ٹیکسی سروس اوبر کے صدر نے استعفیٰ دیدیا

March 20, 2017

640x320xtt1-3.jpg.pagespeed.ic.tyqgsu8r_V

    کیلی فورینا : ٹیکسی شیئرنگ کمپنی اوبر کے صدر جیف جونزنے صرف 6 ماہ تک عہدے پر تعینات رہنے کے بعد کمپنی چھوڑنے کا اعلان کر دیا۔

برطانوی نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے کمپنی کے ایک اہلکار کا کہنا تھا کہ جیف جونز کا استعفیٰ غیر متوقع تھا۔ ان کا کہنا تھا جیف جونز کو یہ شکایت تھی کہ کمپنی چیف آپریٹنگ افسر کے عہدے کے لیے مناسب امیدوار ڈھونڈ رہی تھی مگر ان پر اس نوکری کے لیے غور نہیں کیا جا رہا تھا۔

TO GO WITH STORY Singapore-SEAsia-transport-Internet-taxi-Malaysia-Indonesia,FOCUS by Bhavan Jaipragas This photograph taken on October 10, 2014 shows a smartphone displaying the Uber app of the timing and availability of taxis within the area at Raffles place financial district in Singapore. Southeast Asia's notorious taxi market is undergoing a shakeout as Uber and homegrown mobile booking applications gain popularity in a region that has long endured inefficient cartels and price-gouging drivers. AFP PHOTO/ROSLAN RAHMAN

تاہم ٹیکنالوجی نیوز ویب سائٹ ریکوڈ کا دعویٰ ہے کہ جیف جونز کو کمپنی میں صنفی امتیاز اور ہراساں کرنے کے معاملات کی وجہ سے یہ فیصلہ کرنا پڑا۔

1057917-image-1456933981-984-640x480

اوبر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہم جیف جونز کو ان کی چھ ماہ کی ملازمت کے لیے شکریہ ادا کرتے ہیں اور مستقبل کے لیے ہماری ان کے لیے نیک تمنائیں ہیں۔

واضح رہے کہ رواں سال اوبر کو مختلف مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ کمپنی پر صنفی امتیاز کے کلچر اور خواتین ملازمین کے ہراساں کیے جانے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔

Email This Post
 

:ٹیگز

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.