Wednesday, December 2, 2020  | 15 Rabiulakhir, 1442
ہوم   > کھیل

کرکٹرناصرجمشید کو پاکستان ڈی پورٹ کیے جانے کا امکان

SAMAA | - Posted: Oct 14, 2020 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Oct 14, 2020 | Last Updated: 2 months ago

انگلینڈ کی جیل میں قید سابق پاکستانی کرکٹر ناصر جمشید کو پاکستان ڈی پورٹ کیے جانے کا امکان ہے۔ ان کی رہائی 21 اکتوبر کو ہورہی ہے۔

اسپاٹ فکسنگ میں ملوث ناصر جمشید کو مانچسٹر کی کراؤن کورٹ نے 17 ماہ قید کی سزا سنائی تھی۔اس وقت ناصر جمشید انگلیںڈ کی جیل میں ہیں اور 21 اکتوبر کو رہا ہونگے۔

رہائی کے بعد انھیں پاکستان ڈی پورٹ کیا جاسکتا ہے۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے اینٹی کرپشن ٹریبونل نے ناصر جمشید پر10 سال کی پابندی لگائی تھی۔

اسپاٹ فکسنگ کیس میں برطانوی عدالت سے سزا پانے والے کرکٹرناصرجمشید کی اہلیہ ڈاکٹرسمارا نے ان کی سزا کے دن کو اپنی زندگی کا مشکل ترین دن قرار دیتےہوئے کہا تھا کہ اس سزا سے دوسرے کرکٹرز عبرت حاصل کریں۔انھوں نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا تھا کہ آج میری زندگی کا مشکل ترین دن ہے کیوں کہ آج ناصر کی سزا شروع ہوگئی ہے اور مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ میں اپنی 4 سال کی بیٹی کو کیا بتاؤں؟۔

ٹویٹ کے ساتھ شیئر کیے جانے والے نوٹ میں سمارا نے لکھا تھا کہ ناصر جشميد کا مستقبل روشن ہوسکتا تھا، کھیل انہیں بہت کچھ دے سکتا تھا لیکن انہوں نے شارٹ کٹ اپنایا جس نے ان سے کيرئير،اسٹيٹس،عزت اور آزادی سب کچھ چھين ليا۔

ویسٹ مڈلینڈزمیں رہائش پذیر ناصر جمشید نے پچھلےبرس دسمبر میں مانچسٹر کراؤن کورٹ میں جرم کا اعتراف کیا تھا۔ ناصر کےعلاوہ میچ فکسنگ میں برطانوی شہری یوسف انورمحمداعجازشامل ہیں جنہوں نے 2 دسمبر کواس حوالےسےاعتراف کیا تھا۔

نیشنل کرائم ایجنسی کی جانب سےجاری کردہ تفصیلات کےمطابق انڈرکورافسرکےذریعےیہ پتا لگایا گیا کہ3 افراد 2016 میں بنگلہ دیش پریمیرلیگ ٹی 20 ٹورنامنٹ کےمیچوں کوفکس کرنےکی سازش کررہےتھے،اس میچز میں ناصرجمشیدکوبھی کھیلنا تھا۔

انوراوراعجازنےمنصوبہ بنایا تھا کہ وہ ایک نظام کےذریعےپیشہ ورکھلاڑی کی نشاندہی کریں گے جومیچ کے شروع میں ہی اشارہ دے گاجس سےتصدیق ہوجائےگی کہ میچ کا ایک حصہ فکس ہے۔ فی فکس 30 ہزار برطانوی پاؤنڈز ملتے جس میں آدھے کھلاڑی کوجاتے۔

ناصرجمشید،انوراوراعجاز نےاس کےبعد2017 میں دبئی میں ہونے والی پاکستان سپرلیگ کو فکس کرنے کی ٹھانی۔ نیشنل کرائم ایجنسی کے مطابق فروری 2017 میں انور اسلام آباد یونائیٹڈ کے کھلاڑی خالد لطیف اور شرجیل خان سے ملنے دبئی کیااور انہیں میچ فکسنگ کیلئے رضا مندکیا۔

ایجنسی کےمطابق اس سےقبل سی سی ٹی وی کیمرے میں دیکھا گیا تھا کہ انورنے سینٹ ایلبنز میں ایک اسٹور سے 28 بیٹ خریدے جنہیں مختلف کرکٹرز نے میچ کا یہ حصہ فکس ہے کا اشارہ دینے کیلئے استعمال کیا۔ ان بیٹس کی ہینڈل گرپس مختلف رنگوں کی تھیں۔

دبئی میں 9 فروری 2017 کو اسلام آباد یونائیٹڈ اور پشاورزلمی کا میچ ہوا اور شرجیل خان کریز پر پہلے سے طے شدہ اشارہ دیتے ہوئے پہنچے۔ کرکٹر نے دوسرے اوور کی پہلی 2 گیندوں پر رن نہیں بنایا اور تیسری گیند پرصفر پر ایل بی ڈبلیو آؤٹ ہوکر پویلین لوٹ گئے۔

ناصر جمشید کو 13 فروری 2017 کو ان کے گھر، انور کو دبئی سے واپسی پر ہیتھرو ائرپورٹ جبکہ اعجاز کو شیفیلڈ میں واقع ان کے گھرسے گرفتارکیا گیا۔

واضح رہے کہ پی سی بی نے ٹریبونل سماعتوں کے بعد ناصرجمشید، خالد لطیف، شرجیل خان اور محمد عرفان کو معطل کر دیا تھا۔ ناصرجمشيد پر10 دس سال کی پابندی عائدکی گئی تھی۔

برطانوی نشریاتی ادارے میں شائع رپورٹ کے مطابق سینیئرتفتیشی افسر آئن میک کونل کا کہناتھا  کہ ان افراد نے پیشہ وارانہ اورانٹرنیشنل کرکٹ تک رسائی کا غلط استعمال کیا اور مالی فائدے کے لیے عوام کے اعتماد کو دھچکا پہنچایا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube