اب عدالتیں بھی آن لائن دستیاب ہونگی

Samaa Web Desk
September 11, 2018

چین میں اسی کروڑ انٹرنیٹ صارفین کے آن لائن مسائل کے حل کیلئے دوسری آن لائن عدالت لگا دی ہے۔

خبر رساں ایجنسی کی جانب سے جاری رپورٹس کے مطابق آن لائن شاپنگ‘ خدمات کے حصول‘ کاپی رائٹس اور ڈومین کی ملکیت سے متعلق جھگڑوں، شکایات اور حل کیلئے چین میں دوسری آن لائن عدالت قائم کردی گئی ہے، جہاں صارفین کی کاروباری ٹرانزیکشنز، ذاتی معلومات اور انٹیلیکچوئل پراپرٹی آن لائن سے متعلقہ کیسز کی سماعت ہوتی ہے۔

ہفتہ کے روز ’’بیجنگ انٹرنیٹ کورٹ‘‘ کے نام سے چین کے شہر بیجنگ میں دوسری عدالت کا قیام عمل میں لایا گیا۔

رواں سال کے پہلے آٹھ ماہ میں چین کی پہلی انٹرنیٹ عدالت میں 37 ہزار سے زائد کیس دائر کئے گئے، جو تعداد میں گزشتہ برس کے مقابلے میں چوبیس فیصد زیادہ ہیں۔

بیجنگ انٹرنیٹ کورٹ چوبیس گھنٹے کام کرتی ہے، جس میں 38 سینیر جج تعینات ہیں۔ تعینات ججز کا ٹرائل کورٹس کا فی کس تجربہ کم از کم دس برس ہے۔

گزشتہ برس چین کے شہر ہانگ زو میں پہلی انٹرنیٹ عدالت قائم ہوئی تھی، جب کہ تیسری انٹرنیٹ عدالت چین کے جنوبی شہر گوانگ زو میں اسی ماہ قائم کر دی جائے گی۔