اسمارٹ فونز اور کمپیوٹرز کی ہیکنگ کا کام عروج پر

December 4, 2018

 

اسمارٹ فونز اور کمپیوٹر استعمال کرنے والوں کے لیے بھارت سمیت مختلف غیرملکی ہیکرز نے خطرناک جال پھیلا دیا۔عام شہریوں کے ساتھ کارپوریٹ سیکٹر بھی محفوظ نہیں ۔ حساس معلومات اور بینک اکاؤنٹس کا ڈیٹا ہیک ہوتا ہے تاہم اس سے بچنے کا طریقہ بھی موجود ہے۔

انٹرنیٹ کی دنیا میں سائبر وار جاری رہتی ہے۔ پاکستان میں ہیکرز کے پے در پے حملے  آج کل عام ہیں۔ بھارتی ، بنگالی، روسی اور آسٹرین ہیکرز نے حملوں کی یلغار کی ہوئی ہے۔

معروف شخصیات سمیت ٹیکسٹائل و لیدر انڈسٹری نشانے پرہے۔ان واقعات میں ہرسال 50 فیصد تک اضافہ ہونے لگا ہےمگراس معاملے میں پاکستانیوں کی معلومات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ موبائل فون ، لیپ ٹاپ یا کمپیوٹرصارف ہے اور ان کی یہ ڈیوائسز ہیکرز سے محفوظ  نہیں۔ موبائل فون پر موصول ہونے والا ایک ایس ایم ایس یا بظاہرکسی ویب سائٹ کا کوئی لنک ہیکرز کا جال ہوسکتا ہے۔بس کلک کرنے کی دیر ہوتی ہے اورآپ کا موبائل فون ہیکرزکی پہنچ میں ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ہیکنگ کی دنیا میں اس کام کیلئے ٹروجن ہارس اوراسپائی وئیرجیسے سافٹ وئیراستعمال ہورہے ہیں۔

لوگوں کی ڈیوائسزسے چوری ہونے والا ڈیٹا  ڈارک ویب کا حصہ بن جاتا ہے، بینک اکاؤنٹس ہیک ہونے کی صورت میں انہیں اپنی جمع پونجی سے ہاتھ دھونا پڑتے ہیں ۔

سائبرکرائم کے خطرات پبلک و پرائیویٹ سیکٹرکے ساتھ عام شہریوں کے سر پر بھی منڈلا رہے ہیں لیکن ان سے بچا جاسکتا ہے۔ ماہرین سمجھتے ہیں کہ صارف جس لگاؤ سے مہنگے موبائل اور جدید سے جدید کمپیوٹرز کا چناؤ کرتے ہیں،اسی احتیاط سےسافٹ وئیراورمختلف ایپس ڈاؤن لوڈ کرتے وقت بھی کرنی چاہئے ۔

آن لائن خرید وفروخت میں اضافے کے بعد پاکستان پرہیکرزکی یلغارسے بچنے کےلیے صارفین کو محتاط رہنا ہوگا۔