Tuesday, January 18, 2022  | 14 Jamadilakhir, 1443

خیبرپختون خوا سے پاکستان کی واحد باکسنگ کوچ

SAMAA | - Posted: Dec 9, 2018 | Last Updated: 3 years ago
SAMAA |
Posted: Dec 9, 2018 | Last Updated: 3 years ago

خیبرپختونخوا کے چھوٹے سے گاؤں سے تعلق رکھنے والی شہناز کمال خان 4 باکسر بھائیوں کی بہن ہیں تاہم انہوں نے باکسنگ کا آغاز شادی کے بعد کیا۔

 شہناز کمال کہتی ہیں کہ مجھے پوری شدت سے مارو اور وہ مارتے ہیں، پہلے وہ انہیں دفاعی انداز سکھاتی ہیں، لڑکیاں سیکھتی ہیں کہ کیسے اپنے چہرے، تھوڑی اور سینے کو محفوظ رکھا جائے۔ اس کے بعد ون ٹو کا نمبر آتا ہے۔ وہ اوپر نیچے ہوکر اپنا بچاؤ کرتی ہیں اور سیکھتی ہیں کہ بیلٹ کے نیچے کچھ بھی کرنا فاؤل ہے۔

شہناز کمال پاکستان کی واحد ون اسٹار انٹرنیشنل اور تھری اسٹار نیشنل کوچ ہیں، وہ کہتی ہیں کہ ’’میں پشاور کے ایک عام سے گاؤں سے آئی ہوں، میرے 4 بھائی باکسر ہیں، میں انہیں دیکھتی تھی اور خفا ہوتی تھی، ہم پختون معاشرے میں رہتے ہیں جہاں عام طور پر اس طرح کی سرگرمیوں کی اجازت نہیں ہوتی، میرے دل میں ہمیشہ سے زبردست خواہش رہی کہ میں اپنے بھائیوں کی طرح کچھ کروں‘‘۔

شہناز آج کل اپنے گھر میں صبح کے اوقات میں لڑکیوں کو تربیت دیتی ہیں جبکہ قیوم اسٹیڈیم میں شام 5 سے 7 بجے تک نیشنل کھلاڑیوں کی کوچنگ کرتی ہیں، انہوں نے خیبرپختونخوا اور ملتان کی لڑکیوں کو تربیت دی جنہوں نے ساؤتھ ایشین گیمز 2016ء میں ملک کیلئے کانسی کے تمغے جیتے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’میری خواہش ہے کہ حکومت لڑکیوں کیلئے کوچنگ کیمپ کا انعقاد کرے‘‘۔

اس شاندار کھیل کو صرف حکومتی سرپرستی کی ضرورت ہے، یہ ایک حیرت انگیز بات ہے کہ سات لڑکیاں شہناز کے ساتھ قومی سطح پر تربیت حاصل کررہی ہیں، اس سفر کا آغاز اس وقت ہوا جب انہوں نے والدین کے پاس جاکر انہیں اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ اپنی بچیوں کو تربیت کی اجازت دیں۔

اس حوالے سے والدین کی رضا مندی ضروری ہے، حقیقت میں شہناز کے والدین نے انہیں باکسنگ سیکھنے کی اجازت نہیں دی حالانکہ وہ اپنے بھائیوں سے یہ سیکھ سکتی تھیں، یہ سب کچھ اس وقت ممکن ہوا جب ان کی شادی ایک باکسر سے ہوگئی اور انہیں وہ سب کرنے کی اجازت مل گئی جو وہ چاہتی تھیں۔ ان کے شوہر کہتے ہیں کہ ’’میں نے باکسنگ سکھانے کا آغاز اپنی بیوی کیا، جب میری بیٹی پیدا ہوئی تو میں نے فیصلہ کیا کہ اسے بھی باکسر بناؤں گا، کیوں کہ مجھے پتہ تھا کہ اس کے ساتھ رنگ میں جانے کیلئے ایک خاتون باکسر ہونا ضروری ہے، یہ والدین کیلئے پیغام ہے کہ باکسنگ اگر خطرناک ہوتی تو سید کمال خان اپنی بیٹی کو اس میں نہ لاتا‘‘۔

شہناز نے 2005ء میں تربیت کا آغاز کیا اور 2007ء میں نیشنل گیمز کراچی میں سب سے پہلے ووشو میں حصہ لیا، پاکستانی دستے میں 25 مردوں کے ساتھ وہ واحد خاتون تھیں جن کا تعلق بھی خیبرپختونخوا کےایک گاؤں سے تھا۔ انھوں نے بتایا کہ وہ ایونٹ میں سیکنڈ رنر اپ رہیں۔

ان کا کام اپنے گھر اور اسٹیڈیم تک محدود نہیں، انہوں نے اپنی گاڑی کو پورٹیبل باکسنگ رنگ کے سامان سے بھر رکھا ہے اور شہر میں کہیں بھی لڑکے اورلڑکیوں کو تربیت دینے پہنچ جاتی ہیں، وہ ایسی لڑکیوں میں تبدیلی دیکھتی ہیں جو اس کھیل سے دلچسپی رکھتی ہیں، وہ زیادہ پراعتماد ہوجاتے ہیں، وہ رنگ میں اپنی توانائیاں مزید بڑھا سکتی ہیں، باکسنگ انہیں صرف اپنا دفاع ہی نہیں سکھاتی بلکہ یہ ان کا ہنر بن جاتی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’’یہ انہیں اپنے غصے کو کنٹرول کرنا سکھاتا ہے‘‘۔ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ وہ کتنے میڈلز جیتتی ہیں، کیونکہ صلاحیت کو سونے کے ترازو میں نہیں تولا جاسکتا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube