Saturday, September 25, 2021  | 17 Safar, 1443

حیدرعلی کے اگلے اہداف، عالمی اعزاز کادفاع اور ورلڈریکارڈ

SAMAA | and - Posted: Sep 10, 2021 | Last Updated: 2 weeks ago
Posted: Sep 10, 2021 | Last Updated: 2 weeks ago

 

پاکستان کیلئے گولڈ، سلور اور برانز میڈلزجیتنے والے پیرا ایتھلیٹ حیدر علی کی نظریں اب عالمی ریکارڈ پر ہیں۔
ٹوکیو پیرالمپکس میں گولڈ میڈل جیتنے والے 36 سالہ حیدر علی پہلے پاکستانی کھلاڑی ہیں جنہوں نے یہ کارنامہ انجام دیا ہے۔
حیدر علی نے اپنا پہلا سلور میڈل 2008ء کے بیجنگ پیرالمپکس میں ایف 37/38 لانگ جمپ مقابلوں میں جیتا جبکہ ریو ڈی جنیرو میں 2016ء میں لانگ ٹی 37 مینز لانگ جمپ فائنل میں برانز میڈل اپنے نام کیا تھا۔
انہوں نے ٹوکیو پیرالمپکس کے ایف 37 کیٹیگری کے ڈسکس تھرو فائنل میں 55.26 میٹر کے ساتھ اپنا پہلا گولڈ میڈل جیتا۔ حیدر علی 2024ء میں پیرس پیرالمپکس مقابلوں میں اپنے عالمی اعزاز کا دفاع کرنے کے ساتھ ساتھ ازبکستان کے خوشندین نوربیکوو کا 59.75 میٹر تھرو کا عالمی ریکارڈ توڑنے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔
سماء ڈیجیٹل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے گولڈ میڈلسٹ حیدر علی کا کہنا تھا کہ میرے پاس تین سال ہیں اور مجھے اضافی 4 میٹر کی تیاری کرنی ہے، انشاء اللہ میں یہ ہدف حاصل کرلوں گا، میں عالمی ریکارڈ کے بہت قریب ہوں۔
حیدر علی نے ایف 37 کیٹیگری میں گولڈ میڈل جیتا، جو ایسے فیلڈ ایتھلیٹس کیلئے ہوتی ہے جن کے جسم کا نصف حصہ ہائپرٹونیا، اٹاکزیا یا ایتھیٹوسس سے متاثر ہو۔
حیدر علی کا کہنا ہے کہ انہوں نے کالج میں پہنچ کر ایتھلیٹک میں جانے کا فیصلہ کیا، میں شروع سے کھیلوں کا شوق تھا مگر میں کالج میں داخلے سے پہلے ایھتلیٹک کے بارے میں نہیں جانتا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ مجھے پتہ چلا کہ جمپنگ اور دوڑنا بھی اس کا حصہ ہوتا ہے تو میں نے اسے جوائن کرلیا، میں نے قومی پیرالمپکس کمیٹی کے ذریعے پہلی بار 2006ء میں عالمی مقابلوں میں حصہ لینا شروع کیا۔
تعلیم واضح طور پر اس کی دوسری ترجیح تھی۔ انہوں نے کہا کہ ایک کھلاڑی کیلئے صرف پاس ہوجان ہی کافی ہوتا ہے اور وہ پاس ہوگیا، انہوں نے بی کام کی ڈگری حاصل کی ہے۔
حیدر علی کی عالمی مقابلوں میں پہلی شرکت لانگ جمپ کے ذریعے ہوئی تاہم 2016ء ورلڈ پیراایتھلیٹکس چمپئن شپ سے پہلے وہ ڈسکس تھرو میں زیادہ کامیاب ثابت نہیں ہوئے جہاں انہوں نے چاندی کا تمغہ جیتا، جس کے ذریعے انہوں نے ٹوکیو پیرالمپکس 2020ء کیلئے بھی کوالیفائی کرلیا تھا۔
پیرا ایتھلیٹ نے بتایا کہ انہوں نے اپنے طور پر تربیت حاصل کی ہے، میں نے صرف گوجرانوالہ میں تربیت لی، کرونا وائرس کے باعث تمام میدان بند تھے لیکن میں اپنے طور پر تربیت کیلئے سیٹ اپ لگانے میں کامیاب رہا، میں اپنے کوچ سے آن لائن رابطہ کرتا اور انہیں ویڈیوز بھیج کر اپنی غلطیاں سدھارنے کیلئے ان کا فیڈ بیک لیتا تھا۔

حیدر علی کے والد اور دادا پہلوان رہے ہیں تاہم انہوں نے کچھ الگ کرنے کا سوچا۔ ان کا کہنا ہے کہ گوجرانوالہ میں بہت پہلوان ہیں اس لئے میں نے سوچا کہ کیوں نہ شہر میں نیا کھیل متعارف کرایا جائے، شاید کھیل سے محبت ہمارے خون میں ہے، لیکن میں نے پہلوانی کا انتخاب نہیں کیا۔

حیدر علی پورے پنجاب میں بطور فاسٹ بولر کرکٹ بھی کھیل چکے ہیں تاہم انہوں نے مقبول ترین کھیل چھوڑ کر چند سال قبل پوری توجہ ایتھلیٹکس پر مرکوز کرلی تھی۔ وہ اپنی کامیابی کیلئے دوسروں پر انحصار پسند نہیں کرتے۔

انہوں نے کہا کہ ایتھلیٹکس انفرادی نظم و ضبط ہوتا ہے اور اس میں کسی طرح کی سفارش کی ضرورت نہیں ہوتی، اگر کوئی شخص سخت محنت کرے تو صرف ایک اچھا دن آپ کو ورلڈ چیمپئن بناسکتا ہے، میں  ٹیم کے بجائے کامیابی کیلئے اپنی سخت محنت پر انحصار کرنا چاہتا ہوں۔

حیدر علی کا کہنا ہے کہ ابتداء سے ہی ان کا پورا خاندان انہیں مکمل سپورٹ کرتا ہے، لیکن پاکستان کیلئے پہلے چاندی اور کانسی کے تمغے لانے کے باوجود حکومت کی جانب سے وہ مقام نہیں دیا گیا جس کے وہ حقدار تھے۔

پاکستان کیلئے پیرالمپکس میں سونے کا پہلا گولڈ میڈل جیتنے کے بعد اب حکومت نے کچھ یقین دہانی کرائی ہے، دیگر باڈیز بشمول واپڈا، پاکستان اسپورٹس بورڈ اور وزارت بین الصوبائی رابطہ نے بھی مدد کا وعدہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں نقد انعام کے اعلان اور 2020ء پیرالمپکس سے قبل سہولیات کی فراہمی پر پنجاب کے وزیر کھیل رائے تیمور بھٹی کا ممنون ہوں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube