مستقبل میں پائلٹس جنگی ہیلی کاپٹر نہیں اڑائیں گے

December 2, 2018

معروف طیارہ ساز کمپنی سیکور اسکائی کی جانب سے مستقبل کے جدید ہیلی کاپٹرز سے متعلق ایک رپورٹ شائع کی ہے، جس میں ہیلیز کو جدید اسلحہ اور ٹیکنالوجی سے لیس دکھایا گیا ہے۔

معروف کمپنی سیکور اسکائی نے جدید ٹیکنالوجی سے لیس ایکس ٹو ہیلی کاپٹر کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ ہیلیز موجود ہیلی کاپٹرز سے زیادہ تیز رفتار، خاموش اور اکثر بغیر پائلٹ کے پرواز کرسکیں گے۔

یہ ہیلی کاپٹر 280 کلو میٹر فی گھنٹہ سے زیادہ کی رفتار سے پرواز کر سکیں گے۔ سیکور اسکائی کے تیار کردہ ان جدید ایکس ٹو ٹیکنالوجی کے حامل ہیلی کاپٹرز میں دو روٹر بلیڈز ہیلی کاپٹر کے بلکل اوپر مگر ایک دوسرے کی مخالف سمت میں نصب ہونگے۔

ہیلیز میں نصب یہ بلیڈ انہیں اڑنے میں مزید مدد فراہم کریں گے، جس سے ہیلی کاپٹرز کی آواز کم اور انہیں مختلف ڈائریکشن میں اڑنے میں مدد مل سکے گی۔ مذکورہ امریکی کمپنی سیکور اسکائی ایکس ٹو کے مزید دو ورژنز پر کام کر رہی ہے، جس میں سے ایک کا نام ایس -97 رائیڈر ہے، اس میں ہیلی میں بیک وقت 6 مسافر سوار ہوسکیں گے۔

سیکور اسکائی کے تیار کردہ دوسرے ہیلی کا نام ایس بی 1 ڈیفینٹ رکھا گیا ہے، جس پر بوئنگ کے اشتراک سے کام جاری ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ایکس ٹو ٹیکنالوجی کے علاوہ ایسے اور بہت سے طریقے ہیں، جن کی مدد سے آپ ہیلی کاپٹر کی رفتار کو مزید تیز کرسکتے ہیں۔

معروف ایوی ایشن کمپنی بیل کے مطابق اس نے ایک ایسا ہیلی تیار کیا ہے، جس میں ہیلی کے پر آگے کی جانب جھکے ہوئے ہیں۔ ہیلی میں نصب اس کے دونوں روٹر اس کے پروں میں مخالف سمتوں میں لگے ہیں۔ جو عمودی اور اگے کی جانب مختلف زاویوں سے حرکت کرسکتے ہیں۔

بیل کی تیار کردہ ٹوئن روٹر کی حامل نئی مشن کو وی 280 ویلر کا نام دیا گیا ہے، جو 520 کلو میٹر فی گھنٹہ کی سپر رفتار سے اڑ سکتا ہے، جب کہ اس کی رینج 4000 کلو میٹر ہے۔ اس ہیلی میں آٹو پائلٹ کا آپشن بھی شامل کیا گیا ہے، جب کہ مستقبل میں ایسے تمام جدید ہیلی کاپٹروں کو الیکٹرک کرنے پر بھی غور جاری ہے، جس میں ہیلی کاپٹروں کو بیٹری سے منسلک کیا جائے گا۔

یہ جدید ٹیکنالوجی نہ صرف ہیلی کاپٹرز کو فضا میں محو پرواز رکھنے میں مدد دے گی، بلکہ انہیں آگے بڑھانے میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔ یہ جدید ٹیکنالوجی اس وقت امریکی فوج کے زیر استعمال ہے۔ دونوں کمپنیز کی جانب سے آٹو میٹڈ ہیلیز پر تیزی سے کام جاری ہے، جن کے مارکیٹ میں آنے سے ڈرونز اور ہیلی کاپٹر میں کسی حد تک فرق ختم ہو جائے گا۔