Wednesday, December 1, 2021  | 25 Rabiulakhir, 1443

اولڈٹریفورڈ ٹیسٹ‘ بھارت کے پاس تاریخ رقم کرنے کاسنہری موقع

SAMAA | - Posted: Sep 8, 2021 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: Sep 8, 2021 | Last Updated: 3 months ago

بھارتی کرکٹ ٹیم ویرات کوہلی کی قیادت میں کننگٹن اوول کرکٹ گراؤنڈ پر انگلینڈ کو نصف صدی بعد ٹیسٹ میچ 157  رنز سے شکست دینے میں کامیاب ہو گئی۔

بھارتی ٹیم نے اس فتح کے ساتھ پانچ ٹیسٹ میچز کی سیریز میں 1-2  کی برتری حاصل کرلی، انگلش کرکٹ ٹیم نے پہلی اننگز میں بھارت پر 99 رنز کی سبقت حاصل کر لی تھی لیکن دوسری اننگز میں  میزبان ٹیم کے کھلاڑی فتح کیلئے مطلوبہ  364 رنز کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہے۔

انگلینڈ کے اوپنر روری برنز اور حسیب حمید کی جانب سے پہلی وکٹ کی شراکت میں 100 رنز بنا کر جیت کیلئے مستحکم بنیاد رکھنے کے بعد پہلی اننگز کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے  ہدف حاصل کرنے کیلئے ساڑھے تین رنز فی اوور بنانا انگلینڈ کیلئے کوئی ناممکن نہیں تھا لیکن اوپنرز کے بعد کوئی بھی انگلش بلے بار بھارتی بولرز کے سامنے  جم کر نہ کھیل سکا  اور ٹیم 210 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔

اوول ٹیسٹ میں فتح کے ذریعے بھارت نے  یہ یقینی بنالیا کہ اسے ٹیسٹ سیریز میں شکست نہیں ہوگی اور وہ ٹیسٹ سیریز کے اختتام پر آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن شپ کی پوائنٹس ٹیبل پر بہتر پوزیشن میں ہو گا۔ 2007 کے بعد پہلا موقع ہے بھارتی ٹیم  انگلش سرزمین پر ٹیسٹ سیریز میں شکست سے دوچار نہیں ہو گی۔ اب اولڈ ٹریفورڈ کے آخری ٹیسٹ میں بھارت کے پاس نئی تاریخ رقم کرنے کا سنہری موقع ہے۔

کننگٹن اوول کرکٹ گراؤنڈ پر انگلینڈ اور بھارت کے مابین  14 ٹیسٹ میچ کھیلے گئے ہیں جن میں سے  میزبان انگلینڈ نے پانچ اور بھارت نے  دو ٹیسٹ جیتے جبکہ  سات ٹیسٹ میچ ڈرا ہوئے۔  انگلینڈ نے  اوول گراؤنڈ پر پچھلے تین ٹیسٹ میچوں میں بھارت کو شکست دے کر ہیٹ ٹرک مکمل کی تھی۔

 ویرات کوہلی کی زیرقیادت  بھارتی کرکٹ ٹیم نے انگلش سرزمین پر تیسرا ٹیسٹ میچ جیتا ہے اور  اس کامیابی کے ساتھ  کوہلی  انگلینڈ میں تین ٹیسٹ میچ جیتنے والے پہلے ایشائی کپتان بھی بن گئے۔

  انگلینڈ کے کپتان جو روٹ نے ٹاس جیت کر بھارت کو بیٹنگ کی دعوت دی تھی اور  بولرز نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے کپتان کے فیصلے کو درست ثابت کر دکھایا تھا۔  بھارتی ٹیم کو 191  رنز پر ڈھیر کر دیا تھا۔ بھارت کے شردل ٹھاکر  نے جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے اپنی نصف سنچری بنا کر بھارت کو اس مجموعے تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ کپتان کوہلی نے بھی نصف سنچری بنائی۔کرس ووکس نے چار اوراولی رابنسن نے تین کھلاڑی آؤٹ کی۔

جواب میں انگلش ٹیم  کا آغاز بھی  اچھا نہیں تھا بمرا نے  اپنے دوسرے اوور میں روری برنزاور حسیب حمید کو اوپر تلے آؤٹ کر کے سنسنی پھیلادی تھی۔  حسیب حمید کھاتہ بھی نہیں کھول پائے تھے برنز نے پانچ رنز بنائے تھے بھارتی بولرزکی اچھی کاکردگی کے نتیجے میں انگلش بلے بازوں کو بھی رنز بنانے میں  مشکلات پیش آئیں۔62 رنز پر آدھی ٹیم پویلین چلی گئی تھی۔

اولی پوپ 81 کرس ووکس 50 معین علی 35 ڈیوڈ ملن 31 اورجو روٹ 21 رنزکیبدولت میربان ٹیم 290 رنز جوڑنے میں کامیاب ہوئی اور بھارت پر 99 رنز کی سبقت حاصل کر لی۔  بھارت  کے امیش یادیو نے تین‘ بمرا اورجدیجہ نے دو دو کھلاڑی آؤٹ کیے۔

 بھارت کے پہلی اننگز میں 99 رنز سے خسارے میں جانے کے  اوپنرز روہت شرما اور کے ایل راہول نے دوسری  اننگز کا پر اعتماد آیاز کیا اور پہلی وکٹ کی شراکت میں 83 رنز بنائے۔ راہول   46 رنز پر اینڈرسن کا شکار ہوئے۔ پوجارا اور شرما نے دوسری وکٹ کی شراکت میں 153 رنز جوڑے جو اس ٹیسٹ میچ کی سب سے بڑی شراکت تھی۔

روہت شرما نے اس دوران بیرون ملک اپنی پہلی ٹیسٹ سنچری مکمل کی اور وہ 127 رنز پر روبنسن کا شکار بنے۔  پوجارا  64 کوہلی 44 ذ کے سی پنت 50 اور شردل ٹھاکر 60‘ امیش یادیو 25 اوربمرا 24 رنزکی مدد سے بھارت نے 466رنزبنائے۔ انگلینڈ کے کرس ووکس نے تین معین علی اور رابنسن نے دو دوکھلاڑیوں کوآؤٹ کیا۔

انگلینڈ کو میچ میں کامیابی کیلئے 368 رنز کا ریکارڈ ہدف ملا لیکن انگلش ٹیم کے پاس اس ہدف کو حاصل کرنے کیلئے خاصا وقت تھا۔ اور  انہیں فی اوور ساڑھے تین رنزبنانے تھے۔ وکٹ بھی بیٹنگ کیلئے ساز گار تھی۔

  اوول کرکٹ گراؤنڈ  کی سیدھی اور بے جان وکٹ تیسرے دن کے بعد کسی طور  بھی بولرز کیلئے مدد گار نہیں تھی جس کا بخوبی اندازہ  بھارتی بلے بازوں کی شاندار بیٹنگ سے ہوتا تھا جنہوں نے رنزوں کا انبار لگا دیا تھا۔ فتح کیلئے   368 رنز کے تعاقب میں انگلینڈ کے اوپنرز روری برنز اور حسیب حمید نے پراعتماد بیٹنگ کرتے ہوئے  پہلی وکٹ کی شراکت میں 100 رنز بنائے تھے۔

اس مرحلے پر کہیں بھی یہ دکھائی نہیں دیتا تھا کہ انگلش ٹیم میچ میں شکست سے دوچار ہو گی  بلکہ میچ میں اس کا پلہ بھاری تھا اور اس کی کامیابی کے امکانات  واضح  تھے لیکن شردل ٹھاکر  نے اوپنر  روری برنز کی وکٹ حاصل کر کے انگلش بیٹنگ لائن میں شگاف ڈالا اور پھر  جلد ہی ڈیوڈ ملن بھی  رن آؤٹ ہو گئے۔ انگلینڈ کا  100 رنز پر کوئی کھلاڑی آؤٹ نہیں تھا  وکٹ نہیں گری تھی لیکن پہلی وکٹ گرنے کے بعد انگلینڈ کی پوری ٹیم اگلے 60 اوورز میں صرف  110رنز  کا اضافہ کر کے 210 رنز پر پویلین لوٹ گئی۔

برنز 50 حسیب حمید 63‘ جوروٹ 31‘ کرس ووکس 18 رنزبنا پائے تھے۔ امیش یادیو ن۔ تین‘ بموا‘ جدیجہ اور ٹھاکر نے دو دو کھلاڑی آؤٹ کیے۔

  کھانے کے وقفے کے بعد جسپرت بمرا  کی بولنگ بہترین  رہی۔ بھارتی فاسٹ بولرز کی جانب انگلش سرزمین پر ایسی مثال کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ انہوں نے دوسری اننگز  22 اوورز میں  9 میڈن  کیے اور 27 رنزکے عوض دو وکٹیں حاصل کیں۔ جسپرت بمرا نے اس سیدھی وکٹ پر پرانی گیند سے  شاندار ریورس سوئنگ بولنگ کا مظاہرہ کیا  اور پاکستانی لیجنڈ  وسیم اکرم‘وقار یونس اور محمد آصف اور بھارت کے عرفان پٹھان اور ظہیر خان کی یاد تازہ کر دی۔

انگلش بلے بازوں کیلئے ان کی گیندوں کو کھیلنا انتہائی دشوار  تھا۔  بمرا کی  بہترین بولنگ کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے 6 اوورز  میں 3 میڈن  کیے اور چھ رنز دے کر دو اہم کھلاڑیوں پوپ اور بیئرسٹو کو پویلین کی راہ دکھائی۔ گو انہوں نے دوسری اننگز میں  صرف دو وکٹیں حاصل کیں لیکن وہ ایک اینڈ سے انگلش کھلاڑیوں پر اپنی نپی تلی بولنگ سے مسلسل  دباؤ ڈالتے رہے اور دوسرے اینڈ سے ان کے ساتھی بولرز انگلش بلے بازوں کا شکار کرنے میں مصروف رہے۔   بھارت نے دوسری اننگزمیں 466 رنز بنائے تھے جو انگلینڈ میں دوسری اننگز کا بھارت کا دوسرا بڑا اسکور تھا۔

اس سے پہلے 1967 میں بھارت نے دوسری اننگزمیں 510 رنزبنائے تھے۔ 2007 میں اوول ٹیسٹ کے 664 رنز کے بعد انگلش سرزمین پر یہ  بھارت کا  بڑا اسکور تھا۔ بھارتی کرکٹ ٹیم نے  آخری مرتبہ ٹیسٹ میچ کی دوسری اننگزمیں 466  یا زائد رنز نیوزی لینڈ کے خلاف  نیپئر ٹیسٹ میں بنائے تھے جب بھارتی بلے بازوں نے چار وکٹوں کے نقصان پر  476 رنز بنا کر یقینی شکست کو ٹال دیا تھا۔ 2013 میں جنوبی افریقہ کے خلاف بھارتی ٹیم دوسری اننگزمیں 421 پر ڈھیر ہوگئی تھی۔

 بھارتی ٹیم کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ  حریف ٹیم کو  ٹیسٹ میچ کی چوتھی اننگز میں جیتنے کیلئے  350 یا زائد رنزکا ہدف دینے کے بعد  کبھی شکست سے دوچار نہیں ہوئی بھارت نے350 رنز یا زیادہ کا ہدف دیتے ہوئے 34 میچوں میں کامیابیاں سمیٹی ہیں جبکہ 15 ٹیسٹ میچ ڈرا ہوئے ۔  بھارت  کے خلاف 1977 کے پرتھ ٹیسٹ میں آسٹریلیا نے چوتھی اننگز میں سب سے زیادہ 339 رنزکا  ہدف  حاصل کر کے ٹیسٹ میچ  جیتا تھا۔

  اوول گراؤنڈ پر پہلی اننگز میں 50 رنز سے  زائد کے خسارے میں جانے کے بعد  بھارت ٹیسٹ  میچ جیتنے والی پہلی ٹیم ہے۔ یبرون ملک مجموعی طور پر یہ  پہلی اننگز کا تیسرا بڑا خسارہ ہے جس کے بعد  بھارت نے ٹیسٹ میچ میں فتح اپنے نام کی۔

اس سے قبل بھارت نے1976 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف پورٹ ف اسپین ٹیسٹ میں پہلی اننگز میں 131 رنز کے خسارے کے باوجود کامیابی حاصل کی تھی۔ 1981 میں میلبورن کرکٹ گراؤنڈ میں آسٹریلیا کے خلاف 182 رنز کے خسارے کے بعد ٹیسٹ جیتا تھا۔  بھارتی کرکٹ  تاریخ میں تیسرا موقع ہے جب پچھلے  ٹیسٹ میں اننگز  شکست کے بعد  بھارتی ٹیم  اگلے ٹیسٹ میں فاتح رہی۔

بھارتی آل راؤنڈر  شردل ٹھاکر نے آٹھویں نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے دونوں اننگز میں نصف سنچریاں جڑیں وہ اس نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے یہ کارنامہ انجام دینے والے دنیا کے چھٹے  اور بھارت کے تیسرے  بیٹسیمین ہیں۔

بھارت کی جانب سے ہربھجن سنگھ نے 2010 کے احمد آباد ٹیسٹ اور وردھمان ساہا نے 2016 کے ایڈن گارڈن کلکتہ ٹیسٹ میں دونوں اننگزمیں آٹھویں نمیر پر نصف سنچریاں بنائی تھیں اور دونوں نے نیوزی لینڈ کے خلاف یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔

بھارت نے 1971 میں اجیت واڈیکر کی کپتانی میں انگلینڈ کو پہلی بار اوول ٹیسٹ میں چار وکٹوں سے ہرایا تھا۔ یہ ٹیسٹ میچ  19 سے 24 اگست تک کھیلا گیا تھا اور دوسرے دن کا کھیل خراب موسم کی وجہ سے نہیں ہو سکا تھا۔ انگلش ٹیم کی قیادت  رے النگورتھ نے کی تھی۔ اس میچ میں بھارتی اسپنرز نے مرکرزی کرادا ادا کیا تھا۔

انگلش ٹیم دوسری اننگز میں اسپنرز چندرا شیکھر اور  وینکٹ راگھون کی گھومتی ہوئی گیندوں کے سامنے نہیں ٹک سکی تھی۔پوری ٹیم صرف 101 رنز پر ڈھیر ہوگئی تھی۔  پانچ کھلاڑی ڈبل فیگر میں داخل ہو پائے تھے۔    انگلینڈ کو  1971 کے اوول ٹیسٹ میں بھی  بھارت کے خلاف  پہلی اننگز میں سبقت حاصل تھی اور بھارت ٹیسٹ میچ چار وکٹوں سے جیت گیا تھا۔ اسی فتح کی وجہ سے  بھارتی ٹیم تاریخ میں پہلی بار انگلینڈ کو ٹیسٹ سیریز ہرانے میں کامیاب ہوئی تھی۔

  بھارتی کرکٹ ٹیم  انگلش سرزمین پر ٹیسٹ  سیریز میں دوسری مرتبہ دو ٹیسٹ میچ جیتنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ اس سے قبل 1986 میں بھارت نے کپیل دیو کی قیادت میں انگلینڈ کو تین ٹیسٹ میچز کی سیریز میں 2-0 سے زیر کیا تھا۔

  ٹھاکر اورامیش یادیو نے بھارت کو آسٹریلوی سرزمین پر بھی سیریز جتوانے میں مرکزی کردارادا کیا تھا۔ اور اس بار بھی ان دونوں کھلاڑیوں کی کارکردگی بہت اچھی تھی ٹھاکر نے مشکل وقت میں دونوں اننگز میں نصف سنچریاں اسکور کیں اور وکٹیں بھی لیں۔

جسپرت بمرا نے اس ٹیسٹ میچ میں ا پنی 100 ویں  وکٹ اولی پوپ کو 2 رنز پر کلین بولڈ کر کے حاصل کی اور وہ سب سے کم ٹیسٹ میچوں میں 100 وکٹیں حاصل کرنے والے بھارتی فاسٹ بولر بن گئے۔ انہوں نے یہ کارنامہ اپنے 24 ویں ٹیسٹ میں انجام دیا۔

جسپرت بمرا نے اپنی پہلا اور 100 واں شکار کلین بولڈ کے ذریعے کیا۔ بمرا  سے قبل بھارتی آل راؤنڈر کپیل دیو نے 25 عرفان پٹھان نے 28 اور محمد شامی 29 جواگل سری ناتھ نے 30 ٹیسٹ میچوں میں 100 ویں وکٹ حاصل کی تھی۔ بھارت میں سب سے کم ٹیسٹ میچوں میں 100 وکٹیں حاصل کرنے کا ریکارڈ اسپنر  روی چندرن ایشون کے نام ہے جنہوں نے 2013 میں اپنے 18 ویں ٹیسٹ میں یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔

جسپرت بمرا نے اپنا ٹیسٹ ڈیبیو جنوبی افریقہ کے خلاف جنوری 2018 میں کیپ ٹاؤن ٹیسٹ میں کیا تھا اور انہوں نے پہلی اننگزمیں اے بی ڈی ویلیئر کو کلین بولڈ کر کے اپنی پہلی ٹیسٹ وکٹ حاصل کی تھی جبکہ دوسری اننگز میں انہوں نے تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا تھا۔

جسپرت بمرا ٹیسٹ کرکٹ میں 100 وکٹیں حاصل کرنے والے  23 واں بھارتی بولر ہیں لیکن وہ اپنے اسٹرائیک ریٹ اور وکٹ فی رنز اوسط میں ٹاپ پر ہیں  ان کا اسٹرائیک ریٹ  بہترین  50.2  فیصد اور اوسط 22.45 رنز فی وکٹ ہے۔

 بھارت اور انگلینڈ کے مابین سیریز کا پانچوان اور آخری ٹیسٹ میچ جمعہ 10 ستمبر سے اورلڈ ٹریفورڈ مانچسٹر میں شروع ہو گا۔ دونوں ٹیمیں  سات سال بعد اس گراؤنڈ پر مد مقابل ہوں گی۔ فتح کے جذبے سے سرشار بھارتی کھلاڑی  اگر اس گراؤنڈ  پر بھی  میچ جیتنے میں کامیاب ہو گئے تو وہ ایک اور نئی تاریخ رقم کردیں گے کیونکہ اس گراؤنڈ پر بھارتی ٹیم انگلینڈ کے خلاف کوئی ٹیسٹ میچ نہیں جیت سکی ہے۔

اولڈ ٹریفورڈ  گراؤنڈ پر انگلینڈ اور بھارت نے 9 ٹیسٹ میچ کھیلے ہیں جن میں سے  چار پیسٹ میچز میں انگلش کرکٹ ٹیم فاتح رہی اور پانچ میچ ڈرا ہوئے۔  اولڈ ٹریفورڈ میں دونوں ٹیموں کا پہلا ٹیسٹ میچ  1936 میں ہوا تھا جس میں بھارتی ٹیم کی قیادت مہاراجہ آف وزیانگرام اور انگلش ٹیم کی کپتانی گیبی ایلن نے کی تھی۔ یہ اولین ٹیسٹ بے نتیجہ رہا تھا۔

دونوں ٹیمیں آخری بار اگست 2014 میں یہاں آمنے سامنے تھیں جس میں الیسٹر کک الیون نے دھونی الیون کو ایک اننگز اور 53 رنز سے شکست دی تھی۔

اس میچ کی پہلی اننگز میں بھارتی ٹیم سٹیورٹ براڈ کی برق رفتار بولنگ کے سامنے 154 رنز پر ڈھیر ہو گئی تھی اور چھ کھلاڑی صفر پر آؤٹ ہوئے تھے جن میں چتیشور پوجارا ویرات کوہلی اور ریوینرا جدیجہ  کے علاوہ مرلی وجے‘ پنکچ سنگھ اور بھوبیشور کمار شامل تھے۔

براڈ نے چھ بھارتی کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی تھی۔ انگلینڈ نے 367رنز بنائے تھے۔ بھارتی بلے باز دوسری اننگز میں معین علی کی اسپین بولنگ کا مقابلہ نہیں کر سکی  جنہوں نے چار کھلاڑیوں کو شکار کیا تھا۔  پوری ٹیم  دوسری اننگزمیں  161 پر آؤٹ ہو گئی تھی۔ دونوں ٹیموں میں کئی ایسے کھلاڑی ہیں جنہوں نے اولڈ ٹریفورڈ میں اس ٹیسٹ میچ سے حصہ لیا تھاجن میں بھارت کے ویرات کوہلی‘ روی چندرن ایشون‘اجنکیا ریہانے‘ رویندرا جدیجہ اور چتیشور پوجارا جبکہ انگلینڈ کے جو روٹ‘ جوز بٹلر‘ معین علی‘کرس ووکس‘ جیمز اینڈرسن  شامل ہیں۔

 انگلینڈ نے اولڈ ٹریفورڈ میں آخری ٹیسٹ میچ کیلئے جوز بٹلر اور اسپنر جیک لیچ کو شامل کیا ہے اور انگلینڈ سیریز برابر کرنے کیلئے اس ٹیسٹ میں کامیابی کی بھرپور کوشش کرے گی جبکہ دوسری جانب  بھارت کیلئے پہلی بار اس گراؤنڈ کو انگلینڈ کو شکست دینے کا سنہری اور تاریخ ساز موقع ہے۔ اگر کوہلی الیون  آخری ٹیسٹ میچ میں فتحیاب ہوتی  ہے تو وہ  بھارت کی کرکٹ تاریخ میں انگلش سرزمین پر ٹیسٹ  سیریز میں تین ٹیسٹ جیتنے والی پہلی بھارتی ٹیم  بن جائے گی۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube