چیف سلیکٹر انضمام الحق مستعفی ہوگئے

July 17, 2019

 

چیف سلیکٹر انضمام الحق مستعفی ہوگئے ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ میرے عہدے کی معیاد 30 جولائی تک تھی، محمد حفیظ اور شعیب ملک کی ریٹائرمنٹ ان کا اپنا فیصلہ ہوگا،نئی سلیکشن کمیٹی ان سے متعلق دیکھے گی۔ انھوں نے کہا کہ فخر زمان 3 سال کا بہترین پرفارمر رہا،ان کی کارکردگی بھی یہ ظاہر کرتی ہے۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انضمام الحق نے کہا کہ اگر بورڈ سلیکشن کے علاوہ کوئی اور عہدہ دینا چاہے تو خدمات پاکستان کے لیے حاضر ہیں تاہم اب سلیکشن کے معاملات نہیں دیکھوں گا۔ انھوں نے کہا کہ جو نئے لوگ آنے ہیں انھیں مکمل وقت دینا چاہئے، ٹیم منجمنٹ اور بورڈ کا شکر گزار ہوں جنھوں نے تعاون کیا۔ چیف سلیکٹر نے مزید کہا کہ بورڈ نے ابھی کوئی پیش کش نہیں کی ہے۔

شعیب ملک سے متعلق انھوں نے کہا کہ شعیب اچھا کھلاڑی تھا، اس نے 19 سال ملک کے لئے خدمات انجام دیں، شعیب نے 2 سال پاکستان کرکٹ کے تقریبا تمام ون ڈے میچز میں حصہ لیا۔

انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان رن ریٹ پر سیمی فائنل کے لیے نہیں کوالی فائی کرسکا، ٹیم کی کارکردگی بہت اچھی رہی، ورلڈکپ میں پاکستان نے دونوں فائنسلٹ ٹیموں کو شکست دی تھی، لوگوں کو سمجھنا چاہئے کہ جب ٹیم کی سلیکشن کمیٹی کا موقع ملا تو کئی کھلاڑی ریٹائر ہونے والے تھے، ٹیم میں نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دیا، یہ کھلاڑی اگلے دس پندرہ سال تک کھیل سکتے ہیں۔

انھوں نے امام الحق سے متعلق بتایا کہ 2012 میں امام الحق کو انڈر 19 کے لئے منتخب کیا، وہ انڈر 19 کا نائب کپتان بھی رہا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کی موجودہ کرکٹ میں امام الحق پہلا اوپنر ہے جس کی 50 سے زائد کی اوسط ہے۔ انھوں نے کہا کہ امام پر تنقید بلاجواز ہے۔ ان کی کارکردگی کو سراہا چاہئے۔ چیف سلیکٹر نے مزید کہا کہ مکی آرتھر اور گرانٹ فلاور نے امام الحق کو ٹیم میں شامل کرکے لیے آواز اٹھائی تھی، امام کو کھلانے کا فیصلہ ٹیم مینجمنٹ کا بھی رہا، اس کی کارکردگی کو دیکھنا چاہئے اور بلاجواز تنقید نہیں کرنی چاہئے۔

انضمام الحق نے کہا کہ ورلڈ کپ میں پاکستان کے پاس افغانستان اور نیوزی لینڈ کے خلاف اچھے رن ریٹ کا موقع تھا، لڑکوں نے جان لڑائی مگر کسی کو الزام دینا درست نہیں۔ کرکٹ ماہرین کو لگتا تھا کہ پاکستان ورلڈ کپ جیت سکتا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ سری لنکا سے اگر میچ ہوتا تو زیادہ امیدیں یہ ہی تھیں کہ پاکستان جیت سکتا تھا۔ پاکستان کی ٹیم اور کوچنگ اسٹاف نے سو فیصد کارکردگی دکھانے کی کوشش کی ہے، سب کو افسوس ہے کہ پاکستان سیمی فائنل میں نہیں پہنچ سکا۔

انضمام الحق نے کہا کہ سلیکشن کے لیے یہ نہیں کہا کہ 100 کارکردگی تھی،غلطی ہوسکتا تھی، نیت کبھی بھی یہ نہیں رہی کہ کسی لڑکے کے ساتھ زیادتی کریں، پوری سلیکشن ٹیم نے کسی لڑکے کے ساتھ غلط کرنے کا سوچا بھی نہیں۔

انھوں نے واضح کیا کہ مستعفی نہیں ہوا بلکہ عہدے کی معیاد ہی اس ماہ تک تھی تاہم مستقبل میں سلیکشن کمیٹی کے لیے دستیاب نہیں ہوں گا۔

انھوں نے تجویز دی کہ موجودہ ٹیم کی اوسط عمر بائیس تئیس بنتی ہے۔ ٹیم کی ان پر انوسمنٹ ہوئی ہے،یہ کھلاڑی عالمی معیار کے بن سکتے ہیں، ان کو موقع ملتا رہنا چاہئے۔