امریکا کاایف22ریپٹر کی ناکامی کےبعد ہائیپرسونک ہتھیاروں پرکام

Ambreen Sikander
August 21, 2018

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

امریکا کی جانب سے آواز کی رفتار سے تیز ایف 22 ریپٹر طیاروں کی ناکامی کے بعد اب ہائپر سونک کنویشنل اسٹرئیک ویپن (ایچ سی ایس ڈبلیو) اور ایئر لانچڈ ریپڈ رسپانس ویپن (اے آر آر ڈبلیو) پر کام شروع کردیا ہے۔

جدید ہتھیاروں کی دوڑ میں امریکا کسی طور پر دیگر ممالک سے پیچھے نہیں رہنا چاہتا ہے، یہ ہی وجہ ہے کہ امریکی ایئرفورس کی جانب سے حال ہی میں معروف اسلحہ ساز کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کو اس سپر فاسٹ ہتھیاروں کی تیاری کے آرڈر دیئے گئے ہیں۔

امریکی ایئر فورس کی جانب سے گزشتہ چار ماہ کے دوران 1.4 بلین امریکی ڈالر اس منصوبے پر لگائے جا چکے ہیں، جسے لاک ہیڈ مارٹن تیار کر رہا ہے، تاہم اس منصوبے کی کل لاگت کا فی الحال تعین نہیں ہوسکا۔

اس سے قبل اپریل کے مہینے میں امریکی ایئرفورس کی جانب سے 928 امریکی ملین ڈالر لاگت کے منصوبے کا اعلان کیا گیا، جس کے بعد گزشتہ ہفتے ایئر فورس کی جانب سے 480 ملین ڈالر کے ایک اور نئے منصوبے کا اعلان سامنے آیا۔

 

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ یہ ہائپر سونک ہتھیار آواز کی رفتار سے بھی 5 گنا تیز رفتار سے سفر کرسکے گا، یہ ہتھیار بین الابراعظمی میزائل اور دیگر تیز رفتار ہتھیاروں سے مختلف ہونگے۔