Friday, September 25, 2020  | 6 Safar, 1442
ہوم   > کھیل

دولت کی ریل پیل نےجنٹلمین گیم کا تاثربدل دیا،مشتاق محمد

SAMAA | - Posted: Feb 12, 2020 | Last Updated: 8 months ago
SAMAA |
Posted: Feb 12, 2020 | Last Updated: 8 months ago

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان مشتاق محمد کا کہنا ہے کہ جدید کرکٹ میں دولت کی ریل پیل نے جنٹل مین گیم کا تاثر تبدیل کر دیا ہے جس کے بعد میچ فکسنگ اور ڈوپنگ جیسی قباحتیں سامنے آ ئی ہیں جن سے کئی کھلاڑیوں کا کیریئر ختم ہو گیا۔

ان خیلات کا اظہار1958سے 1979تک ملک کی نمائندگی کرنے والے لیجنڈ کرکٹر نے گزشتہ روز سجال کے مہمان  پروگرام میں بات کرتے ہوئے کیا۔

مشتاق محمد کا کہنا تھا کہ ان کے دور میں 70 کی دہائی کی ٹیم بڑے باصلاحیت کھلاڑیوں پر مشتمل تھی جس کے تمام کھلاڑی کاؤنٹی کرکٹ کھیلتے تھے اور مجھے بطور کپتان صرف انکو اکٹھا رکھنا ہوتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے گراؤنڈز، پچز اور امپائررزسمیت سہولیات بہترنہیں تھیں مگر اب کرکٹ میں جدید سہولیات آ گئی ہیں، ٹیسٹ کرکٹ میں ٹیکنالوجی کے آنے سے بھی کافی فرق پڑا ہے اور اب کھلاڑی فیصلوں سے بھی مطمئن نظر آ تے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں مشتاق محمد نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے کھلاڑی ہمیشہ سے ایک دوسرے کے ساتھ کھیلنا چاہتے ہیں، ان کی دوستیاں بھی ہیں تاہم سیاست کی وجہ سے باہمی کرکٹ نہیں ہو رہی جو درست نہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں مشتاق محمد نے کہا کہ وسیم خان کے آنے کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی ہوئی ہے جو ملک کے لئے اچھا ہے، ڈومیسٹک کرٹ میں بھی تبدیلیاں کی گئی ہیں مگر اس میں ابھی کافی تبدیلیاں آ ئیں گی۔

مشتاق محمد نے کہا کہ اب ماضی کے مقابلے میں کرکٹ کی بہتر سہولیات میسر ہیں، مصباح الحق اور بابر اعظم کو ابھی کچھ وقت دینا ضروری ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملک کے معاشی حالات کے پیش نظر ڈیپارٹمنٹ کی کرکٹ کو بند کرنا درست نہیں  اسے کسی نہ کسی شکل میں بحال کرنا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی 22 کروڑ کی آبادی سے صرف 6 فرسٹ کلاس ٹیمیں بنانا درست فیصلہ نہیں ہے میرے خیال میں 12 سے 15 ٹیمیں ہو نی چاہئیں تاکہ تمام کھلاڑیوں کو موقع مل سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ انگلینڈ میں کاؤنٹی ٹیموں کی تعداد بھی زیادہ ہے تاہم نیوزی لینڈاور آسٹریلیا میں آبادی کم ہو نے سے ان کی ٹیموں کی تعداد بھی کم ہے۔

مشتاق محمد نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو چاہئے کہ ڈیپارٹمنٹ کی ٹیموں کو پہلے کی طرح قائد اعظم ٹرافی اور پیٹرنز ٹرافی الگ الگ کر دے یا اس کے لئے گریڈ ٹو ٹورنامنٹ کرائے تاکہ کھلاڑیوں کی کرکٹ اور معاشی مسائل بھی حل ہو جائیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں گراس والی اور باؤنسی وکٹیں بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے کھلاڑی غیر ملکی دوروں پر بھی بہتر کارکردگی دکھا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اچھا کھلاڑی کسی نہ کسی طریقہ سے غیر ملکی کنڈیشنز میں ایڈجسٹ کر کے کارکردگی دکھا لیتا ہے جو اوسط کھلاڑی نہیں کر پاتا۔

اپنے ماضی کو یاد کرتے ہوئے مشتاق محمد نے کہا کہ1977میں ان کا دورہ آسٹریلیا بہت اچھا رہا جبکہ ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز ان کے کیریئر کی سب سے بہتر تھی مگر واپس آ کر مجھے کپتانی سے ہٹا کر دورہ بھارت سے ڈراپ کر دیا گیا جس کی مجھے ابھی تک سمجھ نہیں آ سکی۔

سابق کپتان نے سرفراز نواز کو بھی خراج تحسین پیش کیا کہ  انہوں نے آسٹریلیا کے خلاف ہارا ہوا میچ 9 وکٹ لے کر جتوا دیا اور وہ ہمیشہ ہی ایک عظیم باؤلر رہے۔

قبل ازیں مشتاق محمد کی سجال آفس آنے پر انہیں گلدستہ پیش کیا گیا اور یاد گار شیلڈ بھی دی گئی۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube