برطانیہ میں فیس بک کو بھاری جرمانہ

Samaa Web Desk
July 12, 2018
 

صارفین کا ڈیٹا غیر قانونی طور پر استعمال کرنے (کیمبرج اینالیٹیکا اسکینڈل) کی پاداش میں برطانوی حکام نے سوشل میڈیا ویب سائٹ فیس بک پر 6 لاکھ 63 ہزار ڈالرز جرمانہ عائد کر دیا ہے۔

جرمانے کی رقم فیس بک کے لیے کوئی خاص معنی نہیں رکھتی کیونکہ وہ ہر 7 منٹ میں اتنا کما لیتی ہے، مگر یہ کمپنی کے اس پرائیویسی اسکینڈل کے حوالے سے سزاﺅں کا نقطہ آغاز قرار دیا جاسکتا ہے۔

اس اسکینڈل کے نتیجے میں فیس بک کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی تھی کے باعث فیس بک کے شیئرز کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی جبکہ فیس بک کے بانی مارک زکربرگ کو امریکی قانون سازوں کے سامنے پیش ہونا پڑا۔

واضح رہےکہ کیمبرج اینالیٹیکا ایک برطانوی کمپنی تھی، جسے 2016 کے امریکی صدارتی انتخابات کے دوران امیر ریپبلکن ڈونرز کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کے لیے سرمایہ فراہم کیا گیا۔

فیس بک کے مطابق اس کمپنی نے 8 کروڑ 70 لاکھ فیس بک صارفین کا ڈیٹا حاصل کرکے اسے استعمال کیا۔ برطانوی ادارے نے تحقیقات کے دوران دریافت کیا کہ فیس بک لوگوں کی معلومات کی حفاظت کے قانون کو پورا کرنے میں ناکام رہی جبکہ صارفین کو بھی آگاہ نہیں کیا گیا کہ ان کی معلومات دیگر کمپنیاں استعمال کررہی ہیں۔

دوسری جانب فیس بک کے چیف پرائیویسی آفیسر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ کمپنی اس رپورٹ کا جائزہ لے رہی ہے اور جلد ہی اپنا موقف سامنے لائیں گے۔

فیس بک کو اس معاملے پر اس وقت مختلف یورپی ممالک، امریکی فیڈرل ٹریڈ کمیشن اور مختلف اداروں کی جانب سے تحقیقات کا سامنا ہے۔