیا ہے۔

شرمیلا نے ٹوئٹرپرمسلم لیگ ن کی نائب صدر کی تصویر شیئرکی جس میں وہ ہلکے رنگوں کے پھولدار لباس کے ساتھ تقریبا میچنگ شوز پہنے ہوئے ہیں۔

مریم کے فیشن سینس سے متاثر ہونے والی شرمیلا نے اس درجہ مطابقت سے متاثرہوتے ہوئے لکھا ، ‘سمجھ نہیں آرہا کہ پہلے جوتے منتخب کیے یا کپڑے؟ لیکن یہ متاثرکن ہے’۔

مریم کا یہ لباس معروف فیشن ڈیزائنر ثانیہ مسکاتیہ کا ڈیزائن کردہ ہے جو انہوں نے حال ہی میں مسلم لیگ ن ساہیوال ڈویژن کے ضلعی اجلاس میں پہنا تھا۔

سوشل میڈیا پرکافی عرصے بعد ان کی اسی اجلاس میں حمزہ شہباز کے ساتھ خوشگوار موڈ میں لی جانے والی تصویر بھی خاصی وائرل ہوئی تھی۔

اس سے قبل سابق سینیٹر پرویزرشید کے سُرخ موزے بھی توجہ کا مرکز بن گئے تھے جب شرمیلا نے ٹوئٹرپرلیگی رہنما کی ایک تصویرشیئرکی جس میں وہ قمیض شلوارکے ساتھ پشاوری چپل اورسُرخ موزے پہنے ہوئے ہیں۔سابق سینیٹرکی پسند کو سراہنے والی شرمیلا نے کیپشن میں پوچھا ‘ آپ میں سے کتنوں کے پاس ایسے موزوں کی جوڑی ہے؟ ‘۔

شرمیلا کے سوال کے جواب میں دلچسپ تبصروں کا طوفان امڈ آیا جس کی لپیٹ میں اس تصویرمیں لیگی رہنما کے ساتھ بیٹھی مریم نواز کے مہنگے ترین جوتے کا تلوا بھی آگیا اورصارفین نے مریم کے مہنگے جوتوں کو تنقید کا نشانہ بناڈالا۔

لال موزے پرویز رشید پہنیں اور تنقید مریم پر؟

نائب صدر ن لیگ کے جوتے اور کپڑے سوشل میڈیا پر اکثر زیر بحث رہتے ہیں۔ مریم نواز انتہائی مہنگے غیرملکی برانڈز کے جوتوں کا شوق رکھتی ہیں، جبکہ لباس کے انتخاب میں وہ پاکستانی فیشن ڈیزائنرز کو ترجیح دیتی ہیں۔

حال ہی میں مریم نواز نے 25 جولائی کو ہونے والے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے لیے آزاد کشمیر میں جلسے کیے، جن کے دوران جہاں ان کے پہنے گئے ایمبرائڈڈ ملبوسات سوشل میڈیا پر خوب پسند کیے گئے وہیں لاکھوں روپے جوتوں کی قیمت کے حوالے سے تنقید بھی کی گئی۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube