فیس بک نے لائیو فیچر تک رسائی محدود کر دی

May 15, 2019

فیس بک نے لائیو ویڈیو اسٹریمنگ تک رسائی محدود کردی، فیچر کے استعمال پر سخت اصول بھی لاگو کردیئے گئے۔

فیس بک کا یہ اقدام ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں مساجد پر حملوں کے بعد عالمی رہنماء آن لائن تشدد دکھانے پر پابندیاں لگانے کیلئے اکھٹے ہورہے ہیں۔

یاد رہے کہ 15 مارچ کو نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں حملہ آور نے 51 افراد کو 2 مساجد پر حملے کرکے شہید کردیا تھا، قاتل نے حملے کو فیس بک کے ذریعے صارفین کو براہ راست دکھایا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق فیس بک کا اپنے بیان میں کہنا ہے کہ وہ لائیو اسٹریمنگ کے استعمال کیلئے ایک ایسی پالیسی متعارف کرانے جا رہا ہے جس کے تحت ان صارفین کو اس فیچر تک عارضی طور پر رسائی نہیں ہوگی جنہیں کمپنی کے سنجیدہ نوعیت کے قوانین اور اصولوں کو توڑنے پر تادیبی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا ہو۔

فیس بک کے مطابق ابتدائی طور پر قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب ہونے والے صارف کو مختصر مدت کیلئے لائیو فیچر کے استعمال سے روک دیا جائے گا، ادرے نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ تعطل کب تک برقرار رہے گا تاہم فیس بک ترجمان کا کہنا ہے کہ نئے قوانین کے تحت مسلح شخص کا اپنے اکاؤنٹ سے لائیو جانا ممکن ہی نہیں ہوسکتا تھا۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ آئندہ کچھ  ہفتوں میں ان پابندیوں کے دائرہ کار کو مزید بڑھانے کا بھی ارادہ رکھتی ہے، یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ’فیس بک تین یونیورسٹیوں کو ایسی ویڈیوز جن میں حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہو، کی نشاندہی سے متعلق کی جانے والی تحقیق کیلئے فنڈز فراہم کرے گا۔

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جسینڈا آرڈرن نے سوشل میڈیا کے مواد کی تحقیق کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے، وہ کہتی ہیں کہ کرائسٹ چرچ حملے کی ویڈیوز کو فیس بک سے بہت تاخیر سے ہٹایا گیا۔

فیس بک کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اس نے حملے کے 24 گھنٹے بعد ہی حملے کی فوٹیج پر مبنی 1.5 ملین ویڈیوز ہٹادی تھیں۔ مارچ کے اواخر میں ایک بلاگ پوسٹ میں کہا گیا تھا کہ ویڈیو کے 900 مختلف ورژن کی نشاندہی کرلی گئی ہے۔