Monday, October 26, 2020  | 8 Rabiulawal, 1442
ہوم   > کھیل

عماد علی قومی اسکریبل چیمپئن بن گئے

SAMAA | - Posted: Sep 21, 2020 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Sep 21, 2020 | Last Updated: 1 month ago

سید عماد علی نے کراچی میں منقعدہ 32 ویں قومی اسکریبل چیمپئن شپ جیت کر سب سے کم عمر فاتح کھلاڑی کا اعزاز بھی حاصل کرلیا۔

پاکستان اسکریبل ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام کراچی میں 3 روزہ  گلیڈی ایٹرز پاکستان اسکریبل (ماسٹرز) چیمپیئن شپ اختتام پذیر ہوگئی جس میں ملک بھر سے 9 سال سے 80 سال کی عمر کے 44 کھلاڑیوں نے حصہ لیا۔

آٹھ مرتبہ کے قومی چیمپئن وسیم کھتری کو دو روز تک واضح برتری حاصل تھی اور ان کی فتح کے امکانات روشن تھے، عماد علی بیس گیمز کے بعد وسیم کھتری سے 4 گیمز پیچھے تھے اور ٹائٹل کی دوڑ سے تقریباً باہر ہوچکے تھے لیکن 14 سالہ جونیئر ورلڈ چیمپیئن نے حیران کن کم بیک کرتے ہوئے اپنے استاد وسیم کھتری کو مسلسل 4 گیمز میں شکست دیکر ٹائٹل اپنے نام کرلیا۔

عماد علی نے 27 میں سے 19 گیمز جیتے اور ان کی جیت کا اسپریڈ اسکور 1469 رہا۔ دوسری پوزیشن حاصل کرنیوالے وسیم کھتری نے بھی 19 گیمز جیتے لیکن ان کا اسپریڈ اسکور 1210 رہا۔ حماد ہادی خان نے 18 گیمز جیت کر تیسری پوزیشن حاصل کی جبکہ دفاعی چیمپیئن حشام ہادی خان ٹائٹل کا دفاع نہ کرسکے اور چوتھے نمبر پر رہے۔

چیمپئن شپ میں حصہ لینے والے سابق قومی چیمپئنز سمیت تمام سینئر کھلاڑیوں کو نوجوان کھلاڑیوں سے مقابلے میں سخت چیلنج کا سامنا رہا۔ نو سال کے بلال اشعر تمام سینئر پلیئرز سے آگے رہے۔

مہمان خصوصی ہارون قاسم نے کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کئے، ہارون قاسم کا کہنا تھا کہ اس طرح کی مثبت سرگرمیوں کا انعقاد صحتمند معاشرے کیلئے ضروری ہے اور ہم سب کو انہیں پروان چڑھانے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔

دوا ساز ادارے کے سی ای او سید جمشید احمد نے کہا کہ اسکریبل انسان کے مدافعتی نظام کو بہتر کرتا ہے، اس کھیل کی قومی سطح پر سرپرستی کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی کمپنی جسمانی اور ذہنی صحت کے ساتھ ساتھ کھیلوں کی سرگرمیوں کی سرپرستی کر رہی ہے تاکہ ایک صحت پاکستان کی بنیاد رکھی جاسکے اور دنیا بھر میں یہ نوجوان کھلاڑی پاکستان کا نام روشن کریں۔

کوویڈ 19 کی عالمی وباء کے بعد کھیلوں کی سرگرمیوں کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اسکریبل ایسوسی ایشن یوتھ ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت رواں برس پاکستان اسکریبل لیگ شروع کرنے کا ارادہ تھا، جس میں دنیا بھر سے کھلاڑی شریک ہونے تھے لیکن وباء کے سبب لیگ تاخیر کا شکار ہوگئی۔

جمشید احمد کا کہنا تھا کہ اگر حکومت سرپرستی کرے تو پاکستان دنیا میں اسکریبل کے میدان میں حکمرانی کر سکتا ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube