چینی کمپنی ہواوے کا امریکا کو سخت پیغام

May 21, 2019

امریکا اور چین کے درمیان ’ٹریڈ وار‘ کے باعث ٹیکنالوجی کمپنی ہواوے سے متعلق ایشیائی مارکیٹیں شدید تشویش کا شکار ہیں، امریکی حکام نے پابندی پر عملدرآمد میں 90 دن کی توسیع کردی، ہواوے کے مالک نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کو ان کی ’طاقت‘ کا صحیح اندازہ نہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی حکام کی جانب سے ہواوے پر پابندی کے فیصلے پر عملدرآمد کیلئے 90 دن کی رعایت کا اعلان کردیا گیا، اس دوران ہواوے کے پاس امریکی کمپنیوں کے ساتھ کاروبار جاری رکھنے کا عارضی لائسنس ہوگا۔

کامرس ڈیپارٹمنٹ کے فیصلے سے کاروباری طبقے پر دباؤ میں کمی آئے گی۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اقدام سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندی کے فیصلے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

یہ بھی پڑھیے : ہواوے فونز میں آئندہ گوگل ایپلی کیشنز نہیں چلیں گی

امریکی حکام کہتے ہیں کہ عارضی رعایت سے امریکی کمپنیوں کو متبادل تلاش کرنے میں مدد ملے گی جبکہ ساتھ ہی محکمے کو بھی وقت مل جائے گا کہ وہ ان امریکی اور غیر ملکی ٹیلی کام کمپنیوں کیلئے طویل مدتی اقدامات اٹھا سکے جو ضروری سروسز کیلئے ہواوے کی مصنوعات پر انحصار کرتی ہیں۔

امریکی صدر کے فیصلے کی روشنی میں گوگل نے بھی آئندہ ہواوے اسمارٹ فونز کیلئے اپیلی کیشنز پر پابندی عائد کردی، جس کے باعث لاکھوں یوزرز جی میل، یو ٹیوب اور گوگل میپ سمیت دیگر ایپلی کیشنز کی سہولت سے محروم ہوجائیں گے۔

مزید جانیے : حالات بات چیت کیلئے موزوں نہیں، ہمارا اختیار مزاحمت ہے، ایرانی صدر

ہواوے کمپنی کے مالک رین زینگ فی امریکی پابندیوں سے بالکل بھی پریشان نہیں لگتے، وہ مانتے ہیں کہ امریکا ہواوے کو انڈر ایسٹیمیٹ کر رہا ہے۔

اے ایف پی کے مطابق چینی سرکاری میڈیا سے بات کرتے ہوئے رین کا کہا تھا کہ امریکی سیاست دانوں کے اقدامات سے لگ رہا ہے کہ وہ ہماری طاقت کا درست اندازہ نہیں لگا پا رہے۔