گھر سے کام کرکے 22 سالہ نوجوان لاکھوں روپے کمانے لگا

January 10, 2019
 

 

 

سال 2016 میں محمد معاویہ نے جب سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ میں داخلہ لیا تھا تو اس کو اندازہ نہیں تھا کہ آئی ٹی میں ڈپلوما کرنے سے اس کی قسمت بدل جائے گی۔ اس وقت وہ جونیئر کارپینٹر تھا اور 8 ہزار روپے ماہانہ کماتا تھا،اس نے 18 ماہ کی محنت سے 50 ہزار ڈالر کمالئے ہیں۔

کراچی کا یہ نوجوان صرف میٹرک پاس ہے اور گھر بیٹھے ایک بینک مینجر سے زیادہ پیسے کماتا ہے۔ اس کی شروعات کچھ یوں ہوئی جب اس کو سیلانی ویلفئیر ٹرسٹ میں ایک آئی ٹی کورس کی اطلاع ملی۔ وہ وہاں اپنے والد کے ساتھ  کارپینٹرکا کام کررہا تھا۔ اس کو اس کورس کا کوئی اندازہ نہیں تھا مگر اس نے داخلہ لے لیا۔ 22 سالہ محمد معاویہ نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ پہلے 6 ماہ میں اس کو کافی دقت کا سامنا رہا اور کچھ سمجھ نہیں آیا۔ اس نے اگلے سمسٹر میں ایک اور کورس میں داخلہ لیا۔ اس کے بعد اس کی پیناکلاؤڈ نامی کمپنی میں انٹرن شپ ہوئی،یہ ایک سافٹ وئیر بنانے والا ادارہ ہے جہاں آرٹیفیشل اینٹلی جنس پر توجہ دی جاتی ہے۔

اس انٹرن شپ کے دوران معاویہ کو اپ ورک ڈاٹ کام میں پہلا پروجیکٹ ملا جو ایک ویب سائٹ کو فری لانس تیار کرنا تھا۔ اس کے کلائنٹ نے اس کے کام سے متاثر ہوکر اس کو فائیو اسٹار ریٹنگ دی اور اس کے بعد وہ ترقی کرتا چلا گیا۔ اگلے 18 ماہ میں اس نے 2 ہزار ڈالر فی ماہ یعنی 2 لاکھ 80 ہزار روپے اوسطا کمائے۔

جب سماء ڈیجیٹل نے اس سے بات کی تو معاویہ کا شمار گٹ حب ڈاٹ کام میں سب سے ٹاپ پر تھا۔ یہ ویب سائٹ پاکستان میں فری لانس کام کرنے والوں کی آن لائن ڈائری کو دیکھتی ہے۔

ہر کوئی اس قدر نہیں کماتا،معاویہ کے سینئرزاس سے کہیں زیادہ کمارہے ہیں۔ مثال کے طور پر پیناکلاؤڈ کے مینیجنگ ڈائریکٹر دانیال ناگوری ایک سال میں ایک لاکھ ڈالر سے زیادہ کماتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ  ہے کہ وہ ہر ماہ 8 ہزار ڈالر یعنی 10 لاکھ روپے کماتے ہیں۔

معاویہ اور ناگوری جیسے ہونہار لوگ پاکستان میں ان 2 لاکھ لوگوں کے نیٹ ورک کا حصہ ہیں جو فری لانس ڈیولپرز ہیں۔ان میں سے کچھ فری لانس کام کرنے والے سالانہ 5 ہزار ڈالر کمارہے ہیں مگر سیکورٹی بنیادوں پر سامنے نہیں آرہے۔

آئی ٹی ٹریننگ پروگرام کے سرکردہ ٹرینر ناصر حسین نے بتایا کہ آئی ٹی سروسز کی مقامی اور بین الاقوامی مارکیٹ میں بہت ڈیمانڈ ہوتی ہے۔ جب آپ ایک پروجیکٹ سے 2 ہزار ڈالر کماتے ہیں تو یہ کام ایک ہفتے میں ختم ہوسکتا ہے۔ اس لئے لوگ فل ٹائم جاب کی جانب نہیں جاتے۔

یہ چھوٹا سا کام پاکستان بھر میں پھیل چکا ہے۔ صدر عارف علوی نے ایک پروگرام متعارف کروایا ہے جس کا نام پریزیڈینشل انیٹیوٹیو فار آرٹیفیشل اینٹلی جنس اینڈ کمپیوٹنگ ہے۔ اس پروگرام کے تحت نوجوانوں کو آئی ٹی کی تعلیم دی جائے گی۔

آئی ٹی انڈسٹری کے ماہرین کے مطابق اس صنعت میں ٹیکسٹائل کے بعد دوسری بڑی صنعت بننے کی صلاحیت ہے۔ عالمی مارکیٹ میں 200 ارب ڈالر کا شئیر رکھنے والی صنعت میں پاکستان کا حصہ ایک ارب ڈالر ہے۔ پاکستان میں آئی ٹی کا رجحان فروغ پارہا ہے۔ پاکستان میں آئی ٹی کا شعبہ سال 2013 سے سال 2016 کے درمیان 71 فیصد ترقی کرگیا ہے۔ یہ تعداد جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ ہے۔ یہ اعدادوشمار پاکستان سافٹ وئیر ایکسپورٹ فورڈ کی جانب سے دئیے گئےہیں۔ پاکستانی حکومت کا ہدف ہے کہ آئی ٹی ایکسپورٹ کو سال 2025 تک 10 ارب ڈالر تک لے جایا جائے۔

 
 
 

ضرور دیکھئے