Monday, December 6, 2021  | 30 Rabiulakhir, 1443

دیر:انسداد پولیومہم کی سیکیورٹی پرمامورلیویز اہلکارپرحملہ

SAMAA | and - Posted: Jan 12, 2021 | Last Updated: 11 months ago
Posted: Jan 12, 2021 | Last Updated: 11 months ago

کرک: جائے وقوعہ کا ایک منظر

دیر کے علاقے شیر ینگل میں انسداد پولیو مہم کے دوران اہل علاقہ نے ٹیم پر حملہ کردیا۔ اس دوران سیکیورٹی پر مامور لیوی اہل کار زخمی ہوگیا۔

پولیس کے مطابق ملک کے دیگر حصوں کی طرح دیر میں بھی انسداد پولیو مہم جاری ہے، جس کا آج دوسرا روز ہے۔ منگل 12 جنوری کو انسداد پولیو مہم جب دیر کے علاقے شر ینگل میں پہنچی تو علاقے کے مشتعل افراد نے بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلاوانے سے انکار کیا۔

اسی دوران علاقے کے کچھ افراد مشتعل ہوگئے اور انہوں نے ٹیم کی سیکیورٹی پر مامور لیوی اہلکار کو ڈنڈوں اور پتھروں سے تشدد کا نشانہ بنایا۔ تشدد کے باعث اہل کار کے ہاتھوں پیروں اور چہرے پر شدید زخم آئے۔ جس کے بعد زخمی اہل کار کو طبی امداد کیلئے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق حملے میں ملوث 3 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

صوبے میں کتنے بچوں کو قطرے پلائے جائیں گے؟

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پورے ضلع بھر میں ڈھائی لاکھ سے زائد بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جب کہ صوبے بھر میں انسداد پولیو مہم کے دوران 60 لاکھ بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ مہم کیلئے 25 ہزار پولیو ٹیمیں بھی تشکیل دی گئی ہیں۔ ٹیموں کی سیکیورٹی کیلئے خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں۔ گزشتہ سال 2020 میں پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں 22 پولیو کے کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔

کرک واقعہ

واضح رہے کہ قبل ازیں خیبر پختونخوا کے ضلع کرک میں انسداد پولیو مہم پر حملے کے دوران سیکیورٹی پر مامور اہل کار شہید ہوگیا تھا۔ حملہ آوروں نے کرک کے علاقے شہید تخت نصرتی کی حدود میں ٹیم کو نشانہ بنایا۔ حملہ آور موٹر سائیکل پر سوار تھے، جو فائرنگ کے بعد باآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ پولیس کے مطابق شہید اہل کار امبیری کلہ میں تعینات تھا۔ لاش ضروری کارروائی کیلئے اسپتال منتقل کردی گئی ہے، جب کہ علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش کا عمل بھی جاری ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور موٹر سائیکل پر سوار تھے، جن کی تعداد 2 تھی۔ حملے کے بعد علاقے میں انسداد پولیو مہم عارضی طور پر روک دی گئی ہے۔

ملک بھر میں مہم کا آغاز

قابل ذکر بات یہ ہے کہ موجود عالمی وبا کے تناظر میں پاکستان میں سخت حفاظتی اقدامات اور پروٹوکولز کے تحت رواں سال کی پہلی پولیو مہم کا آغاز 11 جنوری بروز سے کیا گیا ہے۔ 5 روز انسداد مہم کے دوران 5 سال کے کم عمر کے بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔ اس کے علاوہ 59 ماہ تک کی عمر کے بچوں کو وٹامن اے کے قطرے کی ضمنی خوراک بھی دی جائے گی، یہ حساس بچوں میں پولیو اور دیگر بیماریوں سے تحفظ کے لیے عام مدافعت پیدا کرنے میں مدد کرے گی۔POLIO, PAKISTAN

این ای او سی

ادھر قومی ایمرجنسی آپریشن سینٹر (این ای او سی) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 2 لاکھ 85 ہزار فرنٹ لائن ورکرز والدین اور نگرانوں کے گھروں تک جائیں گے اور اب کووڈ 19 کے سخت حفاظی اقدامات اور پروٹوکولز کا اپناتے ہوئے بچوں کو ویکسین دیں گے، ان اقدامات میں ماسک پہننا، ہینڈ سینیٹائزر کا استعمال کرنا اور ویکسینیشن کے دوران مناسب فاصلہ برقرار رکھنا شامل ہے۔

معاون خصوصی برائے صحت

اس حوالے سے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ ہمارا مقصد بچوں کو بروقت اور بار بار ویکسینیشن کو یقینی بنانا ہے، یہ مدافعتی فرق کو کم کرنے اور بچوں کو پولیو اور دیگر بیماریوں سے محفوظ رکھنے میں اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پولیو فری پاکستان کے مقصد کے حصول کے لیے پرعزم ہے تاہم اس کے لیے قوم خاص طور برادریوں اور 5 سال سے کم عمر بچوں کے والدین اور نگرانوں کی مکمل حمایت ضروری ہے۔

ڈائریکٹر جنرل آف ہیلتھ

دوسری جانب ڈائریکٹر جنرل آف ہیلتھ اور این ای او سی کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر رانا محمد صفدر کا کہنا تھا کہ 2021 میں ملک 2020 میں حاصل کیے گئے فوائد کو برقرار رکھنے کی طرف دیکھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوالٹی پولیو مہمات کے ساتھ ساتھ ہمارا منصوبہ ہے کہ ہم پورے پاکستان میں ضروری حفاظتی ٹیکوں کی کوریج کو بڑھانے کی ہماری کوششیں جاری رکھیں، ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ 5 سال سے کم عمر بچوں کی مدافعت کو فوری تقویت دینے لیے بار بار مہمات لازمی ہیں۔

Polio campaign

فوٹو: آن لائن

علما اور دیگر کی حمایت

پاکستان بھر میں انسداد پولیو مہم کو مؤثر اور کامیاب بنانے کیلئے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کا بیان بھی سامنے آیا ہے۔ میڈیکل ایسوسی ایشنز، میڈیا، سماجی رضاکار، مذہبی رہنما، کھیلوں کی تنظمیں اور پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے گاہے بگاہے ویڈیو اور نشریاتی پیغامات کے ذریعے قوم کو انسداد پولیو کے قطروں کی اہمیت سے آگاہ کیا گیا ہے۔ علما کی جانب سے بھی اس کی واضح حمایت کی گئی ہے تاکہ پولیو فری پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔

خیال رہے کہ پاکستان دنیا میں 2 پولیو والے ممالک میں سے ایک ہے جبکہ دوسرا ملک اس کا پڑوسی افغانستان ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube