زمین کے درجہ حرارت میں اضافہ روکنے کا منصوبہ

April 9, 2018

لندن : ترقی یافتہ ممالک کے سائنسدانوں نے عالمی حدت میں اضافے پر قابو پانے کیلیے زمین تک پہنچنے والی سورج کی روشنی کو مدھم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ سائنسدانوں کو امید ہے کہ ’’کیمیائی چھتری‘‘خطرناک حد تک بڑھتے درجہ حرارت میں کمی لانے کیلئے کارگر ثابت ہوگی۔

سائنسی جریدے نیچر میں بنگلہ دیش، برازیل، چین، ایتھیوپیا، بھارت سمیت دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے 12 ماہرین نے اپنے مقالے میں لکھا ہے کہ غریب ممالک ماحولیاتی تبدیلی سے زیادہ متاثر ہوں گے، اس لئے انہیں اسے حل کرنے کے منصوبوں میں زیادہ سے زیادہ نمائندگی دی جائے۔

ماہرین نے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت پر قابو پانے اور سورج کی روشنی کو مدھم کرنے کیلئے کیمیائی چھتری بنانے کا نظریہ پیش کیا ہے، سولر جیو انجینیئرنگ منصوبے کا تصور آتش فشاں سے بہت زیادہ مقدار میں خارج ہونے والی راکھ سے لیا گیا ہے جو فضاء میں پردہ تان دیتی ہے اور سورج کی حرارت کا ایک حصہ زمین کی سطح تک نہیں پہنچ پاتا۔

مرکزی مصنف عتیق الرحمٰن نے برطانوی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ سولر جیو انجینئرنگ کا تصور تحقیق کی دنیا میں جڑ پکڑتا جارہا ہے، اس منصوبے کے آغاز کے طور پر سولر ریڈی ایشن مینجمنٹ گورننس انیشی ایٹیو (ایس آر ایم جی آئی) کے نام سے 4 لاکھ ڈالر مختص کئے گئے ہیں جس کے تحت سائنسدانوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی تحقیقات پیش کریں۔

ایس آر ایم جی آئی کیلئے رقم اوپن فلانتھراپی پروجیکٹ نے فراہم کی تھی جسے فیس بک کے شریک بانی کاری ٹیونا نے شروع کیا تھا۔ اس کے تحت ترقی پذیر ملکوں کے سائنسدانوں کو جیو انجینئرنگ کے مقامی سطح پر پڑنے والے اثرات کا مطالعہ کرنے میں مدد دی جائے گی۔ ان اثرات میں خشک سالی، سیلاب اور برساتیں شامل ہیں۔

عتیق الرحمٰن کا مزید کہنا ہے کہ فی الحال یہ واضح نہیں کہ جیو انجینئرنگ کام کرے گی یا نہیں، اس کے تحت زیرِ غور منصوبوں میں سے ایک یہ ہے کہ جہازوں کے ذریعے زمین کی فضاء میں سلفر کے ذرات پھیلائے جائیں جو سورج کی شعاعوں کو منعکس کرکے واپس بھیج دیں۔

عتیق رحمٰن نے لکھا ہے کہ یہ تکنیک متنازع ہے، ابھی یہ بات قبل از وقت ہے کہ آیا اس کے اثرات فائدہ مند ہوں گے یا نقصان دہ۔

اقوامِ متحدہ کے ماہرین کے ایک پینل نے ماحولیاتی تپش کے بارے میں ایک رپورٹ مرتب کی ہے جو اکتوبر میں شائع ہوگی، البتہ اس کے مسودے کے مطابق سولر جیو انجینئرنگ پر شکوک ظاہر کئے گئے ہیں اور کہا گیا ہے کہ یہ معاشی، سماجی اور ادارہ جاتی طور پر قابلِ عمل نہیں ہے۔

عتیق رحمٰن کے مطابق اب تک ترقی یافتہ ممالک گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج کم کرنے میں بری طرح ناکام رہے ہیں، جس سے اس قسم کے انقلابی منصوبے زیادہ پُرکشش ہو گئے ہیں، دنیا کے درجہ حرارت میں صنعتی دور سے قبل کے درجہ حرارت سے 3 درجے تک اضافہ ہونے والا ہے جو پیرس معاہدے میں تجویز کردہ 2 درجے سے بہت زیادہ ہے۔

واضح رہے کہ دنیا بھر میں درجہ حرارت میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، پاکستان میں بھی اس کے اثرات گزشتہ چند سالوں سے نمایاں نظر آرہے ہیں، 2010ء کے بعد سے کئی شہر ہر سال ہیٹ اسٹروک کا شکار ہورہے ہیں، جس میں کراچی سرفہرست ہے، 2014ء کے بعد سے ہیٹ اسٹروک کے نتیجے میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔