ہوم   > ٹیکنالوجی

موت کے وقت کی پیشگوئی کرنے والا بلڈ ٹیسٹ

4 weeks ago

جرمن سائنسدانوں نے انقلابی پیشرفت دکھاتے ہوئے ایک ایسا بلڈ ٹیسٹ ایجاد کر لیا ہے جو انسان کی موت کے وقت کی تقریب درست پیشگوئی کرسکتا ہے۔

میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ آف بائیولوجی آف ایجنگ کے ماہرین نے مسلسل 16 سال تک 44 ہزار لوگوں کے خون کے نمونوں کی مدد سے انسانی موت پر اثر انداز ہونے والے 14 میٹا بولومک بائیو مارکرز دریافت کیے جو قوت مدافعت ، گلوکوز کنٹرول اور چربی سے جڑے اور انہیں کنٹرول کرتے ہیں۔

ان بائیو مارکرز (حیاتیاتی نشانات) کے تجزیے کے دوران پتہ چلا کہ یہ آئندہ 5 سے 10 سال کے دوران انسان کی موت واقع ہونے سے متعلق وقت کی 83 فیصد تک درست پیشگوئی کرتے ہیں۔

اس تحقیق میں حصہ لینے والوں کی عمریں 18 سے 109 سال کے درمیان تھیں جبکہ اس طویل عرصہ کے دوران 5 ہزار 512 افراد کی طبعی موت بھی ہوئی۔

محققین کے مطابق یہ ٹیسٹ خون کے دیگر ٹیسٹوں کے مقابلے میں زیادہ مستند اوربہترنتائج دینے والا ہے جو جلد ہی مریضوں کے بہترعلاج میں نہایت مددگار ثابت ہوگا۔ بائیو مارکرز کے تجزیہ و مشاہدہ کے دوران ان میں مختلف امائنو ایسڈ کے لیول، اچھے اور برے کولیسٹرول کی حد، فیٹی ایسڈ کا لیول، سوزش اور مجموعی امیون رسپانس کا جائزہ لیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق فی الحال یہ ٹیسٹ کلینکل سطح پر متعارف نہیں کرایا جا سکتا کیونکہ اسے عام لوگوں پر آزمانے سے قبل کچھ مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ سائنسدانوں کی تحقیق کلینڈر ایج کے بجائے بائیولوجیکل ہے جس سے بیماری کے خلاف مدافعتی قوت اورصحت یابی کے عرصہ کا تعین کرنے کے علاوہ علاج میں تیزی لانے میں بھی مدد ملے گی۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں