غیرملکی کوچز کےہمراہ ٹیم اچھا پرفارم کیوں کرتی ہے

SAMAA | - Posted: Mar 9, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Mar 9, 2021 | Last Updated: 2 months ago

ٖفوٹو: سماء ڈیجیٹل

سابق چئیرمین پاکستان کرکٹ بورڈ نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ ہمارے سابق کرکٹرز کوچز لگ جائیں اور کوئی کھلاڑی انکی بات نہیں مانتا تو برا مان جاتے ہیں۔

نجم سیٹھی نے کہا کہ بورڈ میں ہمارے دور میں 17لوگوں کی اتنی تنخواہ نہیں تھی جتنی اب بورڈ میں ایک ایک بندے کی ہے، وسیم خان پاونڈ میں سوچتے ہیں انکے لیے 30سے 40لاکھ کچھ بھی نہیں ہے۔ سابق کرکٹرز کو کوچ نہیں لگانا چاہئیے،ہمیشہ غیر ملکی کوچ لگانے کے حق میں رہا ہوں، غیرملکی کوچز مہنگے ہوتے ہیں لیکن اب ملکی کوچز بھی اتنی سیلری لے رہے۔

سلیکشن میں بھی کراچی اور لاہور کے کھلاڑیوں پر بحث شروع ہوجاتی ہے جبکہ غیرملکی کوچز کو دونوں شہروں کے کھلاڑیوں سے مطلب نہیں بلکہ جیت کا سوچ کرٹیم تشکیل دیتا ہے۔ میرے تجربے کے مطابق ہمارے سپر اسٹارز کو کوچز نہیں لگانا چاہئیے، ہمارے اسٹار کرکٹرز انا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں۔

محمد عامر کو آئی سی سی نے معاف کیا میں بھی اسی حق میں تھا، عامر کو ریٹائرمنٹ نہیں لینی چاہئیے تھی۔ دونوں ہاتھوں سے تالی بجتی ہے عامر اور بورڈ دونوں جذباتی ہوگئے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان سپر لیگ کو پاکستان لانے میں سکیورٹی اداروں ،پاکستان آرمی اور پنجاب حکومت نے بہت سپورٹ کیا، پی ایس ایل کا فائنل جب لاہور لائے تب کوئی بھی تیار نہیں تھا جبکہ فرنچائزز نے بھی تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

پی ایس ایل فرنچائزز کے میرے دور میں کوئی معاملات خراب نہیں تھے، فرنچائزز عیاشیاں کرتے ہیں اس لیے انکو منافع نہیں ہورہا، جب پی سی بی پوچھتا ہے کہ آڈٹ کراؤ تو کوئی آڈٹ نہیں کرواتا۔ میرے دور میں سلیکشن میں سفارش نہیں ہوتی تھی۔ مجھے اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے منع کردیا تھا کہ سفارش نہیں چلنے دونگا۔

نجم سیٹھی نے بتایا کہ اپنے عہدے سے مستعفی اس لیے ہوا کہ مجھےعلم تھا کہ نئی حکومت مجھے تنگ کرے گی، پہلے گراونڈ میں گو نواز گو اب گو عمران گو کے نعرے لگتے ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube