خون کا ٹیسٹ اب موت کی پیش گوئی کرے گا

Noor Ul Huda Shaheen
July 10, 2018

امریکی سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے بلڈ ٹیسٹ کا ایسا طریقہ کار تیار کیا ہے جس کے ذریعے پیش گوئی کی جاسکتی ہے کہ کسی فرد کی کتنی زندگی باقی ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اس ٹیسٹ سے لوگوں کو حقیقی خطرے سے آگاہ کرنے میں مدد مل سکے گی اور ایسے عناصر کو مانیٹر کیا جاسکے گا جو مستقبل میں خطرہ بن سکتے ہیں۔

یہ تحقیق امریکا کی یالے یونیورسٹی کے محققین نے کی ہے اور انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ کسی فرد کی عمر کے حوالے سے پیش گوئی کرنے والا یہ بلڈ ٹیسٹ انتہائی مستند، عملی اور آسان ہے۔

اس بلڈ ٹیسٹ میں 9 بائیو میکرز کو دیکھا گیا اور اس کا اطلاق ماضی کی متعدد طبی تحقیقی رپورٹس کے ڈیٹا سے کیا گیا۔

اس کے بعد ایک الگورتھم کو استعمال کرکے 9 بائیومیکرز جیسے خون کے سفید خلیات وغیرہ کے مطابق پیشگوئی کی گئی۔

محققین کا کہنا تھا کہ یہ ٹیسٹ کسی فرد کی عمر کی بہتر پیش گوئی میں مددگار ہے کیونکہ یہ انسانی جسم کے اندر عمر بڑھنے کے اثرات کا جائزہ لیتا ہے۔

سائنس دانوں نے کہا ہے کہ مستقبل قریب میں اسے عملی طور پر آزمایا جاسکے گا تاہم جینیاتی ٹیسٹ کی بجائے یہ نتائج ’پتھر پر لکیر‘ کی طرح نہیں ہوں گے۔ اس میں اونچ نیچ ہوسکتی ہے۔

یالے یونیورسٹی کے محققین اب ان عناصر کا تعین کرنا چاہتے ہیں جن کی وجہ سے خلیات کی عمر بڑھتی ہے تاکہ لمبی عمر کے لیے لوگوں کی مدد کی جاسکے۔

محققین کے مطابق اب اگلے قدم میں ایسے اقدامات کو تشکیل دیا جائے گا جو بتائے گا کسی فرد کا طرز زندگی ان کی بائیولوجیکل عمر کو کتنی تیزی سے بڑھا سکتا ہے۔