Monday, September 20, 2021  | 12 Safar, 1443

ٹوکیو اولمپکس: پاکستان 28 سال سے میڈل کا منتظر

SAMAA | - Posted: Jul 24, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Jul 24, 2021 | Last Updated: 2 months ago

جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں کھیلوں کا سب سے بڑا عالمی میلہ کرونا پینڈامک  کے سائے میں سج گیا ہے۔ کھیلوں کے مقابلے ملک کے مختلف شہروں میں ہوں گے۔ کرونا کا خوف افتتاحی تقریب پر بھی غالب تھا جہاں رنگا رنگ تقریب میں مہمانوں کی انتہائی قلیل تعداد موجود تھی اور مارچ پاسٹ میں بھی کھلاڑیوں کی تعداد کو کم کر دیا گیا تھا۔

کرونا پینڈامک کی وجہ سے ایک سال کی تاخیر سے شروع ہونے والے اس عالمی ایونٹ کے انعقاد پر مقامی افراد نے شدید تنقید کی ہے اور اسے منسوخ کرنے کے لیے اسٹیڈیم کے باہر مظاہرہ بھی کیا گیا۔ جب کہ کئی کھلاڑیوں کے کرونا ٹیسٹ بھی مثبت آئے ہیں۔  کھلاڑیوں کے مارچ پاسٹ میں زیادہ تر دستوں نے کرونا رولزکی پاسداری کی انہوں نے چہروں پر ماسک لگا رکھے تھے اور سماجی فاصلہ بھی برقرار رکھا تھا تاہم چند دستوں نے رولز کا خیال نہیں رکھا جیسا کہ پاکستانی پرچم بردار ماحور شہزاد اور خلیل اختر نے اپنے چہروں پر ماسک نہیں لگائے تھے۔ پاکستانی کھلاڑی  سفید شلوار قمیض اور واسکٹ پہنے ہوئے تھے۔

 افتتاحی  تقریب میں نہ شائقین کا شور شرابہ تھا اور نہ ہی کھلاڑیوں کی کوئی اچھل کود تھی۔ کرونا میں جان کی بازی ہارنے والوں کے لیے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی اور انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کے سربراہ باخ نے ٹوکیو گیمز کو امید کا لمحہ قرار دیا اور گیمز منتظمین کی کاوشوں کو سراہا۔ جاپانی ٹینس اسٹار ناؤمی اوساکا نے اولمپک مشعل سے  اولمپک الاؤ کو روشن کیا جو اولمپک گیمز کے اختتام تک جلتا رہےگا۔

 افتتاحی تقریب جاپان کی جدید ٹیکنالوجی میں مہارت کی شاہکارتھی جس میں گرافکس کے ذریعے تمام کھیلوں کواجاگر کیا گیا تھا۔ فنکاروں نے جاپان کے ماڈرن ڈانس کا مظاہرہ کیا اوراولمپکس کی تاریخ کو منفرد انداز میں دکھایا گیا۔ تقریب میں جاپانی ثقافت کے رنگ نمایاں تھے۔ گرافکس کے ذریعے اولمپکس کی میزبانی کے لیے کی جانے والی کاوشوں کی جھلک بھی پیش کی گئی۔ جاپانی شہنشاہ ناروہیٹو، امریکی خاتون اول جل بائیڈن سمیت قلیل تعداد میں مہمان اور معززین اسٹیڈیم میں موجود تھے۔

ٹوکیو اولمپکس میں  33  کھیلوں کے مختلف ایونٹس میں  ریکارڈ 339 گولڈ میڈلز کے لیے دنیا کے 207  ممالک کے 11 ہزار سے زائد ایتھلیٹ اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر کے وکٹری اسٹینڈ پر پہنچنے کی جدوجہد کریں گے۔ اس بار 5 نئے کھیلوں کو بھی متعارف کروایا گیا ہے۔ ٹوکیو اولمپکس میں 34 نئے ایونٹس ہوں گے۔ اس مرتبہ خواتین کی ریکارڈ تعداد اولمپکس میں شرکت کر رہی ہے جن کا تناسب 48 فیصد ہے۔ امریکی دستہ سب سے بڑا ہے جس کے ایتھلیٹس کی تعداد 613 ہے۔

 اس بار اولمپکس میں متعارف کروائے گئے نئے کھیلوں میں  کراٹے، اسکیٹ بورڈ ، سپورٹ کلمبنگ، بیس بال سافٹ بال، سرفنگ شامل ہیں ۔ بیس بال اور سافٹ بال تیکنیکی طور پر اولمپکس میں نئے کھیل نہیں ہیں لیکن یہ سن 2008 بیجنگ اولمپکس کے بعد سے شامل نہیں کیے جا رہے تھے۔ باکسنگ، کنوئی سلالوم،  کنوئی سپرنٹ، سائیکلنگ، روئنگ اور سوئمنگ میں نئے ایونٹس  متعارف کروائے گئے ہیں ۔ نئے مکسڈ جینڈر ایونٹس بشمول سوئمنگ میں 4×100 مکسڈ مڈلے ریس اورٹرائی تھیلون  میں مکسڈ ریلے شامل ہے۔ نئے کھیلوں کومتعارف کرنے کا مقصد نئی نسل کی کھیلوں میں دل چسپی پیدا کرنا ان کو اس جانب راغب کرنا ہے۔ اولمپک کمیٹپی کے سربراہ ٹرماس باخ کا کہنا تھا کہ ہم اسپورٹس کو نوجوانوں تک پہنچانا چاہتے ہیں اور کھیلوں کے فروغ کے لیے ان کی دل چسپی کے آپشنز کو شامل کیا جا رہا ہے۔

ٹوکیو اولمکپس کے میڈلز ری سائیکلڈ موبائل فون سے تیار کیے گئے ہیں۔ ان 2011  میں  گریٹ ایسٹ جاپان زلزلہ کے بعد عارضی طور پر بنائے گئے گھروں کے ایلمونیم ویسٹ کو اولمپک ٹارچ کی تیاری میں استعمال کیا گیا ہے۔ سوا سو سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ برطانوی اولمپک دستے میں خواتین کھلاڑیوں کی تعداد مردوں سے زیادہ ہے۔ برطانیہ کے 376 رکنی دستے میں 201 خواتین کھلاڑی ہیں۔ برطانوی کھلاڑی 33 میں سے 26 کھیلوں میں میڈلز کے لیے زورآزمائی کریں گے۔ پندرہ ممالک ایسے ہیں جن کے قومی دستے میں صرف دو دو کھلاڑی ہیں۔

ٹوکیو اولمپکس میں 22  رکنی پاکستانی دستے میں 10 ایتھلیٹس اور 12  آفیشلز ہیں ۔ پاکستانی کھلاڑی 6 کھیلوں میں حصہ لے رہے ہیں لیکن پاکستانی کھلاڑیوں کے میڈل جیتنے کے امکانات انتہائی معدوم ہیں۔ اولمپکس تاریخ  میں پہلی مرتبہ 3 خواتین کھلاڑی پاکستان کی نمائندگی کر رہی ہیں جن میں بیڈ منٹن اسٹار ماحور شہزاد، ایتھلیٹ نجمہ پروین اور پیراک بسمہ خان شامل ہیں۔ پاکستان 28 سال سے اولمپک گیمز میں میڈل جیتنے کا  منتظر ہے۔ پاکستان ہاکی ٹیم نے سن 19992 کے بارسلونا اولمپکس میں ہالینڈ کو 4-3 سے ہرا کر کانسی کا تمغہ جیتا تھا۔ پاکستان کو سیمی فائنل میں جرمنی نے 2-1 سے زیر کیا تھا۔ اس کے بعد پاکستان اولمپکس میں میڈل نہیں جیت پایا۔ پاکستان ہاکی ٹیم  ٹوکیو اولمپکس میں کوالیفائی کرنے میں ناکام رہی ہے لیکن پاکستان کو اس بار انفرادی ایونٹس میں میڈل جیتنے کی امید ہے۔

پاکستان کا پرچم اٹھانے والی ماحور شہزاد کو ٹوکیو اولمپکس میں اپنے پہلے ہی میچ میں شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ خواتین بیڈمنٹن سنگلز ایونٹ میں ماحور شہزاد کو میزبان جاپان کی عالمی نمبر 5 ایکانی یاما گوچی نے 21-3، 21-8 سے  ہرا کر آ آؤٹ کلاس کر دیا۔ جاپانی کھلاڑی نے مقابلہ صرف 23 منٹ میں جیت لیا۔ یاما گوچی کو پہلا گیم جیتنے میں صرف 10 منٹ لگے تھے۔ جاپانی کھلاڑی اپنی پاکستانی حریف پر مکمل طور پر حاری رہی جس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ماحور یاما گوچی کے خلاف ایک مرتبہ بھی مسلسل 2 پوائنٹس حاصل نہیں کر پائیں۔ اب ماحور کا اگلا  مقابلہ 27 جولائی کو برطانیہ کی کرسٹی گلمور سے ہے۔

کراچی سے تعلق رکھنے والی بیڈمنٹن اسٹار ماحور شہزاد کو  بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ انہوں نے ٹوکیو اولمپکس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ میں خلیل اختر کے ساتھ قومی پرچم اٹھایا تھا ۔ ورلڈ بیڈمنٹن فیڈریشن نے جولائی 2019 میں کھلاڑیوں کی عالمی رینکنگ جاری کی تو تاریخ میں پہلی بار بیڈمنٹن کی ٹاپ 150 کھلاڑیوں میں  ماحور شہزاد کا نام بھی تھا۔ اسی بنیاد پر ان کو ٹوکیو اولمپکس میں مدعو کیا گیا ۔ وہ گزشتہ 3 برسوں سے نیشنل چیمپیئن ہیں۔

ٹوکیو اولمپکس میں پاکستانی شوٹر گلفام جوزف 10 میٹر ائر پسٹل شوٹ  میں میڈل راؤنڈ کی دوڑ سے باہر ہو گئے۔ فائنل راؤنڈ کے لیے 8 شوٹرز کو کوالیفائی کرنا تھا لیکن  گلفام جوزف مینز 10 میٹر ائیر پسٹل میں نویں نمبر پر رہے۔ ایک مرحلے پر ان کی پوزیشن ساتویں تھیں لیکن وہ اپنی اس پوزیشن کو برقرار نہیں رکھ پائے اور مقابلے سے باہر ہو گئے۔

نجمہ پروین کا تعلق پاکستان آرمی سے ہے جنہوں نے ریو اولمپکس 2016 میں بھی پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے 100 میٹر دوڑ میں حصہ لیا تھا۔ تیس سالہ نجمہ 200 میٹر دوڑ میں حصہ لیں گی۔  ٹوکیو اولمپکس میں اس مرتبہ نجمہ پروین کی وائلڈ کارڈ انٹری ہے۔ انہوں نے نیشنل گیمز 2019  میں 6 گولڈ میڈل جیتے تھے اور نیپال میں منعقدہ  ساؤتھ ایشین گیمز 2019  میں ایک طلائی، دو چاندی اور ایک کانسی کا تمغہ جیتا تھا۔ نجمہ پروین نے 400  میٹرز ریس طلائی، 200 میٹرز ایونٹ میں چاندی کا تمغہ حاصل کیا  تھا۔ نجمہ پروین  4×400  4میٹرز ریلے ریس میں چاندی اور  x100  میٹرز ریلے میں کانسی کا تمغہ جیتنے والی پاکستانی ٹیم کا حصہ تھیں۔

 میاں چنوں سے تعلق رکھنے والے  24 سالہ ارشد ندیم جیولن تھرو میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔ وہ اولمپکس کے لیے براہ راست کوالیفائی کرنے والے واحد اور پہلے پاکستانی ہیں۔ اس سے قبل ہمیشہ پاکستانی کھلاڑی وائلڈ کارڈ انٹری کی بنیاد پر اولمپکس میں مدعوکیے جاتے تھے۔  ارشد ندیم نے نیپال میں ہونے والی ساؤتھ ایشین گیمز 2019  میں نیزہ 86.29  میٹر دور پھینک کر نہ صرف پاکستان بلکہ جنوبی ایشن گیمز کا نیا ریکارڈ قائم کرنے کا کارنامہ انجام دیا تھا  اور گولڈ میڈل کو اپنے گلے کی زینت بنایا تھا اسی بنیاد پر ارشد نے براہ راست اولمپکس کے لیے کوالیفائی کیا ہے۔ وہ مختلف ریجنل اور بین الاقوامی ایونٹس میں پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں۔

سیئول اولمپکس میں باکسنگ میں پاکستان کے لیے کانسی کا تمغہ جیتنے والے باکسر حسین شاہ کے صاحبزادے شاہ حسین شاہ ایک یکسر مختلف کھیل جوڈو میں پاکستان کی  نمائندگی کر رہے ہیں۔ اٹھائیس  سالہ شاہ حسین شاہ نے ریو اولمپکس میں بھی حصہ لیا تھا۔  انہوں نے گلاسگو میں کامن ویلتھ گیمز 2014  میں چاندی کا تمغہ اپنے نام کیا تھا  جبکہ وہ ساؤتھ ایشین گیمزمیں 2 طلائی تمغے پاکستان کو جتوا چکے ہیں۔ شاہ حسین اپنے والد کے نقش قدم پر  چلتے ہوئے اولمپکس میں میڈل جیتنے کا عزم رکھتے ہیں۔

گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے 21 سالہ ویٹ لفٹر طلحہ طالب ویٹ لفٹنگ میں 67  کلو گرام کیٹیگری میں حصہ لیں گے۔  وہ اولمپکس میں 46 سال بعد نمائندگی کرنے والے پہلے پاکستانی ویٹ لفٹر ہیں۔ سن  1976 میں ارشد ملک نے ویٹ لفٹنگ میں آخری مرتبہ اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کی تھی۔  کامن ویلمتھ گیمز 2018 میں طلحہ نے  برانز میڈل جیتا تھا۔ جبکہ  کامن ویلتھ یوتھ ویٹ لفٹنگ چیمپیئن شپ 2016  میں انہوں نے گولڈ میڈل حاصل کیا تھا۔

بسمہ خان 50  میٹرز ویمنز فری سٹائل سوئمنگ میں پاکستان کی نمائندگی کریں گی۔  ان کی بڑی بہن کرن خان سن 2008 کے بیجنگ اولمپکس میں حصہ لے چکی ہیں۔ بسمہ خان نے  ساؤتھ ایشین گیمز 2019 میں 200  میٹرز انفرادی مڈلے میں سلور میڈل حاصل کیا تھا۔ کراچی کے 25 سالہ حسیب طارق  100 میٹرز فری سٹائل پیراکی میں حصہ لیں گے۔ وہ گزشتہ کئی برسوں سے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور 100  میٹر پیراکی کا قومی ریکارڈ ان کے نام ہے۔

غلام مصطفی بشیر اور خلیل اختر 25 میٹرز ریپڈ فائر پسٹل ایونٹ میں حصہ لیں گے۔ خلیل اختر نے 2016  میں گوہاٹی میں جنوبی ایشین گیمز میں سلور میڈل جیتا تھا ۔غلام مصطفیٰ بشیر کو اولمپک کوٹے پر ٹوکیو کا ٹکٹ ملا ہے۔

 پاکستان نے اپنے قیام  کے ایک سال بعد ہی یعنی 1948 میں لندن میں ہونے والے اولمپک گیمز میں شرکت کی تھی۔ پاکستان نے ویمبلے اسٹیڈیم لندن میں ہونے والے  سمرگیمز میں 39 کھلاڑی بھیجے تھے جنہوں نے 6 کھیلوں کے 20 ایونٹس میں حصہ لیا تھا۔ پاکستانی ایتھلیٹس نے  100 میٹر، 110 میٹر ہرڈلز، 200 میٹر ڈور، 400 میٹر ہرڈلز، شاٹ پٹ، ڈسکس تھرو  میں حصہ لیا تھا جبکہ باکسرز نے باکسنگ کی 3 کیٹیگریز اور پاکستانی سائیکلٹس نے سائیکلنگ کے 3 ایونٹس سپرنٹ، روڈ ریس اور ٹائم ٹرائل میں  شرکت کی تھی لیکن وہ ابتدائی مرحلے میں ہی ناکام ہو گئے تھے۔ پاکستان نے ویٹ لفٹنگ، پیراکی اور ریسلنگ میں بھی اپنے کھلاڑی بھیجے تھے۔ پاکستانی ہاکی ٹیم نے علی اقتدار شاہ دارا کی قیادت میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چوتھی پوزیشن حاصل کی تھی۔ پاکستان کو سیمی فائنل میں  برطانیہ نے صفر کے مقابلے میں 2 گول سے شکست دی تھی۔ تیسری پوزیشن کے لیے پاکستان  کا مقابلہ ہالینڈ سے تھا۔ دونوں ٹیموں کا میچ 1-1  سے برابر رہا تھا جس کے بعد دوسرا میچ ہوا جس میں ہالینڈ نے پاکستانی ہاکی ٹیم کو 4-1 سے شکست دے کر کانسی کا تمغہ جیتا تھا۔

 پاکستان  اولمپکس مقابلوں میں 18  ویں مرتبہ شرکت کر رہا ہے۔ پاکستان نے صرف سن 1980میں روس میں ہونے والے ماسکو اولمپکس میں حصہ نہیں لیا تھا کیوں کہ افغانستان پر روسی فوج کشی کے خلاف عالمی ردعمل کے طور پر امریکہ کی قیادت میں  پاکستان سیمت دنیا کے 66 ملکوں نے ماسکو اولمپکس کا بائیکاٹ کیا تھا۔ ماسکو سمر گیمز میں 80 ممالک نے شرکت کی تھی جواولمپک گیمز میں شریک ملکوں کی کم ترین تعداد کا ریکارڈ ہے۔

پاکستان نے اولمپک گیمز میں مجموعی طور پر 10 میڈلز جیتے ہیں جن میں سونے کے 3 چاندی کے 3 اور کانسی کے 4 تمغے شامل ہیں۔  پاکستانی ہاکی ٹیم نے 8 تمغے بشمول 3 گولڈ، 3 سلوراور 2 برانز میڈلز جیتے جبکہ  انفرادی طور پر 2 کھلاڑی کانسی کے تمغے حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ پاکستانی ریسلر محمد بشیر نے سن 1960 کے روم اولمپکس میں فری اسٹائل ویلٹر ویٹ کیٹیگری میں کانسی کا تمغہ جیتا تھا جو پاکستان کا پہلا انفرادی تمغہ تھا۔ اس کے بعد سن 1988 کے سیئول اولمپکس میں پاکستانی باکسر حسین شاہ نے مڈل ویٹ کیٹیگری میں  کانسی کا تمغہ اپنے نام کیا تھا ۔ اس کے بعد پاکستان کا کوئی بھی کھلاڑی  اولمپک گیمزمیں انفرادی طور پر کوئی میڈل نہیں  جیت پایا۔

ایک زمانہ تھا جب پاکستانی ہاکی ٹیم  ہر ٹورنامنٹ کے فائنل اور سیمی فائنل تک رسائی کرتی تھی لیکن اب صورت حال یکسر بدل گئی ہے۔ پاکستان نے اولمپک گیمز میں اپنا پہلا تمغہ سن 1956 کے میلبورن اولمپکس میں حاصل کیا تھا جب پاکستانی ہاکی ٹیم کو فائنل میں روایتی حریف بھارت نے 1-0 سے شکست دے کر گولڈ میڈل سے محروم کر دیا تھا اور پاکستان کے حصے میں چاندی کا تمغہ آیا تھا لیکن 1960 کے روم اولمپکس میں پاکستانی ہاکی ٹیم نے فائنل میں  بھارت کو 1-0 سے ہرا کر نہ صرف گزشتہ اولمپکس کی شکست کا بدلہ چکا دیا تھا بلکہ پاکستان کو اولمپک گیمز میں پہلا گولڈ میڈل جتوانے کا کارنامہ بھی انجام دیا۔ یہ فتح پاکستان کے لیے دوہری خوشی کا باعث تھی۔

  پاکستانی ہاکی ٹیم نے سن 1964 کے ٹوکیو اولمپکس میں چاندی کا تمغہ جیتا تھا۔ فائنل میں پاکستان کو روایتی حریف بھارت نے 1-0 سے زیر کیا تھا۔ سن 1968 کے میکسیکو اولمپکس میں پاکستانی ہاکی ٹیم گولڈ میڈل جیتنے میں کامیاب ہوئی تھی جب اس نے فائنل میں آسٹریلیا کو 2-1 سے شکست دی تھی۔

سن 1976 کے مانٹریال اولمپکس میں پاکستان ہاکی ٹیم نے ہالینڈ کو 3-2  سے ہرا کر کانسی کا تمغہ اپنے نام کیا تھا۔سن 1984 کے لاس اینجلس اولمپکس میں پاکستانی ہاکی ٹیم نے فائنل میں  مغربی جرمنی کو 2-1 سے  ہرا کر سونے کا تمغہ جیتا تھا ۔  اس کے بعد پاکستان ہاکی ٹیم نے 1992 کے بارسلونا اولمپکس  میں برانز میڈل جیتا تھا جو پاکستان کا اولمپکس میں آخری میڈل تھا ۔ اس کے بعد سے پاکستانی کھلاڑی  میڈلز جیتنے کے لیے سرگرداں ہیں۔ دیکھیں کب قسمت چمکتی ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube