تھری ڈی بائیو پرنٹنگ ٹیکنالوجی سے انسانی دل کی تیاری ممکن

August 9, 2019
 

پٹسبرگ کی کارنیگی میلون یونیورسٹی میں ماہرین کی ایک ٹیم نے تھری ڈی بایو پرنٹنگ کی ایک نئی تکنیک کا عملی مظاہرہ کیا ہے جسے استعمال کرتے ہوئے مکمل دھڑکتا ہوا اور پوری جسامت والا زندہ انسانی دل پرنٹ کیا جاسکے گا۔

انسانی دل تیار کرنے کی اس کامیابی کو بایومیڈیکل انجینئرنگ کے شعبے میں نہایت اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے ۔ اس سے قبل اب تک چھوٹے چھوٹے ٹشوز کی بایو پرنٹنگ میں ہی کامیابی حاصل کی جاسکی تھی۔

ہفت روزہ تحقیقی جریدے ''سائنس'' کے تازہ شمارے میں بتایا گیا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو فریش کا نام دیا گیا ہے۔ کارنیگی میلون یونیورسٹی کی اس ٹیم نے یہ تکنیک پہلے 2015 میں استعمال کی تھی جس کو پختہ بنانے میں 4 سال لگ گئے۔

دنیا کا پہلا تھری ڈی پرنٹڈ دل تیارکرلیا گیا

نئی پیش رفت کے تحت ماہرین نے تھری ڈی بایو پرنٹنگ کے شعبے میں کئی مشکلات پر قابو پایا اور اس بات کو ممکن بنایا کہ تھری ڈی پرنٹر کی مدد سے پیچیدہ انسانی ٹشوز کو انتہائی باریک بینی اور درستگی کے ساتھ پرنٹ کیا جاسکے۔

 
 
 

ضرور دیکھئے