بن بلائے میسجز اور فون کالز کیسے بلاک کیے جائیں؟

SAMAA | - Posted: Jan 26, 2021 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: Jan 26, 2021 | Last Updated: 3 months ago

صارفین کو فون پر مختلف کمپنیوں و دیگر کی جانب سے اشتہارات پر مبنی میسجز موصول ہوتے ہیں جن کی اکثریت کو کوئی خاص ضرورت بھی نہیں ہوتی اور زیادہ تر افراد ایسے ایس ایم ایس اور کالز سے تنگ ہونے کی شکایت ہی کرتے نظر آتے ہیں۔ صارفین اگر چاہیں تو ایسے غیر مطلوب میسجز اور کالز سے باآسانی چھٹکارا حاصل کر سکتے ہیں۔

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (پی ٹی اے) کی جانب سے فراہم کی جانے والی ایک سروس کے ذریعے موبائل فون صارفین ایسے غیر مطلوب میسجز اور کالز بلاک کر سکتے ہیں یا مارکیٹنگ کی غرض سے کیے جانے والے میسجز سے چھٹکارا پانے کے لیے پی ٹی اے کے ڈو ناٹ کال رجسٹر (ڈی این سی آر) کا حصہ بن سکتے ہیں۔

بعض افراد کے لیے ایسے تشہیری پیغامات ضرور دلچسپی کا باعث یا فائدہ مند ہوتے ہوں گے اور وہ شاید ایسے میسجز کے انتظار میں ہوتے ہوں کہ کب سیل لگنے کا میسج آئے اور وہ اس سے فائدہ اٹھائیں لیکن ایسے صارفین بھی ہیں جو ان میسجز سے تنگ ہوتے ہیں کیونکہ سیل کے بارے میں معلومات کے علاوہ بھی ہزاروں ایسی کمپنیاں آپ کو مارکٹینگ میسجز کرتی ہیں جن میں صارفین کی کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔

اس صورت میں اگر آپ ٹیلی مارکیٹنگ میسجز کو بلاک کرنا چاہیں، تو پی ٹی اے کی جانب سے فراہم کردہ سروس کو استعمال کرتے ہوئے اپنا نمبر ڈی این سی آر پر ڈال سکتے ہیں یعنی آپ پی ٹی اے کو بتا سکتے ہیں کہ آپ کا نمبر غیر مطلوبہ کال یا میسجز کے لیے رجسٹر نہ کریں۔

اس کے لیے آپ کو انگریزی حروف آر ای جی لکھ کر 3627 پر میسج بھیجنا ہوگا جس کے بعد آپ کو ہر قسم کے تشہیری پیغامات اور کالز موصول ہونا بند ہو جائیں گی۔

ایسی کمپنیاں آپ کا نمبر کیسے حاصل کرتی ہیں؟

اس بارے میں پی ٹی اے کے ترجمان خرم مہران نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اکثر اوقات ہم جب کوئی چیز خریدنے دکان پر جاتے ہیں تو وہاں ہمارا نمبر مانگا جاتا ہے جس کے بعد وہ نمبر ان کے ڈیٹا بیس میں محفوظ کر لیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت نہ تو دکاندار بتاتا ہے کہ وہ نمبر کیوں مانگ رہا ہے اور نہ ہی خریدار ان سے پوچھتا ہے کہ آپ کیوں نمبر مانگ رہے ہیں تاہم اگر کوئی پوچھتا بھی ہے تو بتایا جاتا ہے کہ کوئی پروموشن یا سیل لگے گی تو آپ کو بتا دیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہاں یہ بات سمجھنی بھی ضروری ہے کہ بہت سے برانڈز کی مارکینٹنگ کمپنیاں ایک ہی ہوتی ہیں۔ جب آپ اپنا نمبر ایک برانڈ کے لیے رجسٹر کرتے ہیں تو وہ دیگر برانڈز کی مارکیٹنگ کے لیے استعمال ہوجاتا ہے۔

خرم مہران کا کہنا تھا کہ اس لیے پی ٹی اے نے یہ سروس فراہم کی ہے تاکہ آپ ہر قسم کے ٹیلی مارکیٹنگ میسجز کو بلاک کر سکیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ سروس بلکل مفت ہے اور صارفین کو اس کے استعمال پر کوئی چارجز نہیں دینے ہوں گے۔

اسپیم میسجز کا تدارک

مارکیٹنگ میسجز کے علاوہ آپ کے موبائل نمبر پر مختلف نمبروں سے بھی میسجز موصول ہوتے ہیں جن میں مختلف سروسز کی فراہمی کے لیے رابطہ کرنے کو کہا جاتا ہے۔ اس بارے میں پی ٹی اے کے ترجمان نے بتایا کہ یہ میسجز ایک شخص دوسرے کو ذاتی حیثیت میں بھیجتا ہے۔ مارکیٹنگ میسجز سے ہٹ کر یہ عام موبائل نمبر سے خاص سافٹ ویئر کے ذریعے بھیجے جاتے ہیں اس لیے پی ٹی اے کے لیے ان کو بڑے پیمانے پر روکنا مشکل ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ کوئی صارف ہمیں شکایت کرتا ہے کہ اسے ایسے میسجز ان مخصوص نمبرز سے موصول ہو رہے ہیں تو اس کے خلاف کارروائی ہوسکتی ہے لیکن اگر وہی میسجز دیگر نمبرز استعمال کر کے کوئی بھیجتا ہے تو وہ ہم خود سے بلاک نہیں کر سکتے ہیں۔

میسجز کی اس قسم میں فراڈ کرنے والے میسجز اور کالز کو بھی شامل کیا جاتا ہے جن میں انکم سپورٹ پروگرام کے حوالے سے کوئی گمراہ کن بات، کوئی انعام نکلنے کی اطلاع وغیرہ شامل ہیں۔ ایسی صورت حال میں صارفین پی ٹی اے کی ویب سائٹ پر ان مخصوص نمبروں کی معلومات فراہم کر کے شکایت درج کر سکتے ہیں۔

پی ٹی اے اس کی تحقیقات کرتی ہے اور اگر کسی کے ساتھ فراڈ ہوا ہو تو اس پر قانونی کارروائی کے لیے معاملہ ایف آئی اے کو بھجوایا جاتا ہے۔ موبائل کمپنیوں کی جانب سے یہ سہولت دی جا رہی ہے کہ ہم ان میسجز کو بھی بلاک کر سکتے ہیں جس کے لیے صارفین کو مخصوص نمبر لکھ کر اور اس کے جانب سے موصول ہونے والے میسج کو کاپی کر کے 9000 پر ایس ایم ایس کرنا ہوگا۔ ایسا کرنے سے اس نمبر سے ایسے میسج موصول ہونا بند ہو جائیں گے۔ پی ٹی اے کے مطابق اس سروس کو استعمال کرنے کے لیے صارفین کو معمولی سے چارجز دینے ہوں گے۔

تنگ کرنے والوں کی کالز کیسے بلاک کرائی جائیں؟

اگر کسی خاتون کا فون نمبر نہ چاہتے ہوئے کسی کے پاس چلا گیا ہے تو اکثر ایسا ممکن ہے کہ اس طرف سے کالز آنی شروع ہوجائیں۔

ایسی کالز سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے موبائل فون میں ویسے تو بلاک کالز کا آپشن موجود ہوتا ہے جسے استعمال کرتے ہوئے ایسی کالز بلاک کی جاسکتی ہیں اور واٹس ایپ پر بھی اس سے متعلق فیچر موجود ہوتا ہے۔

لیکن اس کے علاوہ آپ موبائل کی نیٹ ورک سروسز استعمال کرتے ہوئے بھی انجانے شخص کی جانب سے کی جانے والی کالز یا میسجز کو بلاک کی جاسکتی ہیں۔

اس مقصد کے لیے اپنے نمبر سے 420 یا #420* ڈائل کرنا ہوگا جس کے بعد ایسی کالز کو بلاک ہوجاتی ہیں تاہم اس سروس کو استعمال کرنے کے بھی چارجز ادا کرنے ہوتے ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube