شمسی طوفان اتوار کو زمین سے ٹکرائے گا

May 5, 2018

امریکی میڈیا سے جاری خبروں کے مطابق طاقت ور شمسی طوفان اتوار کے روز زمین سے ٹکرائے گا، جس سے امریکی ریاست سمیت دنیا کے دیگر حصے متاثر ہونگے۔

امریکی میڈیا کے مطابق 6 مئی کو شمسی طوفان کا خطرہ ہے جو سورج میں سوراخ کے باعث رونما ہوسکتا ہے۔ خلائی موسم کی ویب سائٹ کے مطابق سورج کا سوراخ والا حصہ زمین کی طرف گردش کررہا ہے اور اس طوفان کی مقناطیسی لہروں سے جزوی ٹیکنیکل بلیک آؤٹ ہوسکتا ہے۔

 

امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا نے وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ شمسی طوفان کی صورت میں فلائٹ سسٹم، جہاز کی آمدو رفت اور سٹیلائیٹ آپریشنز کو متاثر کر سکتا ہے، جب کہ اس سے جی پی ایس سسٹم بھی متاثر ہوگا، اس کے علاوہ بجلی کی ترسیل کا نظام بھی آوٹ آف آڈر ہو سکتا ہے، ساتھ ہی یہ طوفان خلا بازوں کے لیے بھی باعث تشویش ہے۔

 

برطانوی اخبار کے مطابق ناسا کی تصاویر سے لگتا ہے کے کالے شمسی سوراخ سے لہریں نکل رہی ہیں اور یہ شمسی طوفان شمالی اور جنوبی روشنی کی وجہ سے آسکتا ہے، متوقع شمسی طوفا ن کی یا معمولی درجہ بندی کی گئی ہے۔

جی پی ایس سسٹم کیا ہے؟؟

جی پی ایس سے مراد گلوبل پوزیشنگ سسٹم ہے جو بذریعہ سیٹلائیٹ دنیا کی کسی بھی خطے کے بارے میں تفصیلات اور موسم وغیرہ سے متعلق معلومات دینے کا کام کرتا ہے۔ موبائل میں موجود جی پی ایس سسٹم دراصل ایک قسم کا رسیور ہوتا ہے جو آپ کی موجودہ جگہ ، موسم اور دیگر تفصیلات فراہم کرتا ہے۔ عام طور پرگوگل میپس، فیس بک ، فور اسکوئر اور موسم وغیرہ کی ایپلی کیشنز اس کا استعمال کرتی ہیں۔

شمسی طوفان ہے کیا ؟

دو ماہ قبل یہ شمسی طوفان سورج کے نظام میں شمسی توانائی کے بھاؤ سے ایک بڑے دھماکے سے پیدا ہوا، جس کے بعد اس سے پیدا ہونے والے زرات شمسی طوفان کی شکل میں ہمارے سیارے کے مدار پر آگئے ہیں۔ شمسی زرے زمین پر لگنے کے بعد طوفان کی شدت میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ شمسی طوفان سے جنم لینے والے یہ ذرات بے انتہا توانائی کے ساتھ زمین کی طرف آتے ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل اکتوبر سال دو ہزار تین میں کرہِ ارض کی فضا سے ٹکرانے والے سب سے طاقت ور شمسی طوفان کی وجہ سے پیدا ہونے والی مقناطیسی شعاؤں سے جاپان کا ایک مصنوعی سیارہ تباہ ہو گیا تھا۔