Wednesday, December 1, 2021  | 25 Rabiulakhir, 1443

لارڈز ٹیسٹ: بھارت ڈرامائی اندازمیں فتحیاب

SAMAA | - Posted: Aug 20, 2021 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: Aug 20, 2021 | Last Updated: 3 months ago

بھارت نے انگلینڈ کو لارڈزکے تاریخی گراؤنڈ میں ڈرامائی اندازمیں  151 رنز کے مارجن سے غیر متوقع طور پر شکست دے کر پانچ ٹیسٹ میچزکی سیریزمیں 1-0 سے برتری حاصل کر لی یہ لارڈ میں بھارت کی تیسری ٹیسٹ کامیابی ہے۔ 

بھارت کی اس فتح میں  انگلش کرکٹرز کی جلدبازی کے ساتھ بھارتی فاسٹ  بولر محمد سراج کی شاندار بولنگ کا مرکزی کردار رہا۔ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں یہ دوسرا موقع تھا کہ آخری روز لنچ کے بعد تیسری اننگز ڈیکلیئر کرنے والی ٹیم  فتح سے ہم کنار ہوئی۔

اس سے قبل نیوزی لینڈ نے 1984 میں کینڈی  ٹیسٹ میں  سری لنکا کو ہرایا تھا۔  بھارت اور انگلینڈ کے مابین تیسرا ٹیسٹ میچ ہیڈنگلے میں 25 اگست سے شروع ہو رہا ہے۔  لارڈز ٹیسٹ میں انگلش کپتان جو روٹ نے ٹاس جیت کر بارش سے متاثرہ وکٹ پر بھارت کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔ بارش کی وجہ سے میچ تاخیر سے شروع ہوا تھا۔

جے روٹ کی توقعات کے برعکس بھارتی اوپننگ جوڑی کے ایل راہول اور روہت شرما نے انتہائی اعتماد کے ساتھ انگلش لولرز کا سامنا کیا اور پہلی وکٹ کی شراکت میں 126 رنز جوڑے۔ روہت شرما  کو 85 کے اسکور پر جیمز اینڈرسن نے خوبصورت گیند کے ذریعے کلین بولڈ کر کے انگلینڈ کو پہلی کامیابی دلوائی۔

اس وکٹ کے گرنے سے روٹ نے سکھ کا سانس لیا کیونکہ راہول کی نسبت شرما کا کھیل جار حانہ تھا۔ انگلینڈ کو دوسری کامیابی کیلئے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا اور نئے بیٹسمین چتیشور پوجارا 9  کے ذاتی اسکور پر اینڈرسن کا شکار بن گئے۔

راہول وکٹ پر جم کر انگلش بلے باروں کا سامنا کررہے تھے کوہلی نے بھی ان کا ساتھ دیا اور تیسری وکٹ کی شراکت میں 117 فیمتی رنز جوڑے۔ کوہلی جب 42 کے ذاتی اسکور پر پہنچ تو رابنسن کی گیند پر روٹ کوکیچ دے بیٹھے۔

انگلینڈ کو چوتھی اور پانچویں وکٹ حاصل کرنے کیلئے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا۔  سنچری میکر راہول کو 126 کے ذاتی اسکور پر اینڈرسن نے کلین بولڈ کر دیا اور  اجنکیا ریہانے بھی اینڈرسن کی گیند پر روٹ کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے۔

اس وقت بھارت کا اسکور 282 تھا ار آدھی ٹیم آؤٹ ہو چکی تھی۔ پنت اور جڈیجا کی جوڑی نے انگلش بولرزکے سامنے مزاحمت کی اور چھٹی وکٹ کی شراکت میں 49 رنز جوڑے۔ رشابھ پنت 37 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔  اس کے بعد انگلش بولرز ن۔ بھارتی ٹیل انڈرز کا جلد صفایا کر دیا  اور  بھارتی بساط 364 رنز پر لپیٹ دی۔

جڈیجا  40 کے ذاتی اسکور پر آؤٹ ہونے والے آخری کھلاڑی تھے۔ اینڈرسن نے پانچ  رابنسن اور وڈ نے دو دوکھلاڑی آؤٹ کیے۔

 جواب میں انگلینڈ نے ان فارم کپتان جے روٹ کی شاندار 180 رنز ناٹ آؤٹ کی اننگز کیبدولت اپنی پہلی باری میں 391 رنز بنائے۔  بھارتی فاسٹ بولرز نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کیا اور انگلش بلے باروں کیلئے مشکلات پیدا کیں۔ محمد سراج نے 23 رنز پر اورپر تلے دو کھلاڑیوں سبلی اور حسیب حمید کو آؤٹ کر کے انگلش کمیپ میں سنسنی پھیلا دیتھی۔

کپتان جے روٹ مرد میڈان تھے جنہوں نے جم کر بھارتی پیس اٹیک کا مقابلہ کیا اور  بھارتی ٹیم پر سبقت میں ان کا  اہم کردار رہا۔جے روٹ کے علاوہ جونی بیئر سٹو نے  57‘ روری برنز 49‘جوز بٹلز نے 23‘معین علی 27 اور ڈوم سبلی 11 رنز ہی دہر ہندسے میں پہنچ سکے۔

محامد سراج نے غیر معمولی کارکردگی دکھائی جن کی سوئنگ بولنگ سے انگلش بیٹسمین پریشان دکھائی دیئے۔ محمد سراج نے چار‘ جسپرت بمرا نے تین اور محمد شامی نے دو کھلاڑیو کو آؤٹ کیا۔

 انگلینڈ کو پہلی اننگز میں 27رنز کی سبقت حاصل تھی۔ پہلی اننگزکے برعکس بھارت کی دوسری اننگز کا آغاز اچھا نہیں تھا۔ سنچری میکر راہول 5 رنز پر وڈ کا شکار ہو گئے۔ روہت شرما بھی 21 کے ذاتی اسکور پر وڈ کو وکٹ دے بیٹھے۔ دوسری اننگز میں انگلش بولرز نے عمدہ بولنگ کی اور بھارتی بلے بازوں کو آسانی سے رنز نہیں بنانے دیئے۔

مہمان ٹیم کے پوجارا 45  ذ کوہلی 20 ‘ اجنکیا ریہانے 61‘ پنت 22‘ ایشانت شرما 16 اور جڈیجا 3 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے تھے۔ اس وقت بھارت کا اسکور آٹھ وکٹ پر 209رنز تھا اور اسے انگلینڈ صرف 182 رنز کی سبقت حاصل تھی۔ اس وقت کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ فاسٹ بولرز کی جوڑی منجھے ہوئے بلے بازوں جیسی فاتحانہ کارکردگی کا مظاہرہ کر کے سب کو حیرت زدہ کر دے گی۔

محمد شامی نے مین آف کرائسس کا کردار ادا کرتے ہوئے شاندار اننگز کھیلی  اور جسپرت بمرا نے ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ دونوں نے نویں وکٹ کی شراکت میں 89 فیمتی رنز کا اضافہ کیا  جس کے دوران محمد شامی نے اپنی نصف سنچری بھی مکمل کی اور خود کو قابل اعتماد بلے باز ثابت کیا وہ پہلے بھی ایسا کارنامہ انجام دے چکے ہیں۔

محمد شامی 56رنز  ناٹ آؤٹ اور بمرا 34 ناٹ آؤٹ نے بھارت کا اسکور 298 رنز آٹھ کھلاڑی آؤٹ پر پہنچایا تو کپتان کوہلی نے بڑا دلیرانہ فیصلہ کرتے ہوئے اننگز ڈیکلیئر کر دی اور انگلش ٹیم کومیچ جیتنے کیلئے 60 اوورز میں میچ جیتنے کیلئے 272 رنز کا ہدف دیا۔

بھارت کی جانب سے محمد شامی اور بمرا نے بیرون ملک اور انگلینڈ میں  نویں وکٹ پر شراکت کا  نیا ریکارڈ  فائم کیا اس سے قبل کپیل دیو اور مدن لعل نے  جون 1982 میں نویں وکٹ کی شراکت میں 66 رنز بنائے تھے۔ بیرون ملک نویں وکٹ کی شراکت میں کرن مورے اور ونکا  پاٹھی راجو نے 1991 میں میلبورن ٹیسٹ میں 77 رنز بنائے تھے۔

انگلش کرکٹ ٹیم کی دوسری اننگزکا آغازانتہائی تباہ کن اندازمیں ہوا۔ بیٹنگ میں شاندار کارکردگی دکھانے والے  شامی اور بمرا نے یکے بعد دیگرے  صرف دو اضافی رنز تھے اور دونوں اوپنرز کھاتہ کھولے بغیر ہی  واپس لوٹ گئے۔ اس ابتدائی دھچکے  کے بعد انگلش ٹیم سنبھل نہیں پائی اوروقفے وقفے سے وکٹیں گرتی رہیں ۔

محمد سراج‘ جسپرت بمرا‘ ایشانت شرما اور محمد شامی کی برق رفتار اور سوئنگ بولنگ نے میزبان ٹیم کی بیٹنگ لائن کو تہس نہیں کر دیا اور صرف تین بلے باز ہی دہرے ہندسے میں داخل ہو سکے۔  کپتان جے روٹ 33‘ جوز بٹلر25 اور معین علی نے 13 رنز بنائے۔ انگلش ٹیم صرف 120 پر ڈھیر ہو گئی۔ آخری پانچ وکٹیں صرف 30 رنز میں گریں۔  29 فاضل رنز انگلش مجموعے 120 رنز میں دوسرا بڑا اسکور تھا ۔ بھارت کی جانب سے محمد سراج نے چار‘ جسپرت بمرا نے تین‘ ایشانت شرما نے دو اور محمد شامی نے ایک وکٹ لی۔

  محمد سراج نے بھارت کی فتح میں مرکزی کرادار ادا کیا اور 126 رنز کے عوض آٹھ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا یہ  لازڈر کرکٹ گراؤنڈ پر ٹیسٹ میچ میں کسی بھی بھارتی بولر کی بہترین کارکردگی ہے اس سے قبل کپیل دیو نے 1982 میں 168رنز دے کر آٹھ وکٹیں حاصل کی تھیں۔

 اس سے قبل 2014  میں انگلینڈ کے خلاف میں محمد شامی اوربھوبیشور کمار نے 10 ویں وکٹ کی شراکت میں 111 رنز بنائے تھے۔ شامی 51 ناٹ اوٹ اور بھوبنیشور نے 54 رنز بنائے تھے۔ اس بار نویں وکٹ کی شراکت میں محمد شامی نے جسپرت بمرا کے ساتھ 89  رنز جوڑے جو بھارتی ٹیم کی کامیابی میں اہم ثابت ہوئے۔

 لارڈز میں  بھارتی فاسٹ بولرز نے میچ پہلی بار  19 انگلش بلے بازوں کو پویلین کی راہ دکھائی اس سے قبل دو بار ٹیسٹ میچ میں بھارتی فاسٹ بولرز 20وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔  بھارتی  پیس اٹیک نے جنوبی افریقہ کے خلاف جوہانسبرگ ٹیسٹ اور انگلینڈ کے خلاف 2021 میں  ٹرینٹ برج ٹیسٹ میں یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔ پہلے ٹیسٹ میچ میں بھی بھارتی فاسٹ بولرز نے تمام 20 وکٹیں حاصل کی تھیں۔

 انگلش کپتان جے روٹ نے پہلی اننگزمیں شاندار 180رنز کی اننگز کھیلی تھی جو ان کی بائسویں ٹیسٹ سنچری تھی۔  ان کے  ٹیسٹ کیریئر میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ انہوں نے  ٹیسٹ میں سنچری بنائی اور ٹیم کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

جنوبی افریقہ کے سابق کپتان گریم اسمتھ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے جو 27 میں سنچریاں بنائیں ان میں ٹیم کو شکست نہیں ہوئی جبکہ انگلینڈ کے والی ہیمنڈ ئجیف بائیکاٹ اورای ین بیل کو  22 سنچریوں کے ساتھ یہ اعزاز حاصل ہے۔

 انگلینڈ کے سام کرن لارڈز میں کنگ پیئر حاصل کرنے والا پہلا کھلاڑی بن گئے۔ وہ دونوں اننگز میں  پہلی ہی گیند پر اپنی وکٹ گنوا بیٹھے تھے۔  وہ مجموعی طور پر کنگ پیئر والے  چوتھے انگش  کھلاڑی ہیں۔

ان سے پہلے  1892 کے سڈنی ٹیسٹ میں آسٹریلیا کے خلاف ولیم ایٹویل‘  1906 کے  کیپ ٹاؤن ٹیسٹ میں جنوبی افریقہ کے خلاف ارنسٹ ہیز اور 2016 میں بھارت کے خلاف  وشاکا پٹنم  ٹیسٹ میں  جیمز ایندرسن نے بھی کنگ پیئر حاصل کیا تھا۔

 انگلش ٹیم کے سات بلے باز لارڈز ٹیسٹ میں صفر پر آوٹ ہوئے۔ انگلش ٹیم  22 سال بعد  اس صورت حال سے دوچار  ہوئی ہے۔ آخری مرتبہ جنوبی افریقہ کے خلاف جوہانسبرگ ٹیسٹ میں سات انگلش کھلاڑی صفر پر پویلین لوٹے تھے۔  لارڈز کرکٹ گراؤنڈ پر ایک ٹیم کے سات کھلاڑیوں کے صفر پر آؤٹ ہونے کا یہ  پانچواں واقعہ ہے۔

 انگلش کرکٹ کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ ہوم گراؤنڈ پر ٹیسٹ میچ کی ایک ہی اننگز میں  انگلینڈ کے دونوں اوپنرز  صفر پر آؤٹ ہوئے۔ بھارت کے خلاف بھی  دونوں اوپنرز کے  کھاتہ کھولے بغیر آؤٹ ہونے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔  ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں چوتھی مرتبہ  انگلش ٹیم کے دونوں اوپنرز اور ون ڈاؤن بیٹسمین  صفر پر آؤٹ ہوئے۔  1909-10 میں جنوبی افریقہ کے خلاف کیپ ٹاؤن ٹیسٹ میچ میں  انگلش ٹیم کو اسی صورت حال کا سامناکرنا پڑا تھا۔ دوسری بار2001-02 میں نیوزی لینڈ کیخلاف  کرائسٹ چرچ ٹیسٹ میں ٹریسکوتھک‘ مارک باؤچراور مائیکل وان صفر پر آؤٹ ہوگئے تھے۔ 2020-21 میں احمد آباد ٹیسٹ میں  ڈوم سبلی ژاک کرالے اور جونی بیئرسٹو بغیر کوئیرن بنائے پویلین لوٹ گئے تھے۔

 بھارت اور انگلینڈ کے مابین لارڈز گراؤنڈ پر پہلا ٹیسٹ 1932 میں کھیلا گیا تھا جس میں بھارتی ٹیم کی قیادت سی کے نائیڈو نے کی تھی اور انگلینڈ کے کپتان ڈگلس جارڈن تھے۔ اس میچ میں پاکستانی ٹیسٹ کرکٹر ماجد جہانگیرکے والد جہانگیر خان‘ سید وزیر علی‘ نذیر علی اور محمد نثار بھی کھیلے تھے۔  بھارت یہ میچ 153 رنزسے ہارگیا تھا ۔

لارڈز ٹیسٹکی پہلی اننگز میں فاسٹ بولر محمد  نثار نے  پانچ اور دوسری اننگز میں فاسٹ بولر  جہانگیر خان نے چار کھلاڑی آؤٹ کیے تھے۔ انگلش ٹیم میں ہربرٹ سٹکلف والی ہیمنڈ  فرینک وولی پرسی ہومز  جیسے کھلاڑی تھے۔

 لارڈز کے تاریخی گراؤنڈ پر بھارت اور  انگلینڈ کی ٹیمیں 19 مرتبہ مد مقابل آئی ہیں جن میں 12 مرتبہ انگلینڈ فاتح رہا اور بھارت صرف تین ٹیسٹ میچ جیتا۔ چار ٹیسٹ میچ ڈرا ہوئے۔ اس گراؤنڈ پر بھارت کو تین مرتبہ اننگز شکست ہوئی۔  بھارت کو لارڈز میں پہلی  ٹیسٹ کامیابی کیلئے  54 سال کا طویل انتظار کرنا پڑا تھا۔

بھارتی ٹیم نے آل راؤنڈر کپیل دیو کی قیادت میں ڈیوڈ  گاور الیون کو جون 1986 میں لارڈ میں پانچ وکٹوں سے شکست دی تھی جبکہ دوسری کامیابی ایم ایس دھونی کی قیادت میں جولائی 2014 کو 95 رنزسے ملی تھی۔ اس میچ میں بھی بھارتی فاسٹ بولرز نے اچھی کارکردگی دکھائی تھی۔

بھوبنیشور کمار نے پہلی اننگز میں چھ اور ایشانت شرما نے دوسری اننگز سات وکٹیں حاصل کی تھیں۔  لارڈز گراؤنڈ پر 2018  کے ٹیسٹ میں جے روٹ الیون نے کوہلی الیون کو  ایک اننگز اور 159 رنز سے ہرا دیا تھا۔  بھارتی ٹیم پہلی اننگز میں 107 اور دوسری میں 130 پر ڈھیر ہو گئی تھی۔

 دونوں ملکوں کے مابین اب تک  انگلش سرزمین پر  64 ٹیسٹ میچ کھیلے گئے جن میں سے انگلینڈ نے 34 ٹیسٹ جیتے جبکہ بھارتی ٹیم صرف آٹھ میچ میں فتحیاب ہوئی۔ 22 ٹیسٹ میچ ڈرا ہوئے۔جیف ہاروتھ کی زیر قیادت  نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم نے کینڈی ٹیسٹ میں لنچ کے بعد  اپنی دوسری  اننگز(میچ کی تیسری  اننگز) ڈیکلیر کر دی تھی جس کے بعد کیوی بولرز نے میزبان سری لنکن ٹیم کا بھرکس نکال دیا تھا اور میچ 165 رنز سے جیتا تھا۔

ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں  لنچ کے بعد اننگز ڈیکلیر کر کے میچ جیتنے کا یہ پہلا واقعہ تھا۔  سری لنکا کے کپتان دلیپ مینڈس تھے۔ نیوزی لینڈ نے پہلی اننگز میں 276 رنزاور دوسری اننگز 201رنز آٹھ کھلاڑی آؤٹ پر ڈیکلیرکر دی تھی سری لنکا  پہلی اننگز میں 215 اور  دوسری میں صرف 97 رنز پر ڈھی ہو گئی تھی۔

 لارڈز ٹیسٹ میں کامیابی کے ساتھ ہی بھارتی کپتان ویرات کوہلی فتوحات کے تناسب سے کپتانوں کی فہرست میں تیسرے نمیر پر آگئے اور انہوں نے ویسٹ انڈین لیجنڈ کلائیو لائیڈ کو پیچھے حھوڑ دیا۔ پہلی دو پوزیشنز پر بالترتیب اسٹیو وا اور رکی پونٹنگ براجمان ہیں ۔ آسٹریلیا کے اسٹیوا  وا نے 57 ٹیسٹ میچوں میں ٹیم کی قیادت کی اور 41 فتوحات سمیٹیں جبکہ صرف 9  ٹیسٹ ہارے اور سات ڈرا ہوئے۔

ان کی جیت کا تناسب 71.92 ہے۔ آسٹریلیا کے  رکی پونٹنگ  77 ٹیسٹ میں کپتان رہے 48جیتے اور 16 ہارے جبکہ  13 ٹیسٹ میچ ڈرا ہوئے۔ ان کی فتوحات کا تناسب 62.33 فیصد ہے۔ بھارت کے ویرات کوہلی 63  ٹیسٹ میں  قیادت کی۔ 37 میچ جیتے‘ 15 ہارے اور  11  ٹیسٹ ڈرا  ہوئے۔ ان کی کامیابی کا تناسب 58.73 فیصد ہے۔ ویسٹ انڈین لیجنڈ کلائیو لائیڈ نے  74 ٹیسٹ  میچوں میں کپتانی کے فرائض انجام دیئے جن میں سے 36 ٹیسٹ جیتے 12 ہارے  اور 26  بے نتیجہ رہے۔ ان کی جیت کا تناسب  48.64 فیصد  ہے۔

 جنوبی افریقہ کے گریم اسمتھ واحد کپتان ہیں جنہوں نے ایک سو سے زیادہ ٹیسٹ میچوں میں ٹیم کی فیادت کا فریضہ انجام دیا۔ ان کی فتوحات کی تعداد بھی دوسروں سے زیادہ ہے لیکن تناسب کے اعتبار سے وہ پانچویں نمبر پر ہیں۔ انہوں نے  109 میچوں میں ٹیم کی قیادت کی  جن میں سے 53 ٹیسٹ میں کامیابی ان کا مقدر بنی ۔29 ہارے 27 ڈرا ہوئے۔ ان کی فتح کا تناسب  48.62 ہے۔

آسٹریلیا کے ایلن بارڈر 93  میچوں میں کپتان رہے جن میں سے  32 جیتے 22 ہارے اور 38 بے نتیجہ رہے۔  ایک میچ ٹائی ہوا۔  ان کی کامیابی کا تناسب  34.40 فیصد رہا۔

یبرون ملک ٹیسٹ میں کامیابیوں کے اعتبار سے ویرات کوہلی کا ریکارڈ ایم ایس دھونی سے بہتر ہے۔ بیرون ملک کھیلے جانے والے 26 ٹیسٹ میچوں میں سے ویرات کوہلی نے 9 ٹیسٹ جیتے 12 ہارے اور پانچ ڈرا کیے جبکہ دھونی نے 26 ٹیسٹ میں سے صرف چار میں کامیابی حاصل کی  14 ہارے اور8  ڈرا کیے۔

 انگلش کپتان جو روٹ زبردست فارم میں ہیں اور بھارت کے خلاف دونوں ٹسٹ میں سنچریوں کی وجہ سے وہ  ٹیسٹ بیٹنگ رینکنگ میں اب نیوزی لینڈ کے کین ولمیسن کے بعد دوسرے نمبر پر آگئے ہیں اور ان  سے صرف 8 پوائنٹس پیچھے ہیں۔

ولیمسن 901 پوائنٹس کے ساتھ پہلے روٹ 893 پوائنٹس دوسرے اور آسٹریلیا کے سٹیون اسمتھ تیسرے مارک لبوشین چوتھے ویرات کوہلی پانچویں روہت شرما چھٹے اور  رشابھ پنت ساتویں نمبر پر براجمان ہیں۔

 ایشانت شرما انگلش سرزمین  انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ وکٹوں کی نصف سنچری مکمل کرنے والے پہلے بھارتی بولر بن گئے وہ یہ کارنامہ انجام دینے والے دوسرے ایشیائی بولر ہیں ان سے قبل پاکستانی لیجنڈ وسیم اکرم نے  انگلش سرزمین پر یہ اعزاز حاصل کیا تھا۔

 انگلینڈ نے تیسرے ٹیسٹ میچ کیلئے ٹیم سے اوپنر ڈوم سبلی کو ڈراپ کر دیا ہے جبکہ ڈیوڈ ملن کو 15 رکنی اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔ سبلی کے ڈراپ کیے جانے کے بعد اس کے روشن امکانات ہیں کہ تیسرے ٹیسٹ میں حسیب حمید‘روری برنز کے ساتھ انگلش اننگز کا آغاز کریں گے۔

انگلش اسکواڈ میں کپتان جو روٹ‘معین علی‘ جیمزاینڈرسن‘ جونی بیئر سٹو‘ روریبرنز‘ جوز بٹلر‘ حسیب حمید‘ سام کرن‘ ڈان لارنس‘ ثاقب محمود‘ ڈیوڈ ملن‘ کریگ اورٹن‘ اولی پوپ‘ اولی رابنسن  اورمارک وڈ شامل ہیں۔  مارک وڈ کا کندھا زخمی ہو گیا  جس کی وجہ سے تیسرے ٹیسٹ میں  ان کی شرکت کے امکانات  معدوم دکھائی دیتے ہیں

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube