بھارت میں ٹک ٹاک پر پابندی لگانے کا فیصلہ

April 17, 2019

بھارتی حکومت نے ایپل اور گوگل کو ایپ اسٹور سے ٹک ٹاک موبائل ایپ ہٹانے کیلئے حکم نامہ جاری کردیا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی جانب سے جاری رپورٹس کے مطابق بھارتی حکومت نے موبائل فون کے اسٹیٹس کیلئے استعمال ہونے والی ایپ ٹک ٹاک پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔

بھارتی سپریم کورٹ نے پابندی لگانے سے متعلق فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے مدراس ہائی کورٹ کا اسٹے آرڈر معطل کردیا۔ ایک اندازے کے مطابق بھارت میں تقریباً ایک کروڑ چالیس لاکھ افراد ٹک ٹاک استعمال کر رہے ہیں۔

بھارتی سائننس اینڈ ٹیکنالوجی کی وزارت کا کہنا ہے کہ جن لوگوں کے موبائل میں ٹک ٹاک ڈاؤن لوڈ ہے وہ اس کا استعمال کرسکیں گے، تاہم وہ صرف جو اسے پہلی دفعہ ڈاون لوڈ کرکے استعمال کرنا چاہتے ہیں، وہ اسے ڈاون لوڈ نہیں کرسکے گا۔

 

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس ایپ کو دنیا کے مختلف ممالک میں بند کیا جا چکا ہے، یہ بچوں کے لیے خطرناک ایپ تصور کی جاتی ہے۔

ٹک ٹوک کو چین نے 2016کے ستمبر میں لانچ کیا تھا۔ دو سال میں ٹک ٹوک نے شہرت کی بلندیوں کو چھو لیا، اتنی شہرت فیس بک اور یوٹیوب کو بھی حاصل نہیں ہوئی۔ دوسال میں اس ایپ کو 500 ملین پلس لوگوں نے ڈاؤن لوڈ کیا ہے، دنیا کے 150 ممالک کے لوگ اس کو استعمال کرتے ہیں۔

ٹک ٹوک پر نوجوان بچے 15 سکینڈ کی ویڈیو شئیر کرکے مشہور ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس ایپ نے کم وقت میں بہت شہرت حاصل کی ہے، اس ایپ نے بچوں کو شارٹ فلم بنانے کے بہت اچھے فیچرز مہیا کیے ہیں لیکن یہ ایپ کوئی بزنس پلان دینے میں ناکام رہی ہے، اس کے ساتھ ساتھ ٹک ٹوک شارٹ ٹرم کنٹینٹ کی حوصلہ افزائی کرتا ہے جب کہ دنیا میں ایسی کوئی سروس موجود نہیں ہے۔

ٹیکنالوجی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کی سلیکون ویلی کو چینی ڈویلپرز سے سیکھنا چاہیے کہ انہوں نے کیسے اپنی ایپس کو دنیا بھر میں وائرل کر دیا ہے، اس ایپ نے بہترین سروس مہیا کی ہے اس کے ساتھ اس کے کنٹینٹ کی اینگینجمنٹ بہت اعلیٰ ہے۔