ٹیلی گرام ایپ پر پھر پابندیاں لگانے پر غور

September 2, 2018

روسی حکومت کی جانب سے ایک بار پھر میسجنگ کی مشہور موبائل ایپ ٹیلی گرام پر پابندی عائد کرنے پر غور شروع کردیا گیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق روسی حکام کی جانب سے مزید نئی ٹینکنالوجی استعمال کرکے ٹیلی گرام کا روس میں استعمال بند کیا جائے گا۔ اس سے قبل بھی روس میں ٹیلی گرام ایپ کو بند کیا جا چکا ہے، تاہم مستقل بنیادوں پر اسے بلاک کرنے کیلئے روس حکام کو ابھی مزید محنت کی ضرورت ہے، تاکہ دیگر ایپلیکیشنز کو متاثر کیے بغیر ٹیلی گرام کے ٹریفک کو روکا جا سکے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ تقریبا 200 ملین کے قریب ٹیلی گرام صارفین اس وقت دنیا میں موجود ہیں۔ روس اور ایران سمیت دیگر ممالک میں یہ ایپلیکیشن مقبول ہے اور اسے مشہور ایپ واٹس ایپ کا متبادل کہا جاتا ہے۔

روس حکام کی جانب سے ٹیلی گرام پر پہلی پابندی اس وقت لگائی گئی جب متعلقہ ایپ کی جانب سے روسی حکام کو صارف کے میسجز تک رسائی کی درخواست مسترد کی گئی، جس کے بعد اپریل میں روس نے اس ایپلیکیشن کو بلاک کرنے کے اقدامات شروع کردیئے، تاہم اسے کامیابی نہ مل سکی، جس کے بعد روس نے متبادل کے طور پر وائبر پر وائس کالز، کلاوڈ بیس ایپ اور دیگیر چینی کمپنیز کے کیمروں کے استعمال پر پابندی عائد کی۔

اگست کے ماہ میں بھی روسی کمیونیکیشن واچ ڈاگ اور ریاستی سیکیورٹی ایجنسی کی جانب سے ایسے منفرد ڈیزائنز اور ٹینکالوجی پر کام کیا گیا، جس کے ذریعے صرف ٹیلی گرام کو بلاک کیا جاسکے گا اور اس سے دیگر ایپ کا ٹریفک متاثر نہیں ہوگا۔

اس سے قبل روسی حکام کی جانب سے ٹیلی گرام کو بند کرنے کیلئے آئی پی ایڈریسز کو ٹارگٹ کیا گیا، تاہم اس سلسلے میں کوئی خاطر خواہ کامیابی نہ مل سکی۔

نئی ٹیکنالوجی ڈیپ پیکٹ انسپکشن کے ذریعے روسی حکام کا دعوی ہے کہ وہ یہ ایپ روس میں بلاک کرسکیں گے، جس ایپ کے ذریعے حکام انفرادی ایپ کو موصول ہونے والا ڈیٹا مانیٹر کرسکیں گے۔

ٹیلی گرام کی خاص بات

ٹیلی گرام کی پہلی خاص بات تو یہ ہے کہ یہ اوپن سورس کے تحت مفت دستیاب ہے۔ اس کا اوپن سورس ہونا سکیوریٹی کے تمام خدشات کو ختم کر دیتا ہے۔ اس کے علاوہ انتہائی سادہ اور برق رفتار ہونا اس کی دوسری خوبی ہے۔ گروپ چیٹ کے معاملے میں بیک وقت 200 لوگوں کا گروپ بنا کر چیٹ کی جا سکتی ہے۔ ایک جی بی تک کی وڈیو، لاتعداد تصاویر اور میڈیا فائلز وغیرہ اس کی مدد سے بھیجی اور موصول کی جا سکتی ہیں۔

یہ موبائل ایپ ٹیلی گرام اکتوبر 2013 میں منظر عام پر آئی۔ سکیوریٹی کے معاملے میں حساس لوگوں کے لیے انکرپٹڈ سیکرٹ چیٹ کا آپشن بھی موجود ہے۔

ٹیلی گرام میں پیغامات کی مکمل سکیوریٹی کے لیے انکرپٹڈ سسٹم متعارف کروایا گیا ہے۔ حتیٰ آپ ایسے میسج بھی بھیج سکتے ہیں جو آگے فارورڈ نہیں کیے جا سکتے۔ ایسا کوئی فیچر وٹس ایپ میں موجود نہیں۔ ٹیلی گرام کے ذریعے پیغامات پر ٹائم سیٹ کیا جا سکتا ہے اور مقررہ ٹائم کے بعد وہ پیغام موصول کرنے والے کے ان باکس سے خود بخو دڈیلیٹ ہو جاتا ہے۔

ٹیلی گرام اینڈروئیڈ، آئی او ایس، ونڈوز فونز کے علاوہ ونڈوز پی سی اور لینکس کے لیے بھی دستیاب ہے۔ لیکن فی الحال یہ ورژنز بیٹا یعنی زیرِ تکمیل ہیں، جن میں کچھ خرابیاں ہو سکتی ہیں۔ ونڈوز پر اسے استعمال کرنے کے لیے اس کا ڈیسک ٹاپ ورژن بھی اس کی ویب سائٹ سے ڈاؤن لوڈ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اسے استعمال کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے ٹیلی گرام فون پر انسٹال کر کے اکاؤنٹ بنایا جائے۔