مشینوں اور سافٹ ویئر ٹیکنالوجی کے ذریعے کاشت کاری

November 6, 2018

ایک نئے روبوٹ کے فارم پر مشینیں’دی برین‘نامی سافٹ ویئر کی زیرنگرانی ہرے پتے کی سبزیوں کی دیکھ بھال کررہی ہیں۔

آئرن آکس نامی کمپنی دوسری روبوٹکس کمپنیوں سے بہت مختلف ہے، وہ آپ کو ٹیکنالوجی بیچنے کے بجائے کھانا بیچنے کی کوشش کررہی ہے۔ اس کمپنی کے شریک بانی برینڈن الیکسینڈر کا کہنا ہے "ہم ایک فارم ہیں اور ہم ہمیشہ فارم ہی رہیں گے "۔

تاہم یہ کوئی عام فارم نہیں ہے اس کمپنی میں صرف 15 انسانی ملازمین ہیں، اور باقی ملازمین روبوٹس ہیں جو ہرے پتوں کی سبزیوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔

آئرن آکس سین فرینسسکو کے قریب سین کارلوس میں اپنا کارخانہ کھول رہے ہیں، آٹھ ہزار مربع فٹ کے رقبے پر پھیلا یہ ہائیڈروپونک کارخانہ ان کے دفاتر سے منسلک ہے، اور ان کی سالانہ پیداوار تقریباً 26000 سبزیاں ہوگی، یہ پانچ گنا بڑے فارم کی پیداوار کے برابر ہے۔ یہ کمپنی ایک مکمل طور پر آزاد فارم کا خواب دیکھ رہی ہے، جس میں انسانی زراعتی ملازمین کے بجائے، سافٹ ویئر اور روبوٹکس کا استعمال کیا جائے گا۔

آئرن آکس نے اب تک اپنے پیدا کردہ پھل اور سبزیاں فروخت کرنا شروع نہیں کیا ہے لیکن وہ مقامی ریستوران اور سبزی فروشوں کے ساتھ مذاکرات کررہی ہے۔فی الحال ان کے سلاد کے پتے ایک مقامی فوڈ بینک کو بھجوائے جارہے ہیں اور ان کے سلاد بار میں استعمال ہورہے ہیں۔

اس فارم کا غیرانسانی عملہ روبوٹک پرزوں پر مشتمل ہے۔ یہ پرزے پودوں کو ہائیڈروپونک ٹریز سے نکال کر بڑی ٹریز میں منتقل کرتے رہتے ہیں، جس سے ان کی صحت اور پیداوار دونوں ہی بہتر ہوتے ہیں، جو کسی عام فارم کے لیے ممکن نہیں ہے۔ آٹھ سو پونڈ وزن رکھنے والی پانی سے بھری ٹریز کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کے لیے بڑے میکانیکی آلات کا استعمال کیا جاتا ہے۔

پہلے تو ان مختلف مشینوں سے ایک ساتھ کام کروانا بہت پیچیدہ ثابت ہورہا تھا، الیکسینڈر نے بتایا "ہم مختلف روبوٹس سے مختلف کام کروارہے تھے، لیکن انہیں ایک ہی تخلیقی ماحول میں ضم نہیں کیا گیا تھا"۔

یہی وجہ ہے کہ آئرن آکس نے اس رابطے کو بہتر بنانے کے لیے "دی برین"نامی سافٹ ویئ تیار کیا ہے، جو فارم پر کڑی نظر رکھتے ہوئے، نائٹروجن، درجہ حرارت اور روبوٹ کے لوکیشن کی نگرانی کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، وہ حسب ضرورت روبوٹس اور انسانوں دونوں ہی کی توجہ بھی کھینچتا ہے۔