Thursday, January 28, 2021  | 13 Jamadilakhir, 1442
ہوم   > پاکستان

عزیربلوچ، نثارمورائی اور بلدیہ فیکٹری کی جے آئی ٹیز جاری

SAMAA | and - Posted: Jul 6, 2020 | Last Updated: 7 months ago
Posted: Jul 6, 2020 | Last Updated: 7 months ago

سندھ حکومت نے لیاری گینگ وار کے اہم کردار عزير بلوچ سمیت 3 جے آئی ٹی رپورٹس جاری کردیں۔ نثار مورائی اور بلديہ فيکٹری آتشزدگی کيس کی جوائنٹ انٹیرو گیشن رپورٹس بھی محکمہ داخلہ سندھ کی ويب سائٹ پر اپ لوڈ کی گئی ہیں۔

سندھ حکومت بالآخر لیاری گینگ وار کے اہم کردار عزیز جان بلوچ، بلدیہ ٹاؤن میں فیکٹری آتشزدگی اور چیئرمین فشرمین سوسائٹی نثار مورائی کی جے آئی ٹی رپورٹس منظر عام پر لے آئی، جس میں عزیز بلوچ کو سیاسی سرپرستی، بلدیہ فیکٹری سے متعلق اہم انکشافات شامل ہیں۔

عزیز جان بلوچ، بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کیس اور چیئرمین فشرمین نثار مورائی سے متعلق رپورٹس جاری ہوتے ہی محکمہ داخلہ سندھ کی ویب سائٹ صارفین کے بوجھ کے باعث بیٹھ گئی۔

رپورٹ کے مطابق عزیز بلوچ کی جے آئی ٹی میں پیپلزپارٹی رہنماء یا اعلیٰ قیادت کا نام نہیں، لیاری گینگ وار کے اہم کردار نے ساتھیوں سے مل کر کئی افراد کو قتل کیا، وہ پوليس اور رينجرز اہلکاروں کے قتل، تھانوں پر حملے ميں بھی ملوث ہے۔

جے آئی ٹی میں بتایا گیا ہے کہ عزير بلوچ 50 سے زائد کيسز ميں مفرور ہے، ملزم نے بليک منی سے پاکستان اور دبئی ميں جائيداديں بنائيں اور ايرانی شہريت کے غيرقانونی کاغذات بھی بنا رکھے تھے، وہ اسلحہ اور دھماکا خيز مواد کی خريداری ميں بھی ملوث تھا۔

رپورٹ کے مطابق عزیر بلوچ نے پيپلز امن کميٹی کی آڑ ميں لياری ميں اپنی رياست قائم کر رکھی تھی، ملزم بھتہ خوری، زمين پر قبضہ، چائنا کٹنگ اور منشيات اسمگلنگ جیسی مجرمانہ سرگرمیوں میں بھی ملوث تھا۔

جے آئی ٹی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ عزير بلوچ نے غير ملکی ايجنٹس کو اہم قومی راز فراہم کئے، وہ جاسوسی ميں بھی ملوث پايا گيا۔

کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹری میں آگ لگنے سے خواتین سمیت 250 سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔ واقعے کو ابتداء میں حادثہ قرار دیا تھا تاہم تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا ہے کہ آگ جان بوجھ کر لگائی تھی تھی، جس میں ایم کیو ایم کے عبدالرحمان بھولا اور زبیر چریا کا ہاتھ تھا، ملزمان نے حماد صدیقی کے کہنے پر فیکٹری مالکان سے 20 کروڑ روپے بھتہ مانگا نہ ملنے پر آگ لگادی۔

فشر مین سوسائٹی کے چیئرمین ڈاکٹر نثار احمد مورائی کو بدعنوانی کے الزام میں 11 مارچ 2016ء کو گرفتار کیا گیا، 2018ء ميں نثار مورائی سے متعلق جے آئی ٹی ميں لکھا گيا کہ 50 لاکھ روپے ماہانہ بھتہ دینے کی رضامندی پر انہیں یہ کرسی دی گئی تھی۔

واضح رہے کہ سال 1998ء ميں سابق چیئرمین اسٹیل مل سجاد حسین کے قتل کے کيس ميں نثار احمد مورائی عدالت سے بری بھی ہوچکے ہیں۔

نثار مورائی نے نوشہرو فیروز میں پیٹرول پمپ اور آئل فیکٹری میں بھی سرمایہ کاری کر رکھی تھی، وہ ڈیفنس میں ہزار گز کے بنگلے، کریک ویسٹا میں فلیٹ اور حیدرآباد میں 500 گز کے بنگلوں کے بھی مالک ہیں۔

سندھ حکومت نے پیر کو جے آئی ٹیز عام کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم وفاقی وزير علی زیدی نے سہ پہر کو ٹویٹ کيا ہم ابھی تک انتظار کررہے ہيں۔

سندھ حکومت نے شام ساڑھے 5 بجے کے قريب عزير بلوچ، اور سانحہ بلديہ کی جے آئی ٹی رپورٹ اپ لوڈ کیں، مگر اس کے ساتھ ہی محکمہ داخلہ سندھ کی ويب سائٹ بيٹھ گئی۔

علی زیدی نے پھر طنز کيا اور کہا کہ ہمارا انتظار برقرار ہے، وزير اعظم کے ترجمان شہباز گل نے لکھا کہ یہ طاقت اور حوصلہ صرف عمران خان میں ہے کہ ہر انکوائری رپورٹ بلاتاخیر پبلک کی جاتی ہے اور قانون کے مطابق ايکشن ہوتا ہے، کبھی سرور ڈاون نہيں ہوتا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube