ہوم   > Latest

بیٹیوں سے متعلق بات کرنے پر تنقید کرنے والوں کو شاہد آفریدی کا جواب

3 months ago

سابق کرکٹ کپتان شاہد آفریدی کو ان کی کتاب میں اپنی بیٹیوں کے حوالے سے کی جانے والی بات پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا تو انہوں نے واضح کردیا کہ میری بیٹیاں بہت قیمتی ہیں، ایک ذمہ دار والد کی طرح ان کی رہنمائی کروں گا۔

آفریدی نے ’’گیم چینجر ‘‘ میں لکھا تھا کہ وہ نہیں چاہتے کہ ان کی بیٹیاں کرکٹ یا کسی بھی آؤٹ ڈورکھیل میں دکھائی دیں۔ سابق کپتان کے مطابق میری بیٹوں کوگھر میں ہر قسم کا کھیل کھیلنے کی اجازت ہے لیکن باہر جا کر وہ ایسا کھیل نہیں کھیل سکتیں، میرے اس فیصلے پر ان کی ماں بھی رضامند ہے ۔

اس حوالے سے سوشل میڈیا پر شاہد آفریدی کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا جس پر انہوں نے تازہ ٹویٹس میں اپنا موقف واضح کیا ہے۔

اپنی ٹویٹ میں انہوں نے لکھا کہ ’’میں اس بنیاد پرکسی کو جج نہیں کرتا کہ وہ کیا کر رہا ہے اور نہ ہی لوگوں کی زندگیوں میں مداخلت کرتا ہوں، میں دوسروں سے بھی یہی توقع رکھتا ہوں۔ اللہ تعالی میری بیٹیوں اور دنیا کی تمام بیٹیوں / خواتین پر اپنی رحمت کرے۔ لوگوں کو کرنے دیں۔

ایک اور ٹویٹ میں شاہد آفریدی نے اپنی بیٹیوں سے شدید محبت کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ’’میری بیٹیاں میرے لیے بہت قیمتی ہیں ،میری زندگی انہی کے گرد گھومتی ہے۔ ان سب کی زندگی میں کچھ خواہشات ہیں جس کے لیے میں ان کی حمایت کروں گا اور بطور ایک ذمہ دار والد کے ان کی رہنمائی کروں گا‘‘۔

ان کا ٹویٹ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوا اور صارفین نے تبصروں میں انہیں سراہتے ہوئے دعائیہ کلمات کہے، بیشتر صارفین کو ان ٹویٹس کے پس منظر کا علم نہیں ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کیلئے شاہد آفریدی کی بیٹی کا پیغام

جواب دینے والوں میں مریم نواز بھی شامل ہیں جنہوں نے شاہد آفریدی کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ آپ کی بیٹیاں ایک دن آپ کی سب سے بڑی طاقت بنيں گی، یہ ایسی سرمایہ کاری ہے۔۔ جو دونوں جہانوں میں آپ کو منافع دے گی۔ آپ دوسروں کے ليے مثال قائم کر رہے ہیں۔

شاہد آفریدی کو اللہ نے چار بیٹیوں سے نوازا ہے جن سے وہ بےپناہ محبت کرتے ہیں۔ ان کی بیٹیاں تقریبا تمام ٹورنامنٹ میں بابا کے ساتھ ہوتی ہیں اورآفریدی سوشل میڈیا پر خوبصورت تصاویر شئیر کرتے رہتے ہیں جو بچیوں کی اپنے والد سے زبردست دوستی کا پتہ دیتی ہیں۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
 
سیالکوٹ: اسکول کی خستہ عمارت، طلبہ کی زندگیاں خطرے میں