سرفراز احمد پر غیراخلاقی تنقید مہنگی پڑی

June 22, 2019

ورلڈ کپ میں قومی کرکٹ ٹیم کی پے در پے شکست شائقین کے لیے مایوسی کے ساتھ ساتھ غم وغصے کا بھی باعث ہے لیکن اس کے باوجود اخلاقیات کا دامن ہاتھ سے چھوڑنا خود ایسا کرنے والوں کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔

لندن میں ایک شخص نے غیراخلاقی طریقے سے کپتان سرفراز احمد پر تنقید اور ان کے موٹاپے کو نشانہ بنانا ٹوئٹر پر موضوع بحث بن گیا۔ ٹوئٹر پر اپ لوڈ کی جانے والی ویڈیو دیکھنے کے بعد مذکورہ شخص پر کڑی تنقید اور لعن طعن کی گئی جس پر اس نے سرفراز احمد اور شائقین کرکٹ سے معافی مانگی ہے۔

ویڈیو شیئر کرنے والے بھارتی صارف نے لکھا کہ اگر ویرات کوہلی ہوتا تو اس  لڑکے کو قتل کردیتا، سرفراز کو سیلیوٹ ہے جس نے ردعمل نہیں دیا۔

ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سرفراز اپنے بیٹے عبداللہ کو اٹھائے ہوئے غالبا کسی ہوٹل میں موجود ہیں کہ ایک شخص نے بھائی ، بھائی کہہ کر انہیں متوجہ کیا اور حرام جانور کا نام لیتے ہوئے کہا کہ آپ اس جیسے موٹے کیوں ہو گئے ہیں؟ سرفراز کی جانب سے نظر انداز کرنے کے باوجود اس نے پیچھے سے آوازیں کسیں کہ بڑا نام کمایا ہے پاکستان کے لیے، ڈائٹ کیا کرو۔

پاکستان کے علاوہ بھارتی کرکٹ شائقین اور شوبز ستاروں نے اس اقدام کی شدید مذمت کی کیونکہ ہار جیت کھیل کا حصہ ہے اور اس کا یہ مطلب قطعا نہیں کہ آپ کو دوسروں کی عزت نفس مجروح کرنے کا لائسنس مل جائے۔

ویڈیو بنانے والے شخص کو شدید تنقید کا نشانہ بننے کے بعد شاید یہ احساس ہوا کہ اس نے غلط کیا ، لیکن یہ معافی ٹوئٹر صارفین کے دل کو نہ چھو سکی اور انہوں نے اسے مسترد کردیا۔ سوشل میڈیا پر بیشتر نے معافی مانگنے کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے احساس دلایا کہ آپ کی معافی اپنی جگہ لیکن یہ طریقہ انتہائی غلط تھا۔

سرفراز احمد کے ساتھ ان کے بیٹے کی موجودگی میں سرعام بدتمیزی کرنے والے نے اپنے ویڈیو پیغام میں ندامت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں نے جو کیا وہ بالکل بھی صحیح نہیں تھا، ویڈیو بنانے کے بعد سرفراز میرے پاس آئے اور میں نے وہ ویڈیو اسی وقت ڈیلیٹ کردی تھی لیکن نہ جانے کیسے اپ لوڈ ہو گئی۔ مذکورہ شخص نےدعویٰ کیا کہ وہ بھی پاکستانی ہے اور اسے احساس نہیں تھا کہ شائقین کو یہ اتنا برا لگے گا۔

سوشل میڈیا صارفین کے مطابق پرفارمنس پر تنقید ضرور کریں لیکن ذاتیات پر حملہ کسی طور درست نہیں، بہت سے مداحوں نے تنقید کرنے والوں کو یاد دلایا کہ یہی سرفراز تھا جس کی قیادت میں پاکستان کرکٹ ٹیم نے پہلی بار چیمپئنز ٹرافی میں فتح حاصل کی تو آپ نے اسے سر آنکھوں پر بٹھایا تھا۔