Wednesday, July 28, 2021  | 17 Zilhaj, 1442

فرنچ اوپن:نواک جوکووچ نے نئی تاریخ رقم کر دی

SAMAA | - Posted: Jun 19, 2021 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Jun 19, 2021 | Last Updated: 1 month ago

سرب ٹینس اسٹار اور عالمی نمبر ایک نواک جوکووچ نے فرنچ اوپن ٹینس چیمپئن شپ کے فائنل میں یونانی کھلاڑی اسٹیفانوس تسیسپاس کو پانچ سیٹ کے سخت اور جاں گسل مقابلے میں   6-7 (6-8) 2-6 6-3 6-2 6-4  سے شکست دے کر اپنے کیریئر کا 19 واں گرینڈ سلام جیت لیا اور اس کے ساتھ ہی وہ سن 1968 میں شروع ہونے والے پروفیشنل اوپن ایرا کی تاریخ میں چاروں گرینڈ سلام ٹائٹل دو دو مرتبہ جیتنے والے پہلے بھی کھلاڑی بن گئے۔

ٹینس کی مجموعی تاریخ میں وہ یہ کارنامہ انجام دینے والے تیسرے مرد کھلاڑی ہیں۔ پروفیشنل اوپن ایرا سے قبل راڈ لیور اور رے ایمرسن نے بھی چاروں گرینڈ سلام دو دو مرتبہ جیتے تھے۔ یہ 34 سالہ نواک جوکووچ کا دوسرا فرنچ اوپن سنگلز اعزاز ہے۔

انہوں نے سن 2016 میں پہلی مرتبہ فرنچ اوپن ٹائٹل جیتا تھا جب انہوں نے فائنل میں برطانیہ کے اینڈی مرے کوچار سیٹ کے مقابلے میں زیر کیا تھا۔ اس فائنل میں بھی نواک جوکووچ پہلا سیٹ مرے سے ہارے تھے اور پھر مسلسل تین سیٹ جیت کر انہوں نے پہلی مرتبہ ٹرافی اپنے نام کی تھی۔  نواک جوکووچ اب  19گرینڈ سلام سنگلز ٹائٹل ز کے ساتھ دوسرے نمبر پر آگئے ہیں۔

جوکووچ نے اپنے کیریئر میں 64 گرینڈ سلام ٹورنامنٹ  میں شرکت کی جن میں انہوں نے 19 سنگل ٹائٹلز جیتے۔ انہیں گرینڈ سلام ٹورنامنٹس کے 10 فائنلز میں شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ انہوں نے آسٹریلین اوپن کے فائنل میں کبھی شکست نہیں کھائی  جبکہ وہ فرنچ میں چار فائنل، ومبلڈن  کے  ایک اور  یو ایس اوپن کے  پانچ فائنلز میں شکست سے دوچار ہوئے۔

انہیں تین گرینڈ سلام ایونٹس میں 11 مرتبہ سیمی فائنلز میں ناکامی ہوئی جن میں پانچ فرنچ اوپن‘  ومبلڈن اور یو ایس اوپن کے تین تین سیمی فائنل شامل ہیں۔

سوئس لیجنڈ راجر فیڈرر اور ہسپانوی کلے کورٹ کنگ  رافیل نڈال  20,20 گرینڈ سلام اعزازات  کے ساتھ پہلے نمر پر ہیں۔ سال رواں میں  دو گرینڈ سلام ایونٹس  ومبلڈن اور یوایس اوپن چیمپئن شپ کا انعقاد باقی  ہے۔ راجر فیڈرر گھٹنے کی سرجری کی وجہ سے کافی عرصے آرام کے بعد  فرنچ اوپن میں واپس آئے تھے لیکن وہ پری کوارٹر فائنل  دستبردار ہو گئے تھے کیونکہ وہ اپنے گھٹنوں پر زیادہ دباؤ نہیں ڈالنا چاہتے تھے۔

ومبلڈن ٹورنامنٹ  فیڈرر کیلئے  زیادہ اہمیت  رکھتا ہے اس میں شرکت کی غرض سے انہوں نے خود کو ریسٹ دیا ہے۔ فرنچ اوپن سیمی فائنل میں شکست کے  بعد رافیل نڈال کی جانب سے بھی ومبلڈن ایونٹ میں یقینی شرکت کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا۔

گراس کورٹ نڈال کیلئے  ویسے بھی زیادہ فیورٹ نہیں ہے ان حالات میں ومبلڈن میں جوکووچ کیلئے راستہ خاصا ہموار دکھائی دیتا ہے اور اگر کوئی اپ سیٹ نہ ہوا تو  جوکووچ کے ان دونوں لیجنڈ کھلاڑیوں کے ہم پلہ ہونے کے قومی امکانات نظر آتے ہیں۔ جوکووچ نے 9 آسٹریلین اوپن‘ 5 ومبلڈن اور 3 یوایس اوپن ٹائٹلز اپنے نام کیے ہیں۔ سال رواں کا پہلا گرینڈ سلام آسٹریلین اوپن بھی جوکووچ نے جیتا تھا۔

فرانسیسی دارالحکومت پیرس کے رولینڈ گیروس اسٹیڈیم کی کلے کورٹ پر یونانی کھلاڑی اسٹیفانوس نے ابتدائی دو سیٹ میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا اور وہ  شاندار شاٹس سے عالمی نمبر ایک حریف پر مکمل حاوی دکھائی دے رہے تھے اور ان کے جارحانہ کھیل سے ایسا لگ رہا تھا کہ اسٹیفانوس گرینڈ سلام کی تاریخ میں بطور چیمپئن اپنا نام لکھوانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

 اسٹیفانوس نے زبردست مقابلے کے بعد پہلا سیٹ ٹائی بریکر پر 7-6 سے جیت کر برتری حاصل کی تھی اور دوسرے سیٹ میں یونانی اسٹار کے اٹیکنگ کھیل کا جوکووچ کے پاس کوئی جواب نہیں تھا جس کی وجہ سے اسٹیفانوس نے دوسرا سیٹ6-2 سے جیت کر اپنی سبقت ڈبل کر دی تھی اور انہیں ٹائٹل اپنے نام کرنے کیلئے صرف ایک سیٹ میں کامیابی کی ضرورت تھی لیکن اس کے بعد جو کچھ ہوا اس نے کھیل کا نقشہ ہی بدل دیا۔

تجربہ کار اور طویل مقابلے کی زبردست صلاحیت رکھنے والے نواک جوکووچ  تیسرے سیٹ میں یکسر مختلف نظر آئے۔ انہوں نے اپنی سروس بیک ہینڈ اور فور ہینڈ شاٹس  برق رفتار سروس اورگراؤنڈ سٹروکس کا انتہائی مہارت کے ساتھ استعمال کیا۔ تیسرے سیٹ سے  جوکووچ  نے میچ کا نقشہ ہی بدل دیا اور یہ سیٹ 6-3 سے جیت کر  کامیابی کے راستے پر چل نکلے۔

چوتھے سیٹ میں بھی  جوکووچ کے جاحانہ کھیل کے سامنے  اسٹیفانوس  بے بس دکھائی دیئے اور سربین اسٹار نے چوتھا سیٹ 6-2 سے جیت کر مقابلہ 2-2 س برابر کر دیا۔ اخری اور فیصلہ کن سیٹ میں  اسٹیفانوس نے کچھ جم کر مقابلہ کیا۔ ا یک مرحلے پر مقابلہ تین تین گیم سے برابر تھا لیکن اس کے بعد اسٹیفانوس اپنی ردھم کو برقرارنہ رکھ سکے اور انہوں نے کئی غیر اردادی غلطیاں کیں جس کی وجہ سے نواک جوکووچ نے تیزی کے ساتھ گیم جیت کر اپنی سبقت میں اضافہ کیا۔

آخری لمحات میں یونانی کھلاڑی نے میچ پوائنٹ بچایا اور امید کی کرن پیدا کی لیکن طویل جنگ میں ذہنی پختگی رکھنے والے جوکووچ نے جیت کے مصم ارادے کے سامنے اسٹیفانوس زیادہ دیر مزاحمت نہیں کر پائے  اور جوکووچ نے زبردست وننگ شاٹ کھیل کر ناصرف فرنچ اوپن ٹائٹل جیتا بلکہ تاریخ میں اپنا نام بھی رقم کروا لیا۔

نواک جوکووچ اپنے کیریئر میں 29 گرینڈ سلام فائنل کھیلنے کا تجربہ رکھتے تھے جبکہ ان کے یونانی حریف  اسٹیفانوس تسیسیپاس کا یہ پہلا گرینڈ سلام فائنل تھا لیکن پھر بھی مقابلہ دل ناتواں نے خوب کیا اور ابتدائی  دو سیٹ جیت کر جوکووچ کیلئے کچھ پریشانی ضرور پیدا کر دی تھی گو بعد میں وہ اپنی اس فاتحانہ کارکردگی کا تسلسل برقرار نہیں رکھا پایا۔

نواک جوکووچ نے فرنچ اوپن کے چوتھے راؤنڈ میچ  میں بھی 19 سالہ لورنزو موسیٹی کو بھی دو سیٹ سے خسارے میں جانے کے بعد کم بیک کرتے ہوئے شکست دی تھی۔ انٹرنیشنل ٹینس فیڈریشن کا کہنا ہے کہ نواک جوکووچ  گرینڈ سلام  پروفیشنل اوپن ایرا میں دو میچوں میں دو سیٹ سے خسارے میں جانے کے بعد ٹرافی جیتنے والے پہلے کھلاڑی ہیں۔ ان کی اس کامیابی کا بنیادی سبب تجربہ اور ذہنی پختگی ہے۔

اس فائنل سے پہلے نواک جوکووچ نے اپنے کیریئر میں پانچ سیٹ پر مشتمل 44 میچز کھیلے تھے جن میں نے جوکووچ نے 34 میں کامیابی حاصل کی اور 10 میں انہیں شکست ہوئی تھی ان میں سے 31 کامیابیاں گرینڈ سلام میچز میں ہوئیں۔ اس کے برعکس اسٹیفانوس تسیسپاس  کا پانچ سیٹ کے 9 میچز کا تجربہ تھا جس میں سے پانچ  میچ میں یونانی کھلاڑی کو فتح نصیب ہوئی اور چار میں ناکامی مقدر بنی تھی۔

نواک جوکووچ کا کہنا تھا کہ فرنچ اوپن  اورکلے کورٹ میں رافیل نڈال کو زیر کرنا دنیا کی  بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کے برابر ہیں۔ سیمی فائنل میں اس کو عبور کرنے کے بعد مجھے فائنل میں بھی طویل جنگ کرنا پڑی اور اسٹیفانوس کے خلاف فائنل کے ٹو چوٹی سر کرنے کے مترادف تھا۔

 عالمی نمبر 5 یونانی ٹینس  اسٹار اسٹیفانوس نے یہ فائنل انتہائی غم اور افسوس کی حالت میں کھیلا تھا کیونکہ  فائنل میچ شروع ہونے سے پانچ منٹ قبل ان کی گرینڈ مدر کا انتقال ہو گیا تھا اور یہ خبر ان پر بجلی بن کر گری تھی لیکن وہ کمال ضبط اور حوصلے  کا مظاہرہ کرتے ہوئے کورٹ میں اترے تھے اور انہوں نے کسی بھی مرحلے میں یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ  وہ اتنے بڑے صدمے کے ساتھ میچ کھیل رہے ہیں۔

 فائنل کے بعد اسٹیفانوس نے انہیں زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ میری زندگی میں انتہائی اہمیت کی حامل تھیں۔ وہ درد مند دل رکھنے والی خاتون تھیں۔ وہ زندگی پر کامل یقین رکھتی تھیں اور ہر ایک کو خوش دیکھنا  چاہتی تھیں اور مشکل میں کام اتی تھیں۔

اسٹیفانوس کا کہنا تھا کہ دنیا میں ان جیسی اور بھی شخصیات ہونی چاہیں کیونکہ وہ زندگی کی امنگ پیدا کرتی اور حوصلہ دیتی ہیں اور انسانوں کو آنکھوں میں خواب سجانے کے ساتھ ساتھ ان کو پورا کرنے کے گر بھی بتاتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میرے اس مقام تک پہنچنے میں ان کا بڑا کردار ہے۔ انہوں نے مشکل حالات میں میرے والد کی پرورش کی تھی۔

یونانی کھلاڑی نے کہا کہ میں گرینڈ سلام جیتنے والا پہلا کھلاڑی بننا  چاہتا تھا۔ ابتدائی دو سیٹ   جیتنے کے بعد مجھے یہ خواب پورا ہوتا دکھائی دیتا تھا لیکن تجربہ کار جوکووچ نے غیرمعمولی کارکردگی پیش کرتے ہوئے مجھے ناکامی سے دو چار کر دیا۔ جوکووچ نے سیمی فائنل میں نڈال کو چار سیٹ میں جبکہ اسٹیفانوس نے زیوریف کو پانچ سیٹ میں شکست دی تھی اگلے سال پھر تیاری کے ساتھ آؤں گا۔

انہوں نے کہا کہ اس بار مجھے سے جو غلطیاں ہوئی ہیں ان کا ازالہ کروں گا۔ فائنل میں رسائی کی وجہ سے اسٹیفانوس نئی عالمی رینکنگ میں پانچویں نمبر پر  آجائے گا سال ٹور کے ٹینس ٹور سیزن میں اس نے سب سے زیادہ میچز جیتے  ہیں۔ مونٹی کارلو اور لیون کے ٹائٹل اس کے نام رہے۔

نواک جوکووچ نے کہا کہ اس ٹائٹل کے جیتنے پر خوشی ہے  اور میں اب لیجنڈ نڈال اور فیڈرر کے مزید قریب پہنچ گیا ہوں۔ فائنل میں اسٹیفانوس نے شاندار کھیل پیش کیا میں شکست کی تکلیف سے بخوبی واقف ہوں لیکن  اس کی کارکردگی اس کے تابناک مستقبل کا پتہ دیتی ہے وہ مستقبل  کے ٹینس اسٹارز کی نئی جنریشن کا اہم کھلاڑی ہے اور مجھے یقین ہے کہ وہ گرینڈ سلام اعزازات جیتے گا۔

 22 سالہ اسٹیفانوس نے کہا کہ ہار جیت ہی زندگی کو جینے کا ہنر سکھاتی اور آگے بڑھاتی ہیے۔ انسان کو زندگی کے ہر لمحے سے لطف اندوز ہوناچاہیے اور ہار کو دل کا روگ نہیں بنانا چاہیے کیونکہ ہارہی جیت کا راستہ دکھاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مشکلات اور مسائل کے  بغیر بامقصد زندگی  نہیں گزاری جا سکتی۔ فتوحات اور ٹرافیاں جیتنا کچھ الگ چیز ہے لیکن زندگی میں یہی سب کچھ نہیں ہے اس لیے  انسان کو  مشکلات کا مقابلہ کرتے ہوئے بامقصد زندگی جینے کا ہنر سیکھنا چاہیے۔

فرنچ اوپن فاتح نواک جوکووچ ن۔ فائنل میچ  کامیابی کے بعد تماشائیوں کے اسٹینڈ کی جانب گئے اور حیران کن طور پر انہوں نے اپنا فاتحانہ ریکٹ ایک چھوٹے بچے کو بطور گفٹ دے دیا جواپنی فیملی کے ساتھ فائنل دیکھ رہا تھا۔  بعد میں جوکووچ نے  یہ حیران کن انکشاف کیا کہ میری فتح میں اس بچے کا  اہم کردار ہے جب میں ابتدائی دو سیٹ  اسٹیفانوس سے ہار رہا تھا تو یہ بچہ چینخ چینخ کر مجھے ہدایات دے رہا تھا کہ میں کیا کروں میں اپنی سروس ہولڈ کروں۔

انہوں نے کہا کہ میں نے اس بچے کو نہیں جانتا لیکن  پورے میچ کے دوران وہ میری رہنمائی کرتا رہا میں اس کی آواز پر اپنے کان دھرے ہوئے تھا۔ وہ ناصرف میرا حوصلہ بڑھا رہا تھا بلکہ تیکنیکی طور پر مجھے ہدایات بھی دے رہا تھا کہ میں کیا کروں۔  وہ کہتا تھا کہ پہلی بال کو آسانی سے کھیلو۔ اب بیک ہینڈ شاٹ لگاؤ۔  اب فورہینڈ شاٹ کھیلو۔ وہ پورے میچ میں میری کوچنگ کرتا رہا۔

 جوکووچ نے کہا کہ اس کی حوصلہ افزائی نے میرے ٹرافی تک پہنچنے میں زبردست کردار ادا کیا جس پر میں اس کا شکرگزارہوں اور اسی لیے میں نے اسے اپنا ریکٹ تحفتاً دیا ہے۔ جوکووچ سے ریکٹ ملنے پر اس بچے کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube