ہوم   > ٹیکنالوجی

ناساکی تصاویرمیں مریخ پر اجنبی مخلوق کےوجود کی نشاندہی

SAMAA | - Posted: Jan 1, 2020 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Jan 1, 2020 | Last Updated: 2 months ago

دنیا کے مختلف حصوں میں یو ایف او یا کسی اجنبی ‘دنیا’ سے مطالعاتی دورے پر آنے والی اڑن طشتری کو دیکھے جانے کی باتیں تو اکثر سننے میں آتی ہیں اور اس بات پر یقین رکھنے والے دوسرے سیاروں پر خلائی مخلوق کی موجودگی کے بارے میں دلائل دیتے بھی دکھائِ دیتے ہیں۔ اس مرتبہ ایسے ماہرین نے اپنے نظریات کے حق میں کچھ نئے ثبوت پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔

خلائی مخلوق کے وجود پر یقین رکھنے والے ماہرین نے ناسا کی جانب سے حال ہی میں جاری کردہ مریخ کی تصاویر میں کچھ ایسے ‘شواہد’ تلاش کئے ہیں جو ان کے بقول زمین کے علاوہ دیگر سیاروں پر بھی جانداروں کی موجودگی کا ثبوت ہیں۔

ایک غیر ملکی ویب سائٹ کی خبر کے مطابق خود کو ایلینزلائف کے ماہر ہونے کا دعوٰی کرنے والے اسکاٹ وارنگ کا کہا ہے کہ مریخ کی تصویر میں انگریزی حرف ‘بی’ کی شکل کا ایک حصہ نمایاں ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ مریخ کی تصاویر کا جائزہ لیتے ہوئے انہیں ایک ایسی کھردری سطح دکھائی دی ہے جو اس جگہ کان کنی کے باعث نمودار ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ انہیں ایک پہاڑی علاقے میں قریب قریب دو تعمیراتی اسٹرکچرز بھی نظر آئے اور ایک پہاڑی حصے پر کیپیٹل ‘بی’ لکھا ہوا ہے تاھم اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ انگریزی زبان کا حرف ہے بلکہ یہ وہاں کی مخلوق کے نزدیک کوئی بہت ہی اھمیت کی حامل علامت ہے۔

مزید پڑھیئے:  امریکہ میں اڑن طشتری دیکھے جانے کا دعویٰ

 وارنگ نے کہا کہ ان کے نزدیک وہ مریخ پر پایا جانے والا ‘بی’ نما حرف یا تو ایلینز کا کوئی علامتی نقشہ ہے یا ان کی کوئِ مخصوص نسل یا پھر ان کے کسی رہنماء کا نام ہے جو کبھی وہاں اس علاقے میں رہتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ یہ سب باتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ مریخ پر ایک اجنبی مخلوق رہ چکی ہے اور اس نے وہاں ترقی کی منازل بھی طے کیں۔

وارنگ نے مریخ کی ان تصاویر کو ایک سوفٹ ویئر کے مدد سے کئی گنا بڑا کر کے ان تمام باتوں کی نشاندہی کی ہے۔

انہوں نے ان تصاویر میں ‘بی’ نما شکل کے نزدیک ایک اور اسٹرکچر کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ اسے دیکھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کسی عمارت کی بنیاد لگتی ہے جو سرک کر اس پہاڑی پر آگئی ہے۔ یہ چیز اپنی سیدھی لائینوں کی وجہ سے خاصی نمایاں ہیں جو عموماً ایک عمدہ ڈیزائن میں دیکھنے میں آتا ہے۔
تاہم ناسا کے ماہرین کے مطابق مریخ پر جنوبی پہاڑیوں اور شمالی نشیبی علاقوں کے درمیان واقع یہ وادی ایک آبی گزرگاہ ہے جو زمانہ قدیم میں اس سیارے پر بڑے پیمانے پر رونما ہونے والے سیلابوں کی وجہ سے وجود میں آئی ہے۔

وارنگ نے ایک اور شکل جو تقریباً ایک مثلث نظر آتی ہے کا تزکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس جگہ 100 فیصدی کچھ دفن ہے۔

اپنے ان دلائل کو وارنگ نے یو ٹیب چینل پر بھی پیش کیا ہے جس نے بیشمار افراد کی توجہ حاصل کی ہے۔ ان کے دلائل کے حق میں کئی لوگوں نے اپنے کمینٹس بھی تحریر کئے ہیں۔ ان میں سے ایک کا کہنا ہے کہ یہ بات کوئی بھی ذی شعور سمجھ سکتا ہے کہ ناسا نے مریخ پر کئی برسوں سے جو مشن بھیجے وہ محض مٹی کھودنے کے لئے نِہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کوئِ تو وجہ ہوگی جو ہم نے چاند کی نسبت مریخ پر زیادہ وقت گزارا ہے۔ ایک اور نے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ یہ حقیقت ہے جب اس تصویر کو دوسری مرتبہ غور سے دیکھتے ہیں تو وہ ‘بی’ نما شکل ہی لگتی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وارنگ نے بہت اچھی تحقیق کی ہے اور انہوں نے جو نتائج نکالے ہیں وہ کمال کے ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube