آپ کا لیپ ٹاپ اور موبائل آپ کی خفیہ تصاویر اور ویڈیوز بناتا ہے؟

July 6, 2018

ہوسکتا ہے کہ آپ کے اسمارٹ فون آپ کی باتیں نہ سنتے ہوں مگر وہ خفیہ طور پر سب کچھ دیکھ سکتے ہیں جو آپ کررہے ہوتے ہیں۔ جی ہاں امریکی محققین نے دریافت کیا کہ اسمارٹ فون اپلیکشنز صارف کی مرضی کے بغیر ان کی ویڈیو فوٹیج ریکارڈ اور اسکرین شاٹ لے کر انہیں تھرڈ پارٹیز کو بھیج سکتی ہیں۔

سابق امریکی ایف بی آئی ڈائریکٹر جیمز کومی سے جب سوال کیا گیا کہ کیا آپ اپنے لیپ ٹاپ کے کیمرے کو ٹیپ کی مدد سے بند کرکے رکھتے ہیں تو سابق ڈائریکٹر جیمز کومی نے بلا جھجک ایک سیکنڈ کی دیر کیے بغیر کہا کہ ہاں ضرور کیوں نہیں۔

جیمز کومی کا کہنا تھا کہ جیسے ہم اپنی گاڑی اور گھروں کو لاک لگا کر رکھتے ہیں، ایسے ہی ہمیں اپنے موبائل فونز اور لیپ ٹاپ کے کیمروں پر بھی لاک لگانا چاہیئے۔

آئی سیکیورٹی ایکسپرٹ فیلکس کروز کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر مختلف ایپس آپ کے کیمرے کا کنٹرول حاصل کرسکتی ہیں اور وہ ایسے کہ آپ کو خبر بھی نہ ہونے پائے۔ فیلکس کے مطابق جب یوزر کی جانب سے فیس بک، واٹس ایپ، ٹوئٹر، انسٹا گرام، اسنیپ چیٹ، لینکڈن اور وائبر کو ایکسز فراہم کی جاتی ہے تو یہ ایپ آپ کے بیک اور فرنٹ کیمرے، ریکارڈنگ ، تصویر لینے یا ویڈیو بنانے ،آپ کی بغیر اجازت اور اطلاع دیئے بغیر آپ کی تصاویر اور ویڈیوز اپ لوڈ کرنے ، اشکال کے ذریعے کسی بھی ڈیوائس یا ایپ میں سائن ان ہونے کیلئے خود بہ خود کام کرسکتی ہیں۔

امریکا کی نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی کے سائنسدان کا کہنا ہے کہ معلوم کیا کہ 50 فیصد سے زیادہ ایپس کو صارفین کے کیمرہ اور مائیکرو فون تک رسائی کی اجازت ہوتی ہے جس سے ان میں سے کسی ایپ اوپن ہونے پر ان کی سرگرمیاں ریکارڈ کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔ محققین کا کہنا تھا کہ ایسے شواہد نہیں ملے کہ سمارٹ فون اپلیکشنز مائیکرو فون کے ذریعے صارفین کی خفیہ آڈیو ریکارڈنگ کرتی ہیں، مگر کچھ اپلیکشنز مسلسل فوٹیج اور سکرین شاٹ ریکارڈ کرکے ضرور آگے بھیجتی ہیں۔

زیادہ خوفناک بات یہ ہے کہ ان ایپس کے ٹرمز میں اس بات سے صارفین کو آگاہ نہیں کیا جاتا کہ ان کی معلومات کو فوٹیج کے ذریعے اکھٹا کیا جاسکتا ہے۔ اس تحقیق کے نتائج اگلے ماہ بارسلونا میں شیڈول ایک کانفرنس کے دوران پیش کیے جائیں گے۔