ہوم   > ٹیکنالوجی

سندھ کی پہلی جدید ڈی این اے اور سیرولوجی لیب

2 weeks ago

یہ پاکستان میں اپنی نوعیت کی دوسری لیبارٹری ہے



جامعہ کراچی میں سندھ کی پہلی جدید ڈی این اے اور سیرولوجی لیبارٹری قائم کی گئی ہے جہاں ایک ماہ میں سو نمونوں کے تجزیے کیے جاسکتے ہیں۔ لیبارٹری سے دہشت گردی اور ریپ جیسے جرائم میں ملوث افراد کی شناخت میں مدد ملے گی۔


یہ سندھ میں اپنی نوعیت کی پہلی اور پاکستان میں دوسری فارنزک لیبارٹری ہے جسے جمیل الرحمن سینٹر فار جینومکس ریسرچ میں قائم کیا گیا ہے۔


منصوبہ سندھ فارنزک اتھارٹی کا حصہ ہے جس کے قیام کیلئے سپریم کورٹ کی جانب سے بھی احکامات جاری کیے گئے تھے۔


جامعہ کراچي انتظاميہ کے مطابق اس لیبارٹری کا موازنہ دنیا کی کسی بھی جدید فارنزک لیب سے کیا جاسکتا ہے۔


اسی حوالے سے بات کرنے کے لیے چيئرمين ريسرچ انسٹيٹيوٹ آف کيمسٹری جامعہ کراچي ڈاکٹر اقبال سماء کے پروگرام نیادن میں شریک ہوئے۔


ان کا کہنا تھا کہ ڈی اين اے ليبارٹری سندھ کی دوسری بڑی فارنزک لیب ہے جس سے جرائم کے کيسز کے فوری حل میں مدد ملے گی اور کیسز بہت آسانی کے ساتھ جلدی حل کیے جا سکیں گے۔


تجزیے کے اخراجات برداشت کرنے سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ یہ لیب لیگل سسٹم کا حصہ ہے اور اس کے اخراجات اٹھانے کی ذمہ داری سندھ گورنمنٹ کی ہوگی۔


اس ليبارٹری سے ڈيی اين اے ٹيسٹ کا نتيجہ ملنے کی مدت سے متعلق انہوں نے بتایا کہ عام طور پر ایک ہفتے میں تجزیہ مکمل ہوجاتا ہے کیونکہ یہ تحقیقی معاملہ ہے اس لیے اگر نمونے میں کوئی پیچیدگی نہ ہو تو ایک ہفتے میں تجزیہ مکمل ہوجاتا ہے۔


ڈي اين اے ٹيسٹ کرانے کا طريقہ کاراور اس حوالے سے عدالتی احکامات اور حکومتی اجازت سے متعلق سوال پر ڈاکٹر اقبال نے بتایا کہ لیب میں صرف انہی نمونوں کا تجزیہ کیا جائے گا جو سندھ حکومت یا کورٹ کی جانب سے بھیجے جائیں گے۔

 
TOPICS:

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں