الیکشن 2018 کےغیرحتمی نتائج،پی ٹی آئی سرفہرست

Samaa Web Desk
July 27, 2018

الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کے 270 میں سے 251 حلقوں کے نتائج جاری کردیے۔ تحریک انصاف 110 نشتسوں کے ساتھ سرفہرست جبکہ مسلم لیگ ن 63 نشستوں کے ساتھ دوسرے اور پیپلزپارٹی 42 نشستیں لے کر تیسرے نمبر پر موجود ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ باعث حیرت نہیں ہوگا کہ اگلے مرحلے میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہوجائے، قومی اسمبلی کی 272 میں سے 270 سیٹوں پر پولنگ ہوئی، 2 حلقوں میں انتخابات ملتوی کردیئے گئے تھے۔

چیف الیکشن کمشنر نے پہلے غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجے کا اعلان صبح 4 بجے کیا، پی پی 11 راولپنڈی 6 سے پی ٹی آئی کے چوہدری محمد عدنان 47 ہزار 79 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے ہیں، ان کے مد مقابل مسلم لیگ ن کے راجہ ارشد محمود نے 24 ہزار 52 ووٹ حاصل کئے۔ کراچی کے اکیس حلقوں کی نشستوں پر غیرحتمی و غیرسرکاری طور پر نتائج کے مطابق پی ٹی آئی نے 13 نشستوں پر کامیابی حاصل کرلی، ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی نے 2، 2 نشستیں حاصل کی ہیں۔

لاہور میں قومی اسمبلی کے 14 حلقوں کے مکمل غیر سرکاری نتائج موصول ہوگئے، 10 نشستوں پر مسلم لیگ نون اور 4 پر تحریک انصاف نے کامیابی حاصل کرلی۔

ن لیگ کےشہبازشریف، حمزہ شہباز اورایاز صادق نے کامیابی حاصل کی۔ لیگی رہنما پرویز ملک، روحیل اصغر، علی پرویز اور وحید عالم بھی اپنی نشستوں پر جیت گئے۔ تحریک انصاف کےشفقت محمود، کرامت کھوکھر اور حماد اظہر نے لیگی مخالفین کو شکست دی۔این اے ایک سو اکتیس میں سعدرفیق کوعمران خان نے شکست دی۔

قومی اسمبلی کے حلقوں سے موصول غیر حتمی،غیر سرکاری اورسرکاری نتائج کی نمبر وار تفصیل یہ ہے،الیکشن کمیشن پاکستان حتمی نتائج کا اعلان بعد میں کرے گی۔

این اے 1 چترال : متحدہ مجلس عمل کے مولانا عبدالاکبر چترالی کو تحریک انصاف کے عبدالطیف پر سبقت حاصل ہے۔

این اے 2 سوات : تحریک انصاف کے حیدر علی خان کو مسلم لیگ ن امیر مقام پر برتری حاصل ہے۔

این اے 3 سوات : پاکستان تحریک انصاف کے سلیم رحمان 29 ہزار 252 ووٹ لے کر بھارتی اکثریت حاصل کئے ہوئے ہیں، ان کے مد مقابل عوامی نیشنل پارٹی کے عبدالکریم 10 ہزار 500 ووٹ اور مسلم لیگ ن کے شہباز شریف 9 ہزار 203 ووٹ لے کر پیچھے ہیں۔

این اے 4 سوات : پی ٹی آئی مراد سعید 11351 ووٹوں سے آگے جبکہ اے این پی کے سلیم خان 4106 ووٹوں سے دوسرے نمبر پر ہیں۔

این اے 5 اپر دیر : ایم ایم اے کے صاحبزادی طارق اللہ 3 ہزا ر986 ووٹ لے کر پہلے نمبر پرجبکہ  پی پی پی کے نجم الدین خان 3123 ووٹ اور پاکستان تحریک انصاف کے مراد سعید 3 ہزار 108 ووٹوں کے ساتھ پیچھے ہیں۔

این اے 7 لوئر دیر: 111 پولنگ اسٹیشنز کے غیرسرکاری نتائج کے مطابق تحریک انصاف کے محمد بشیر جان 25777 ووٹ لے کر آگے جبکہ امیر جماعت اسلامی سراج الحق اور متحدہ مجلس عمل کے نائب صدر 16584 لے کر پیچھے۔

این اے 8 مالاکنڈ: غیرسرکاری و غیرحتمی نتائج کے مطابق تحریک انصاف کے جنید اکبر 34156 ووٹ لے کر آگے جبکہ پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین بلاول بھٹو 16293 لے کر پیچھے۔

این اے 9 بونیر: پی ٹی آئی کے شیر اکبر 31 ہزار 854 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے، غیر سرکاری مکمل نتیجے کے مطابق مسلم لیگ ن کے کامران خان 20 ہزار 608 اے این پی کے عبدالرؤف کو 20 ہزار اور ایم ایم اے کے استقبال خان کو 12 ہزار ووٹ ملے۔ ۔

این اے 10 شانگلہ:عوامی نیشنل پارٹی کے سدید الرحمان 12 ہزار 560 ووٹ لے کر آگے ہیں، ان کے پیچھے مسلم لیگ ن کے عباد اللہ خان نے 11 ہزار 646 جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے وقار احمد نے 11 ہزار 276 ووٹ حاصل کئے ہیں۔

این اے 14 مانسہرہ:  تور غر: پاکستان تحریک انصاف کے زر گل خان کو آزاد امیدوار محمد سجاد پر سبقت حاصل ہے۔

این اے15ایبٹ آباد: مسلم لیگ کے مرتضی عباسی 31320 ووٹوں کے ساتھ آگے،پی ٹی آئی کےعلی اصغر 25460 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر،90 پولنگ اسٹیشنزکانتیجہ آگیا۔

این اے 21 مردان:  تمام 357 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی نتائج کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی صرف 35 ووٹوں کی برتری سے کامیاب ہوگئی، امیر حیدر ہوتی نے 78 ہزار 911 ووٹ جبکہ پی ٹی آئی کے عاطف خان 78 ہزار 876 ووٹ حاصل کرسکے۔

این اے 22 مردان 3:  پاکستان تحریک انصاف کے علی محمد کو پاکستان پیپلزپارٹی کے شعیب عالم خان پر برتری حاصل ہے۔

این اے24 چارسدہ: ایم ایم اے کے گوہر شاہ کو اے این پی کے اسفندیارولی پر برتری حاصل ہیں۔

این اے 26 نوشہرہ :  پی ٹی آئی کے عمران خٹک نے عوامی نیشنل پارٹی کے جمال خٹک پر برتری حاصل کرلی۔

این اے 27 پشاور: 254 پولنگ اسٹیشنز کے غیر سرکاری غیر حتمی نتائج کے مطابق پی ٹی آئی کے نور عالم 71158 کے ساتھ کامیاب، جب کہ ایم ایم اے کے حاجی غلام علی 39310 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔

این اے 28 پشاور : تحریک لبیک پاکستان کے مقابلے میں اکرام اللہ کو ایم ایم اے کے صابر حسین اعوان نے برتری حاصل کرلی۔

این اے 29 پشاور:  پاکستان تحریک انصاف کے ناصر خان کو 1714 ووٹ کے ساتھ برتری حاصل ہے، ن لیگ کے امیر مقام 607 ووٹ لے ساتھ پیچھے ہیں۔

این اے 30 پشاور: پاکستان تحریک انصاف کے شیر علی ارباب 73 ہزار781  ووٹوں سے آگے، جب کہ ایم ایم اے کے نجیب اللہ خان اور مخالفین پر برتری حاصل ہے۔

این اے31 پشاور: پی ٹی آئی کے شوکت علی کو اے این پی کے غلام بلورپربرتری حاصل ہے ، غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق پی ٹی آئی کے شوکت علی 12744 ووٹوں سے آگے، اے این پی کے غلام بلور 5961 سے دوسرے نمبر پر ہیں۔

این اے 33 ہنگو: پی ٹی آئی کے خیال زمان کو ایم ایم اے کے عتیق الرحمان اور دیگر پر سبقت حاصل ہے۔

این اے 34 کرک:  مسلم لیگ ن کے رحمت سلام خٹک کو پاکستان جسٹس ڈیموکریٹک پارٹی شاکر ذیشان خٹک پر برتری حاصل ہے۔

این اے 35 :  33 پولنگ اسٹیشنز کے غیرسرکاری اور غیرحتمی نتائج کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان 9476 ووٹ لے کر متحدہ مجلس عمل کے امیدوار اکرم خان دررانی سے آگے ہیں جنہوں نے اب تک 7149 ووٹ حاصل کیے۔

این اے 36 لکی مروت:  متحدہ مجلس عمل کے محمد انور کو پاکستان تحریک انصاف کے اشفاق احمد خان پر برتری حاصل ہے۔

این اے 37 ٹانک:  ایم ایم اے کے اسد محمود کو آزاد امیدوار داوڑ خان کنڈی پر برتری حاصل ہے۔

این اے 38 ڈی آئی خان: علی امین گنڈاپور80ہزار236ووٹ لےکرکامیاب،مولانا فضل الرحمان صرف 45ہزار457 ووٹ حاصل کرسکے۔

 این اے 39 ڈیرہ اسماعیل خان: 20 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج ایم ایم اے کے فضل الرحمان 3869 ووٹوں سے آگے جبکہ پی ٹی آئی کے شیخ یعقوب 3451 ووٹوں سے دوسرے نمبر پر ہیں۔

این اے 40 باجوڑ1:پی ٹی آئی کے گل داد خان جیت گئے، آزاد امیدوار سردار خان دوسرے نمبر پر رہے۔

این اے41 باجوڑ2:  پی ٹی آئی کے گل ظفرخان نے آزاد امیدوار مجید کو شکست دے دی۔

این اے42مہمند: پی ٹی آئی کے ساجد خان آزاد امیدوار کے خلاف سبقت لئے ہوئے ہیں۔

این اے 43 خیبر ایجنسی:تحریک انصاف کےنورالحق القادری کامیاب،آزاد امیدوار الحاج شاہ جی گل آفریدی دوسرےنمبرپررہے۔

این اے 44 خیبر: آزاد امیدوار حمیداللہ جان آفریدی سبقت لئے ہوئے ہیں۔

این اے 45 کرم:  ایم ایم اے کے حاجی منیرخان اورکزئی کامیاب ہوگئے۔

این اے 46 کرم:پی پی پی کے ساجد حسین طوری کامیاب قرار پائے۔

این اے 47 اورکزئی ایجنسی:  تحریک انصاف کے جواد حسین کو اکثریت حاصل ہے۔

این اے 48 شمالی وزیرستان: آزاد امیدوار محسن جاوید نے ایم ایم اے کے مصباح الدین پر برتری حاصل کرلی۔

این اے 49 جنوبی وزیرستان: آزاد امیدوار قیوم شیر سب سے آگےہیں۔

این اے 50 جنوبی وزیرستان: آزاد امیدوار محمد الیاس کو حریف آزاد امیدوار جمعہ خان پر برتری حاصل ہے۔

این اے 51 فرنٹیئر ریجن: ایم ایم اے کے عبدالشکور 20 ہزار 65 ووٹ لے کر کامیاب، پی ٹی آئی کے قیصر جمال نے 18335 ووٹ حاصل کیے۔

این اے 52 :  3 پولنگ اسٹیشن کے نتائج، طارق فضل چوہدری 726 ووٹ لے کر آگے ہیں، پی پی پی 523 اور پی ٹی آئی 389 ووٹوں کے ساتھ پیچھے ہیں۔

این اے 53 اسلام ٓآباد: عمران خان کو شاہد خاقان عباسی پر 3 ہزار سے زائد ووٹوں کی برتری حاصل ہے، پی ٹی آئی چیئرمین نے 7 ہزار 440 جبکہ سابق وزیراعظم نے 3010 ووٹ حاصل کئے ہیں ۔

این اے 54 اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے اسد عمر 36 پولنگ اسٹیشن کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق 11 ہزار 67 ووٹ لے کر حریفوں سے آگے ہیں، ان کے مد مقابل ن لیگ کے انجم عقیل اور ایم ایم اے کے میاں محمد اسلم ہیں۔

این اے 55 اٹک: پی ٹی آئی کو ن لیگ پر 8 ہزار سے زائد ووٹوں کی برتری حاصل ہے، طاہر صادق 16 ہزار 681 ووٹ لے کر پہلے اور شیخ آفتاب 8 ہزار 239 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔

این اے 56 اٹک:  پی ٹی آئی کے طاہر صادق 16 ہزار ووٹ لے کر آگے ہیں جبکہ ن لیگکے سہیل خان کو 2401 ووٹ ملے ہیں۔

 این اے 57 مری : پی ٹی آئی کے صداقت عباسی 31 ہزار 109 ووٹ لے کر آگے ہیں، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو 28 ہزار 822 ووٹ ملے ہیں، حلقے کے 124 پولنگ اسٹیشنز کا غیر حتمی اور غیر سرکاری نتیجہ موصول ہوگیا۔

این اے 58 گوجرخان: پیپلزپارٹی نے مخالفین پر 10 ہزار ووٹوں کی برتری حاصل کرلی، سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف 41 ہزار ووٹ حاصل کرچکے ہیں جبکہ پی ٹی آئی کے چوہدری محمد عظیم 31 ہزار ووٹ لے سکے ۔

این اے  59 راولپنڈی: 61 پولنگ اسٹیشنز کے غیرسرکاری نتائج کے مطابق تحریک انصاف کے غلام سرور 16200 ووٹ کے ساتھ آگے جبکہ آزاد امیدوار چوہدری نثار 8000 ووٹ لے کر پیچھے۔

این اے 62 راولپنڈی:  شیخ رشید احمد 21071 ووٹ لےکرسرفہرست،دانیال چوہدری کے12998 ووٹ، 45 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج آگئے۔

این اے63 راولپنڈی: 23 پولنگ اسٹیشنز کےنتائج کے مطابق پی ٹی آئی کےغلام سرور10656 ووٹ کے ساتھ سرفہرست جبکہ چوہدری نثارکو4813 ووٹ ملے۔

این اے 64 وہاڑی: 35 پولنگ اسٹیشن کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج میں پی ٹی آئی کے طاہر اقبال 9 ہزار 325 ووٹ کے ساتھ پہلے نمبر پر ہیں جبکہ مسلم لیگ ن کی تہمینہ دولتانہ 9680 ووٹوں لے کر پیچھے ہیں۔

این اے 67 جہلم:  پاکستان تحریک انصاف کے فواد چوہدری 41 ہزار 310 ووٹوں کے ساتھ جیت کے قریب پہنچ گئے، 100 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ نکے راجا مطلوب 29 ہزار 640 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔

این اے 68 گجرات: مسلم لیگ ق کے چوہدری پرویز الٰہی 2192 ووٹ لے کر آگے ہیں، مسلم لیگ ن کے چوہدری مبشر نے 835 ووٹ حاصل کئے۔

این اے 69 گجرات:این اے 69 گجرات: 133 پولنگ اسٹیشنز کے غیرسرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ ق کے چوہدری پرویز الہی 40768 ووٹ لے کر آگے جبکہ مسلم لیگ ن مبشر حسین 16180 ووٹ لے کر پیچھے۔

این اے 70 گجرات: پی ٹی آئی کے فیاض الحسن 15 ہزار 171 ووٹ لے کر آگے جبکہ مسلم لیگ ن کے جعفر اقبال 7 ہزار 431 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں، پی پی پی کے قمر زمان کائرہ کو 5 ہزار 110 ووٹ ملے ہیں۔

این اے 71 گجرات: غیر سرکاری مکمل نتیجہ آگیا، پاکستان تحریک انصاف نے کامیابی حاصل کرلی، چوہدری الیاس نے 89 ہزار 545 ووٹ لئے جبکہ ان کے حریف ن لیگ کے چوہدری عابد رضا کو 81 ہزار 300 ووٹ ملے۔

این اے 72 سیالکوٹ: مسلم لیگ ن کے ارمغان خان سنجرانی نے 129 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج میں 56 ہزار 47 ووٹ لے کر پہلی پوزیشن پر ہیں جبکہ پی ٹی آئی کی فردوس عاشق اعوان کو 27 ہزار 99 ووٹ ملے ہیں۔

این اے 73 سیالکوٹ : دوبارہ گنتی کے بعد خواجہ آصف کامیاب  قرار، خواجہ آصف نے ایک لاکھ 16 ہزار 917 ووٹ حاصل کئے،پی ٹی آئی کے عثمان ڈار کے ایک لاکھ 15 ہزار 664 ووٹ حاصل کیے۔

این اے 75 سیالکوٹ: ن لیگ کے سامنے تحریک انصاف کو مشکلات کا سامنا، 62 پولنگ اسٹیشن کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج میں کے مطابق افتخار محسن کو 18 ہزار 770 ووٹ لے کر جیت کی جانب بڑھ رہے ہیں جبکہ علی اسجد کو 8 ہزار 364 ملے ہیں۔

این اے 77 نارووال: مسلم لیگ ن کے رہنما دانیال عزیز کی زوجہ مہناز اکبر 21724 ووٹ کے ساتھ آگے ہیں۔ عدالت عظمی کی جانب سے دانیال عزیز کو نااہل کیے جانے پر مسلم لیگ ن مہناز اکبر کو الیکشن کے لیے ٹکٹ دیا تھا۔

این اے 78 نارروال : 132 پولنگ اسٹیشنز کے غیرسرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کے احسن اقبال 64569 ووٹ لے کر آگے جبکہ تحریک انصاف کے ابرار الحق 32784 ووٹ لے کر پیچھے۔

این اے81 گوجرنوالہ: 100 پولنگ اسٹیشنزکانتیجہ کے مطابق مسلم لیگ ن کے خرم دستگیر 10ہزار ووٹوں کی برتری کے ساتھ سرفہرست، پی ٹی آئی کے امیدوار محمد صادق دوسرے نمبر پر ہیں۔

این اے 87 حافظ آباد: 40 غیرحتمی اور غیرسرکاری نتائج کے مطابق تحریک انصاف کے شوکت علی بھٹی 15433 ووٹ کے ساتھ آگے جبکہ مسلم لیگ ن کی سائرہ افضل تارڑ 9432 ووٹ لے کر پیچھے ہیں۔

این اے 88 سرگودھا: 12 پولنگ اسٹیشن کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پی پی پی چھوڑ کر پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہونیوالے ندیم افضل چند 2 ہزار 238 ووٹ کے ساتھ سرفہرست ہیں، ن لیگ کے مختار احمد کو 1585 ووٹ ملے ہیں۔

این اے 93 خوشاب : ن لیگی رہنما سمیرا ملک 7049 ووٹوں سے آگے، جب کہ پی ٹی آئی رہنما ملک عمر اسلم 4700 ووٹوں سے دوسرے نمبر پر۔ اس حلقے کے دیگر اہم امیدواروں میں پیپلزپارٹٰ کے نسیم عباس اور اے این پی کے بہادر خان بھی شامل ہیں۔

این اے95 میانوالی: پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان 23 پولنگ اسٹیشن سے 25 ہزار ووٹ لے کر یقینی فتح کی جانب بڑھ رہے ہیں، ان کے مد مقابل ن لیگ کے عبید اللہ کو 6999 ووٹ ملے لیں۔

این اے 102 فیصل آباد:  تحریک انصاف کے ملک نواب وسیر 45521 لے کر آگے جبکہ مسلم لیگ کے طلال چوہدری 29120 ووٹ لے کر پیچھے۔

این اے 106 فیصل آباد: مسلم لیگ ن کے رانا ثنااللہ 106319 ووٹ حاصل کرکے کامیاب رہے۔پی ٹی آئی کےنثارجٹ103799 ووٹ حاصل کرسکے۔

این اے 108فیصل آباد : پی ٹی آئی رہنما فرخ حبیب 1لاکھ 12 ہزار740 ووٹ کےساتھ کامیاب، ن لیگی رہنماعابدشیرعلی1 لاکھ 11 ہزار 529 ووٹ لےکردوسرےنمبرپررہے۔

این اے 110 فیصل آباد: 96 پولنگ اسٹیشنز کے غیرسرکاری نتائج کے مطابق تحریک انصاف کے راجہ ریاض 31059 ووٹ کے ساتھ آگے جبکہ مسلم لیگ ن کے رانا محمد افضل 27957 ووٹ لے کر پیچھے۔

این اے 114 جھنگ: آزاد امیدوار علیشہ افتخار 4965 ووٹ لے کر آگے جبکہ سابق وفاقی وزیر فیصل صالح حیات 2526 ووٹ لے کر پیچھے۔

این اے115 جھنگ: اہل سنت والجماعت کے سربراہ احمد لدھیانوی 10 ہزار 279 ووٹ کے ساتھ آگے ہیں، پی ٹی آئی امیدوار غلام بی بی بھروانہ 10 ہزار 164 ووٹ کے ساتھ پیچھے ہیں۔

این اے 117 ننکانہ صاحب: 112 پولنگ اسٹیشنز کے غیرسرکاری نتائج کے مطابق آزاد امیدوار طارق باجوہ 36681 ووٹ کے ساتھ آگے جبکہ مسلم لیگ ن کے برجیس طاہر 30445 ووٹ لے کر پیچھے۔

این اے 119 شیخوپورہ: پاکستان تحریک انصاف کے راحت امان اللہ 20442 ووٹ لر کے سب سے آگے، جبکہ مسلم لیگ ن کے رانا افضل 15876 ووٹ لے کر پیچھے ہیں۔

این اے 120 شیخوپورہ: 50 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کو پی ٹی آئی پر 12 ہزار سے زائد ووٹوں کی برتری حاصل ہے، رانا تنویر 25 ہزار ووٹ حاصل کرچکے ہیں، علی اصغر 12 ہزار 889 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

این اے 123لاہور:ن لیگ کےملک ریاض 97193 ووٹ لےکرکامیاب رہے،پی ٹی آئی کےمہرواجد عظیم72535 لےکردوسرےنمبرپررہے۔

این اے 124 لاہور:مسلم لیگ ن کےحمزہ شہبازایک لاکھ 46 ہزار294 ووٹ لےکرکامیاب،تحریک انصاف کےنعمان قیصر80 ہزار981 ووٹ لےسکے۔

این اے 125 لاہور: ن لیگ کو برتری حاصل، وحید عالم 64 ہزار 833 ووٹ لے کر آگے ہیں جبکہ پی ٹی آئی کی یاسمین راشد 55 ہزار 984 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔

این اے 126 لاہور:  پاکستان تحریک انصاف کے محمد حماد اظہر 58 ہزار 997 ووٹ کے ساتھ سرفہرست ہیں، مسلم لیگ ن کے مہر اشتیاق 56 ہزار 523 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

این اے 127 لاہور: 30 پولنگ اسٹیشن کا غیر حتمی اور غیر سرکاری نتیجہ موصول ہوگیا، مسلم لیگ ن کے علی پرویز ملک 13 ہزار ووٹ کے ساتھ آگے اور پی ٹی آئی کے جمشید چیمہ دس ہزار ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔

 این اے 129: مسلم لیگ ن کے ایازصادق کو ایک لاکھ 3ہزار21 ووٹ پڑے۔پی ٹی آئی کےعلیم خان صرف 94ہزار879 ووٹ لےسکے

این اے130: پاکستان تحریک انصاف کے شفقت محمود 1لاکھ 27ہزار405 ووٹ حاصل کرکےکامیاب ہوگئے۔مسلم لیگ ن کےخواجہ احمد حسن ایک لاکھ 4 ہزار 25 ووٹ لےسکے۔

این اے 131 لاہور: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان 84313 ووٹ حاصل کرکےمسلم لیگ ن کے خواجہ سعد رفیق کوشکست دےدی۔

این اے 133لاہور:ن لیگ کےپرویز ملک 87506ووٹ کےساتھ پہلے نمبرپررہے،اعجازاعجاز چودھری75731 کےساتھ دوسرےنمبرپررہے۔

این اے135لاہور:پی ٹی آئی کےکرامت کھوکھر 64765 ووٹ کےساتھ سرفہرست،سیف الملوک کھوکھر55431ووٹ کےساتھ دوسرےنمبرپررہے۔

این اے 142 اوکاڑہ: 100 پولنگ اسٹیشنز کے غیرسرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کے چوہدری ریاض الحق 45647 ووٹ کے ساتھ آگے، جبکہ تحریک انصاف کے راو اسکندر حسان 22454 ووٹ لے کر پیچھے۔

این اے 145 پاک پتن: مسلم لیگ ن کے احمد رضا مانیکا نے 255 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج میں ایک لاکھ 7 ہزار 63 ووٹ حاصل کرکے جیت یقینی بنالی، ان کے مد مقابل پی ٹی آئی کے محمد شاہ کھگہ نے 54 ہزار 938 ووٹ لئے ہیں۔

این اے 156 ملتان:  پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے 93 ہزار 497 ووٹوں سے کامیابی حاصل کرلی، ان کے مد مقابل ن لیگ کے عامر سعید انصاری نے 73 ہزار 529 ووٹ حاصل کئے، حلقے میں دیگر امیدوار ایم ایم اے کے نقیب اللہ اور آل پاکستان مسلم لیگ کے سلطان محمود ملک تھے۔

این اے 157 ملتان:  پاکستان تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی میں سخت مقابلہ، غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پی ٹی آئی کے زین قریشی 8 ہزار 432 ووٹ لے کر آگے ہیں جبکہ پی پی پی کے موسیٰ گیلانی نے 8 ہزار 203 ووٹ لئے ہیں۔

این اے 169 بہاولنگر: اب تک کے 19 پولنگ اسٹیشنز کے غیرحتمی اور غیرسرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کے نور الحسن تنویر 6578 ووٹ لے کر آگے، جبکہ اعجاز الحق 4371 ووٹ لے کر پیچھے۔

این اے 171 بہاولپور:  پاکستان تحریک انصاف کے نعیم الدین وڑائچ 14 ہزار 780 ووٹ لے کر پہلے، ن لیگ کے ریاض پیرزادہ 11 ہزار 850 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں، حلقے کے 48 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج موصول ہوگئے۔

این اے 184 مظفر گڑھ:  عوامی راج پارٹی کے سربراہ جمشید دستی 4650 ووٹ لے کر آگے ہیں، پی ٹی آئی کی زہرہ باسط 2980 ووٹ کے ساتھ دوسری پوزیشن پر ہیں، حلقے کے 35 پولنگ اسٹیشن کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج موصول ہوچکے ہیں۔

این اے 191 ڈی جی خان: 27 پولنگ اسٹیشن کے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی زرتاج گل 11 ہزار 357 ووٹ لے کر آگے ہیں جبکہ مسلم لیگ ن کے سردار اویس لغاری 5915 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

این اے 192 ڈیرہ غازی خان:  59 پولنگ اسٹیشنز کے غیرسرکاری نتائج کے مطابق تحریک انصاف کے سردار محمد لغاری 22947 ووٹ کے ساتھ آگے جبکہ مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف 16224 ووٹ لے کر پیچھے۔

این اے193 راجن پور: پی ٹی آئی کےسردارمحمد لغاری 928 ووٹوں کےساتھ سرفہرست، مسلم لیگ کےشہبازشریف 524 ووٹ کےساتھ دوسرے نمبر پرہیں ۔

این اے 198 شکارپور: غیرسرکاری و غیرحتمی نتائج کے مطابق پیپلزپارٹی کے عابد حسین 66129 ووٹ لے کر کامیاب جبکہ آزاد امیدوار ڈاکٹر ابراھیم 53389 ووٹ لے کر پیچھے رہ گئے۔

این اے 200 لاڑکانہ: گڑھی خدا بخش کے ایک پولنگ اسٹیشن پر پیپلز پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو کو شکست کا امکان ، ایم ایم اے کے امیدوار راشدمحمود نے 4931 ووٹ لیے جبکہ بلاول بھٹو زرداری نے صرف 3675 ووٹ لیئے۔

 

این اے204 گھوٹکی: آزادامیدوارعبدالحق  15000ووٹ کے ساتھ سرفہرست جبکہ آزاد امیدوار میاں مٹھو7000ووٹ کےفرق سے دوسرے نمبر پر ہیں۔

این اے206سکھر:پیپلزپارٹی کےامیدوارخورشید شاہ81 ہزار223ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے۔پی ٹی آئی کےطاہر حسین شاہ50ہزار614ووٹ لےکردوسرے نمبرپررہے۔

این اے212نوشہروفیروز:جی ڈی اے میں شامل این پی پی کےسربراہ غلام مرتضیٰ جتوئی پی پی کےغیر معروف ذوالفقار علی سے چھ ہزار ووٹوں سے ہار گئے

 این اے 213 نواب شاہ: آصف زرداری ایک لاکھ 179 ووٹوں کےساتھ کامیاب،جی ڈی اےکےسردارشیرمحمد رند 53ہزار ووٹ لےکردوسرےنمبرپررہے۔

این اے 221 چھاچھرو: 74 پولنگ اسٹیشنز غیرسرکاری و غیرحتمی نتائج کے مطابق تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی 22291 ووٹ لے کر آگے جبکہ پیپلز پارٹی کے یوسف تالپور 18521 ووٹ لے کر پیچھے۔

این اے 228 ٹنڈو محمد خان:  پیپلزپارٹی کے نوید قمر 44 ہزار 711 ووٹوں کے ساتھ پہلی پوزیشن پر ہیں، جی ڈی اے کے میر نواز 20 ہزار 649 ووٹ لے کر پیچھے ہیں۔

این اے 229 بدین: جی ڈی اے کے حسان مرزا2718 ووٹ لےکرآگے ان کے مقابلے میں پیپلزپارٹی کے غلام مرزا 1826 ووٹ لےکردوسرے نمبر پر ہیں۔

این اے 231 سجاول: غیر سرکاری نتیجے میں پیپلزپارٹی کے ایاز شاہ شیرازی کو کامیاب قرار دے دیا گیا، انہوں نے 80 ہزار 725 ووٹ حاصل کئے جبکہ مد مقابل متحدہ مجلس عمل کے محمد صالح 7 ہزار 956 ووٹ لے سکے۔

این اے 232 ٹھٹہ: 190 پولنگ اسٹیشنز غیرسرکاری و غیرحتمی نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی کی شمس النسا میمن 68079 ووٹ لے کر آگے جبکہ تحریک انصاف کے ارسلان بروہی 7657 ووٹ لے کر پیچھے

این اے 236 کراچی: پیپلزپارٹی کےجام عبدالکریم 66ہزار623 ووٹ حاصل کرکے کامیاب قرار۔ پی ٹی آئی کےڈاکٹر مسرور سیال 26ہزار456 ووٹ کےساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔

این اے237 کراچی: پیپلزپارٹی کے حکیم بلوچ کو بدترین شکست، پی ٹی آئی کے کیپٹن (ر) جمیل احمد خان نے معرکہ سر کرلیا۔

این اے 238 کراچی: پیپلزپارٹی کے رفیع اللہ 29ہزار800 ووٹ لےکرسرفہرست،راہ حق پارٹی کے حافظ اورنگزیب فاروقی 16ہزار4سو ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

این اے 239 کراچی: پی ٹی آئی کے محمد اکرم 11 ہزار 499ووٹوں سے آگے، جب کہ ایم کیو ایم کے سہیل منصور 10 ہزار 320 ووٹوں سے دوسرے نمبر پر۔

این اے 240 کراچی : غیر حتمی و غیر سرکاری مکمل نتیجہ آگیا، ایم کیو ایم کے اقبال محمد خان 48 ہزار 518 ووٹ لیکر کامیاب قرار پائے جبکہ تحریک لبیک پاکستان کے محمد آصف 25 ہزار 57 ووٹ کے ساتھ دوسرے اور تحریک انصاف کے فرخ  منظور 24 ہزار 83 ووٹ کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں۔

این اے 241 کراچی: پی ٹی آئی کےفہیم خان 26766 لےکرسرفہرست۔ایم کیوایم کےمعین عامردوسرے نمبرپررہےہیں۔

این اے 242 کراچی:  پی ٹی آئی سیف الرحمان نے اب تک 6 ہزار 597 ووٹ لئے ہیں جبکہ پیپلزپارٹی کے محمد اقبال 2649 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔

این اے 243 کراچی:  عمران خان نے علی رضاعابدی کوشکست دےدی۔

این اے 244 کراچی :  پاکستان تحریک انصاف کے علی زیدی 13 ہزار 253 ووٹ لے کر سب سے آگے ہیں، ن لیگ کے مفتاح اسماعیل نے 5781 ووٹ لئے ہیں۔

این اے 245 کراچی: پی ٹی آئی رہنما عامر لیاقت حسین نے ایم کیو ایم رہنما فاروق ستار کو شکست دے دی۔

این اے 246 کراچی: غیرسرکاری و غیرحتمی نتائج کے مطابق تحریک انصاف کے عبدالشکور پیپلزپارٹی کے گڑھ لیاری سے 15000 ووٹ لے کر آگے جبکہ پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین بلاول بھٹو 11646 لے کر پیچھے۔

این اے 247 کراچی (ڈیفنس، کلفٹن) : پاکستان تحریک انصاف کے عارف علوی نے میدان مار لیا، 91 ہزار 200 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کرلی، تحریک لبیک پاکستان کے زمان جعفری نے 24 ہزار 680 اور ایم کیو ایم کے ڈاکٹر فاروق ستار نے 24 ہزار 146 ووٹ حاصل کئے۔

این اے 248 کراچی : الیکشن کمیشن پاکستان نے حلقے کا رزلٹ روک لیا، آر او کا کہنا ہے کہ کچھ حلقوں کے نتائج نہیں مل رہے، اس نشست پر پیپلزپارٹی کے عبدالقادر پٹیل، ایم کیو ایم افشاں قمبر اور پی ٹی آئی کے سردار عزیز مد مقابل ہیں۔

این اے249 کراچی : پی ٹی آئی کے فیصل واوڈا 35 ہزار 344 ووٹ حاصل کرکےکامیاب قرار،مسلم لیگ ن کےشہبازشریف کوشکست دےدی۔ایم کیو ایم کے رہنما تیسرے نمبر پررہے۔

این اے250کراچی غربی: 275 پولنگ اسٹیشنز کےمکمل نتائج، پی ٹی آئی کےعطااللہ 30 ہزار52 ووٹ کےساتھ کامیاب قرار۔ایم کیوایم کے فیاض قائم خانی 24ہزار66 ووٹ کےساتھ دوسرےنمبرپررہے۔

این اے 251 کراچی : ایم کیو ایم کے امین الحق 16 ہزار 278 ووٹوں سے آگے، جب کہ پی ٹی آئی کے اسلم بھاشانی کو10321 ووٹ ملے۔

این اے252 کراچی: آفتاب جہانگیر21065 ووٹ حاصل کرکے سب سے آگے،ایم کیو ایم کےعبدالقادر17858دوسرے نمبر پررہے۔

این اے253 کراچی:سرکاری نتیجہ جاری،ایم کیوایم پاکستان کےاسامہ قادری کامیاب قرار، مصطفیٰ کمال کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

این اے 255 کراچی:ایم کیوایم پاکستان کےڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کامیاب قرار، سرکاری نتیجہ جاری ۔

این اے 256 : 2 پولنگ اسٹیشن پولنگ کےغیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق ایم کیوایم پاکستان کے امیدوارعامر چشتی 550 ووٹ لے کرپہلے نمبر پر ہیں جبکہ ایم ایم اے معراج الہدیٰ 215 ووٹ لے کردوسرے نمبر پر رہی، تحریک انصاف محمد نجیب ہارون 110 اور پاک سرزمین پارٹی عادل صدیقی 47 ووٹ حاصل کرسکی۔

این اے260 نصیرآباد کم جھل مگسی کچھی:پی ٹی آئی کےصوبائی صدر سرداریار محمد رند41280ووٹ لیکر کامیاب جبکہ بی اے پی نوابزادہ خالد خان مگسی نے 39460 ووٹ حاصل کیئے۔

این اے261جعفرآبادصحبت پور: پی ٹی آئی کےخان محمد جمالی45222ووٹ کےساتھ سرفہرست،پی پی پی کےمیرچنگیزخان جمالی 27563ووٹ کےساتھ دوسرےنمبرپر،بلوچستان عوامی پارٹی کےظہورخان کھوسہ 22284ووٹ کےساتھ تیسرےنمبرپررہے۔

این اے 264 کوئٹہ 1: ایم ایم اے کےمولانا عصمت اللہ 14 ہزار 887 ووٹوں کے ساتھ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوگئے،بی این پی کے ملک عبدالولی اکبر 10 ہزار 71 ووٹ لے سکے۔

 این اے 268چاغی: بی این پی مینگل کے امیدوار ہاشم نوتیزئی 35124 ووٹ لے کر جیت گئے ان کے مد مقابل آزاد امیدوار سردار فتح محمد حسنی 27180 ووٹ لے سکے۔

 

پی پی پی نے انتخابی نتائج مسترد کرنے کا عندیہ دے دیا، رہنماء کہتے ہیں کہ پولنگ ایجنٹوں کو باہر نکال دیا گیا، فارم 45 بھی فراہم نہیں کیا جارہا۔

مسلم لیگ ن کے رہنماء خرم دستیگر خان نے دھاندلی کا الزام لگادیا۔

پی ایس 11 لاڑکانہ : پی پی پی مضبوط گڑھ میں شکست کھاگئی، تمام 147 پولنگ اسٹیشنز کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق جی ڈی اے کے معظم عباسی 32 ہزار 178 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے، نثار کھوڑو کی بیٹی ندا کھوڑو21 ہزار 811 ووٹ حاصل کرسکیں۔

مزید جانیے :  پیپلزپارٹی کو لاڑکانہ کی نشست پر بھی شکست

 پی ایس 12،لاڑکانہ:180پولنگ اسٹیشن کےغیرسرکاری نتائج مکمل،پیپلزپارٹی کےسہیل انورسیال48،997 ووٹ لیکرکامیاب،جی ڈی اےکےاکبرشاہ راشدی22626 ووٹ لیکرشکست کھا گئے۔

پی ایس 99:32پولنگ اسٹیشن کےنتائج آگئے،پی ٹی آئی حلیم عادل شیخ 6058ووٹ لےکرپہلےنمبرپررہے،پی ایس پی کےتاج محمد744ووٹ کےساتھ دوسرےنمبرپررہے۔

پی ایس 46سانگھڑ:سنجھورو کے غیر سرکاری  نتائج مکمل،جی ڈی اے کے وریام فقیر خاصخیلی 42،494 لے کر کامیاب ہوگئے۔پیپلزپارٹی کےراناعبالستار41،530 ووٹ لیکردوسرےنمبرپررہے۔

پی ایس 47 میرپورخاص: پی پی کےہری رام 33201 ووٹ لےکرپہلےنمبرپررہے۔ایم کیوایم کےمجیب الحق نے23000 ووٹ حاصل کیے۔

پی ایس 51، عمرکوٹ: پیپلز پارٹی کے رہنما سردار علی شاہ 55 ہزار 118 ووٹ لے کر کامیاب، جب کہ جی ڈی اے کے جادم منگریو27008حاصل کرسکے۔

پی ایس52، عمر کوٹ: پیپلزپارٹی کے علی مردان شاہ 52 ہزار139 ووٹ سے جیت گئے، جب کہ جی ڈی اے کے امیدوار سابق وزیراعلی سندھ ارباب غلام رحیم31979 ووٹ حاصل کرسکے۔

پی ایس 75 سجاول : غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پیپلزپارٹی کے شاہ حسین شیرازی 27 ہزار 626 ووٹ لے کر آگے ہیں، ایم ایم اے کے مولوی محمد اسماعیل 9 ہزار 741 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔

پی ایس 78 ٹھٹھہ:  پیپلزپارٹی کےحسن زیدی نے50 ہزار 103 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کرلی، غیر سرکاری نتائج کے مطابق پی ٹی آئی کے زیب نیازی صرف 4 ہزار 460 ووٹ لے سکے۔

پی ایس 80 سیہون شریف: سابق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ 42 ہزار 442 ووٹ لے کر سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہوگئے، تمام 157 پولنگ اسٹیشنز کا غیر سرکاری نتیجہ موصول ہوگیا۔ ان کے مد مقابل ایس یو پی کے سید جلال محمود شاہ نے 17 ہزار 499 ووٹ حاصل کئے۔

پی ایس 89 ملیرتھری:پاکستان پیپلزپارٹی کےمحمدسلیم23923ووٹ لےکرکامیاب ہوئے،پی ٹی ائی کےسید علی حسن 18781ووٹ کےساتھ دوسرےنمبرپررہے۔

پی ایس 90 ملیر4:پیپلزپارٹی کےعبدالرزاق راجہ 16312ووٹ کےساتھ کامیاب رہے،پی ٹی آئی کےاعجازخان 8575ووٹ کےساتھ دوسرےنمبرپررہے۔

پی ایس 96 کورنگی کراچی:ایم کیوایم کےغلام جیلانی 19863ووٹ کےساتھ سرفہرست،ٹی ایل پی کےمحمدابوبکر18962ووٹ کےساتھ دوسرےنمبرپررہے۔

پی ایس 97 کورنگی کراچی6:پی ٹی آئی کےراجہ اظہرخان 10473ووٹ کےساتھ پہلےنمبرپر،ایم کیوایم کے وقارحسین9595ووٹ کےساتھ دوسرےنمبرپررہے۔

پی ایس 99 کراچی ایسٹ 1: 32 پولنگ اسٹیشنز کے موصولہ نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے حلیم عادل شیخ 6 ہزار 58 ووٹ لے کر آگے ہیں جبکہ پی ایس پی کے تاج محمد نے 744 ووٹ لئے ہیں۔

پی ایس 103 کراچی: پی ٹی آئی کےامیدواربلال41451 ووٹ لےکرآگےرہے۔ایم ایم اے کے محمد جنید 17729 ووٹ لےکردوسرے نمبر پررہے۔ پی ایس پی امیدوار نے چار ہزار سے زائد ووٹ حاصل کئے۔

 پی ایس 104 کراچی:پیپلزپارٹی کےسعیدغنی 27615 لےکرکامیاب،ایم کیو ایم کےخرم کو9630ووٹ ملے۔

پی ایس 105 کراچی ایسٹ:تحریک انصاف کےمحمدعلی عزیز28881 ووٹ لے کرکامیاب ہوئے۔ایم کیوایم کےفیصل رفیق 20283 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

پی ایس107کراچی: پیپلزپارٹی کےجاوید ناگوری ہارگئے۔ٹی ایل پی کی لیاری میں انٹری ہوئی اورٹی ایل پی کے محمد یونس 26248ووٹ لےکرپہلےنمبرپررہے۔ دوسرےنمبر پر پی ٹی آئی کےامیدوارمحمد اصغرخان کو15915ووٹ ملے۔

پی ایس 109کراچی:104پولنگ اسٹیِشن کےنتائج مکمل ہوگئے۔ پی ٹی آئی کے رمضان گھانچی 25345 ووٹ لیکرکامیاب ہوئے۔ ٹی ایل پی امیدوار بلال قادری 19913 لیکر دوسرے نمبرپرآئے۔

پی ایس 116 ویسٹ 5:پی ٹی آئی کےملک شہزاد9966ووٹ کےساتھ کامیاب ہوگئے،ن لیگ کےصالحین  9711ووٹ کےساتھ دوسرےنمبرپررہے۔

پی ایس 123کراچی:ایم کیوایم کےوسیم الدین قریشی 28161 ووٹ لیکر کامیاب ہوئے۔تحریک انصاف کے فیضان مسلم 20574 ووٹ لیکر دوسرے نمبرپرآئے۔

پی ایس 125کراچی: پی ٹی آئی کےعباس جعفری30687ووٹ لےکرسرفہرست،ایم کیوایم کےعبدالحسیب 26818 ووٹ لےکردوسرے نمبرپررہے۔

پی ایس 126 کراچی : پی ٹی آئی کے عمرعماری 30 ہزار337 ووٹ لےکر کامیاب ہوگئے،ان کےمدمقابل ایم کیوایم کےمحمد آصف 25 ہزار 68 ووٹ لے سکے۔ 38 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہوگئی۔

پی ایس 129نارتھ ناظم آباد:پی ٹی آئی کےسیدعمران علی شاہ39101ووٹ لے کرکامیاب ہوئے۔ایم کیوایم کےمعاذ مقدم 17697 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پررہے۔حلقہ میں ڈالے گئے ووٹوں کی تعداد 96283 ہے۔حلقہ میں پولنگ کی شرح 41فیصد رہی۔

پی ایس130:پی ٹی آئی کےریاض حیدر38984 ووٹ لےکرکامیاب ہوگئے۔ایم کیوایم کے جمال احمد 35984ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پررہے۔

پی پی 11 راولپنڈی 6 : سرکاری نتائج کے مطابق  پی ٹی آئی کے چوہدری محمد عدنان 47 ہزار 79 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے ہیں، ان کے مد مقابل مسلم لیگ ن کے راجہ ارشد محمود نے 24 ہزار 52 ووٹ حاصل کئے

پی پی 16 راولپنڈی: مکمل غیر سرکاری، غیر حتمی نتیجے کے مطابق تحریک انصاف کے راجہ راشد 64ہزار 662 ووٹ لے کر کامیاب، جب کہ ن لیگ کے ارسلان حفیظ کو 44ہزار 552 ووٹ ملے۔

پی پی 148لاہور:مسلم لیگ ن کےشہبازاحمد60 ہزار608 ووٹ لےکرجیت گئے۔تحریک انصاف کےآجاسم شریف کو43ہزار220 ووٹ ملے۔

پی پی 150لاہور: ن لیگ کے بلال یاسین 35 ہزار556 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے۔تحریک انصاف کے چودھری محمد اصغر7 ہزار 310 ووٹ لے سکے۔

پی پی 184 اوکاڑا: غیر سرکاری نتائج کے مطابق نجم سیٹھی کی اہلیہ جگنو محسن تمام 162 پولنگ اسٹیشن سے کامیاب ہوگئی ۔

پی پی 147 لاہور: غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کے مجتبیٰ شجاع الرحمان 69 ہزار 31 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے، غیر سرکاری نتیجے کے مطابق ان کے مقابلے میں پی ٹی آئی کے طارق سعادت نے 30 ہزار 596 ووٹ لئے۔

پی پی 148لاہور:مسلم لیگ ن کے شہبازاحمد 60 ہزار 608 ووٹ لے کر جیت گئے۔تحریک انصاف کے آجاسم شریف کو43ہزار220 ووٹ ملے۔

پی پی 150لاہور: ن لیگ کے بلال یاسین 35 ہزار556 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ  تحریک انصاف کے چودھری محمد اصغر 7 ہزار 310 ووٹ لے سکے۔

پی پی 151 لاہور:تحریک انصاف کےمیاں اسلم اقبال 65 ہزار 830 ووٹ لے کر فاتح رہے۔ن لیگ کےباقرحسین کے51 ہزار971 ووٹ کرکےدوسرےنمبرپررہے۔

پی پی 153لاہور:ن لیگ کےخواجہ عمران نذیر 44 ہزار 556 ووٹ لے کر جیت گئے۔تحریک انصاف کے خالد گُھرکی 19 ہزار 633 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پررہے۔

پی پی 160لاہور:تحریک انصاف کےمحمود الرشید 63 ہزار 59 لے کر کامیاب ہوگئے۔ن لیگ کےتوصیف شاہ 50 ہزار 571 ووٹ لے سکے۔

پی پی 166لاہور: ن لیگ کے رمضان صدیق 42 ہزار 68 ووٹ لے کر فاتح قرارپائے جبکہ عبدالکریم کلواڑ 33 ہزار 993 ووٹوں کے ساتھ پیچھے رہے گئے۔

پی پی 167لاہور: تحریک انصاف کے نذیر چوہان 40 ہزار 704 ووٹ لے کر جیت گئے جبکہ ن لیگ کے میاں سلیم 38 ہزار 463 ووٹ لے سکے۔

پی پی 168لاہور: مسلم لیگ ن کے خواجہ سعد رفیق 34 ہزار 114 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے۔

پی پی 228 لودھراں: مکمل غیرسرکاری غیر حتمی نتائج کے مطابق پی ٹی آئی کے نذیر خان بلوچ 43ہزار 169 ووٹ لے کر کامیاب، جب کہ مسلم لیگ ن کے پیر رفیع الدین شاہ 39ہزار 731 ووٹ لے سکے۔

 

پی کے 11 اپر دیر 2 :  تمام پولنگ اسٹیشنز کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق پیپلزپارٹی کے صاحبزادہ ثناء اللہ 18 ہزار 900 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے ہیں، ان کے مد مقابل ایم ایم کے اعظم خان کو 12 ہزار 15 ووٹ ملے۔

پی کے 22 بونیر: غیر سرکاری نتائج کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی کے سردار بابک رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوگئے، انہوں نے 21 ہزار 918 ووٹ حاصل کئے ہیں۔

پی کے 23 شانگلہ:  پی ٹی آئی کے شوکت یوسف زئی نے 16 ہزار 571 ووٹ کے ساتھ ایک بار پھر صوبائی اسمبلی کی سیٹ پکی کرلی، غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کے محمد ارشاد نے 12 ہزار 219 ووٹ لئے ہیں۔

پی کے 66 پشاور: 33 فیصد پولنگ اسٹیشنز کے غیرسرکاری نتائج کے مطابق تحریک انصاف کے محمود جان 6130 ووٹ لے کر آگے، جبکہ متحدہ مجلس عمل کے حشمت خان 3376 ووٹ لے کر پیچھے۔

پی کے67 پشاور: 28 فیصد پولنگ اسٹیشنز کے غیرسرکاری نتائج کے مطابق تحریک انصاف کے ارباب محمد وسیم خان 4660 ووٹ لے کر آگے، جبکہ پیپلز پارٹی کے رضا اللہ خان 2392 ووٹ لے کر پیچھے۔

پی کے 70 پشاور 4:  پاکستان تحریک انصاف کے سابق وزیر شاہ فرمان کو مخالفین پر سبقت حاصل ہے۔

پی کے 77 پشاور : 33 فیصد پولنگ اسٹیشنز کے غیرسرکاری نتائج کے مطابق تحریک انصاف کے کامران خان بنگش 9729 ووٹ لے کر آگے جبکہ ان کے مقابلے میں متحدہ مجلس عمل کے خیرالبشر 3286 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں ۔

پی کے 83 ہنگو: پی ٹی آئی کے شاہ فیصل 10 ہزار 500 ووٹ لے کر سرفہرست ہیں، ان کا مقابلہ ایم ایم اے کے عبید اللہ اے این پی کے حسین علی شاہ سے ہیں۔

پی کے 84 ہنگو: غیر سرکاری نتائج میں پی ٹی آئی کے ظہور شاکر کو کامیاب قرار دے دیا گیا۔

پی کے 96 ڈی آئی خان: تمام 113 پولنگ اسٹیشن کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پی پی پی احمد کریم کنڈی 18 ہزار 377 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے، آزاد امیدوار سمیع اللہ علیزئی نے 16 ہزار 610 ووٹ حاصل کئے۔

پی کے 97 ڈیرہ اسماعیل خان : تمام پولنگ اسٹیشنز کےغیر حتمی اورغیر سرکاری نتائج میں پاکستان تحریک انصاف کےعلی امین 31 ہزار 84 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے ہیں جبکہ پی پی پی کے حسام نواز 14 ہزار 623 اور ایم ایم کے مشتاق ڈار 12 ہزار 52 ووٹ لے سکے۔

پی بی 4 لورالائی: غیر حتمی سرکاری نوٹیفیکیشن جاری، حاجی بی اے پی کے محمد خان طور 13 ہزار 460 لے کر کامیاب ہوگئے، ایم ایم اے کے مولانا فیض اللہ کو 11 ہزار 962 ووٹ ملے۔

پی بی5 دکی:آزاد امیدوار سردار مسعود لونی 13322 ووٹ لیکر کامیاب رہےجب کہ ان کے مد مقابل بلوچستان عوامی پارٹی کے سرداردرمحمد ناصر6887ووٹ لیکردوسرے نمبر پررہے۔

پی بی 11 نصیر آباد ون: بی اے پی کے سکندر علی عمرانی نے 10007ووٹ لیکر کامیاب ہوگئے جبکہ پی پی پی کے میر صادق عمرانی  6901 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

 پی بی 12 نصیرآباد2:بی اے پی حاجی محمد خان لہڑی نے15270 ووٹ لیکر جیت گئےجبکہ ان کےمدمقابل آزادامیدوارغلام رسول عمرانی نے 9900 ووٹ حاصل کیے۔

پی بی 13 جعفر آباد : پی ٹی آئی کے میر عمر خان جمالی نے 18 ہزار 922 ووٹ لیکر کامیابی حاصل کرلی، آزاد امیدوار راحت فائق جمالی نے 17 ہزار 845 ووٹ حاصل کئے۔

پی بی 14 جعفر آباد : بلوچستان عوامی پارٹی کے جان محمد جمالی 20 ہزار 588 ووٹ لیکر رکن بلوچستان اسمبلی بن گئے، آزاد امیدوار نور جہاں میمن کو 2700 ووٹ ملے۔

پی بی 15 صحبت پور: بی اے پی کے سلیم خان کھوسہ نے 17 ہزار 298 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کرلی، نیشنل پارٹی کے دوران خان کھوسہ نے 8 ہزار 836 ووٹ لئے۔

پی بی 16 جھل مگسی: بلوچستان عوامی پارٹی کے نوابزادہ طارق مگسی حتمی نتائج کے بعد 14 ہزار 959 ووٹ لے کر رکن بلوچستان اسمبلی منتخب ہوگئے، جبکہ ان کے مد مقابل آزاد امیدوار اورنگزیب عالمگیر کو 6 ہزار 402 ووٹ ملے۔

پی بی 18 پشین : متحدہ مجلس عمل کے عبدالواحد صدیقی 23 ہزار 790 ووٹ لیکر کامیاب ہوگئے، بلوچستان عوامی پارٹی کے اسفندیار خان کاکڑ 14 ہزار 880 ووٹ لے سکے۔

پی بی 19 پشین : متحدہ مجلس عمل پاکستان نے کامیابی حاصل کرلی،اصغر ترین 14 ہزار 378 ووٹ لیکر رکن بلوچستان اسمبلی منتخب ہوگئے، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سردار مصطفیٰ ترین 10 ہزار 760 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔

پی بی 20 پشین : متحدہ مجلس عمل نے یہاں بھی کامیابی حاصل کرلی، سید فضل آغا 17 ہزار 851 ووٹ لیکر ایم پی اے بن گئے، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سید لیاقت آغا 11 ہزار 74 ووٹ لےکر دوسرے نمبر پر رہے۔

پی بی 21 قلعہ عبداللہ :موصولہ 69 پولنگ مراکز کا نتیجہ آگیا۔عوامی نشنل پارٹی کےزمرک خان اچکزِئی 9600 ووٹ لیکر کامیاب رہے۔ایم ایم اے کے حبیب اللہ 6200 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پررہے۔

پی بی 28 کوئٹہ: تحریک انصاف کے مبین خلجی 7 ہزار 226 ووٹ لیکر کامیاب ہوگئے، بلوچستان عوامی پارٹی کے طاہر محمود 5 ہزار 640 ووٹ لیکر دوسرے اور بی این پی کے اسماعیل گجر نے 4 ہزار 275 کے ساتھ تیسری پوزیشن لی۔

پی بی 29 کوئٹہ:  بلوچستان نیشنل پارٹی کے اختر حسین لانگو 12603 ووٹ لیکرکامیاب ہوئے۔تحریک انصاف کے عبدالباری بڑیچ 6657 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر بلوچستان عوامی پارٹی کے بانی سعید احمد ہاشمی کو شکست ہوئی انھوں نے 4927 ووٹ حاصل کئے۔

پی بی 32 کوئٹہ:بلوچستان نیشنل پارٹی کےملک نصیر شاہوانی 6795 ووٹ لیکرکامیاب ہوئے۔متحدہ مجلس عمل کےمولاناعبدالغفور حیدری 4434 ووٹ لیکر دوسرے نمبرپررہے۔

پی بی 41واشک:متحدہ مجلس عمل کے نامزاد امیدوار  زابد ریکی 14131 ووٹوں کے ساتھ پہلے جبکہ میر مجیب الرحمن محمد حسنی 11050 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پررہے۔

پی بی 50 لسبیلہ 2: بلوچستان عوامی پارٹی کے سربراہ جام کمال خان 38 ہزار 885 ووٹ حاصل کرکے سرکاری نتائج کے مطابق کامیاب قرار پائے، ان کے مد مقابل آزاد امیدوار نصرﷲ رونجھو 26 ہزار 50 ووٹ حاصل کرسکے۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن پاکستان کے الیکٹرانک سسٹم میں خرابی کے باعث انتخابی نتائج کی فراہمی میں کئی گھنٹے تاخیر ہوئی، جس سے امیدواروں سمیت ہمدردوں اور عوام کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ایم کیو ایم پاکستان، پاکستان پیپلزپارٹی، مسلم لیگ نواز، پاک سرزمین پارٹی اور مولانا فضل الرحمان نے انتخابی نتائج میں تاخیر پر احتجاج کرتے ہوئے اسے دھاندلی سے تعبیر کیا اور نتائج مسترد کردیئے۔

نوٹ : الیکشن کمیشن کی جانب سے نتائج موصول ہونے کا سلسلہ جاری ہے، جو اپ ڈیٹ کئے جارہے ہیں۔