ویرات کوہلی کواپنے خلاف تنقید پرغصہ مہنگا پڑگیا

November 8, 2018

تعریف کروتو سب اچھا لیکن تنقید سننے کو ملے تو ضبط کا دامن چھوڑ بیٹھو، ایسا کیا بھارتی کپتان ویرات کوہلی نے جنہیں مداح نے تنقید کا نشانہ بنایا تو غصے میں لال پیلا ہوتے ہوئے کوہلی نے جھٹ سے اسے بھارت چھوڑنے کا مشورہ دے ڈالا۔

قصہ کچھ یوں ہوا کہ کوہلی نے اپنے آفیشل ٹوئٹر اکاونٹ پر ایک ویڈیو اپ لوڈ کی جس میں وہ اپنے موبائل پر ایک مداح کا پیغام پڑھ رہے ہیں۔

تنقیدی پیغام میں مداح صاحب نے لکھا تھا کہ ''کوہلی کوخوامخواہ سر پر بٹھالیا گیا ہے ، بڑے بلے باز بنتے ہیں لیکن مجھے ان کی بیٹنگ میں کوئی خاص بات نظر نہیں آئی، بھارتیوں کے مقابلوں میں مجھے انگلینڈ اور آسٹریلیا کے بلے بازوں کو دیکھ کر زیادہ لطف آتا ہے''۔

کوہلی نے یہ پیغام اپنی نئی موبائل ایپ کی لانچنگ تقریب میں پڑھا اور ساتھ ہی برداشت کا دامن ہاتھ سے چھوڑ بیٹھے۔ ایسا کہنے والے کو مشورہ دیا کہ پھر میرا نہیں خیال کہ آپ کو بھارت میں رہنا چاہیے، جائیں کسی اور ملک میں جا کررہیں۔

کوہلی کے مطابق مجھے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ تم مجھے پسند نہیں کرتے لیکن تمہیں یہاں رہتے ہوئے ممالک کو پسند نہیں کرنا چاہیے۔ پہلے اپنی ترجیحات درست کرو۔

ویرات کوہلی کی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہوئی اور بھارت چھوڑنے کے مشورے پرشائقین کرکٹ سمیت مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد نے ان پر طنزوتنقید کے کڑے نشتربرسائے۔

ایک صارف نے دوسروں کو تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے کوہلی کو انگریزوں کا یہ کھیل ہی چھوڑنے کا مشورہ دیا اور بولے قومی کھیل ہاکی یا کبڈی کھیلو۔

ایک دل جلے نے تو کوہلی کو ان کی اٹلی میں ہونے والی شادی یاد دلاتے ہوئے کہا کہ بھارت میں شادی کرتے ہوئے شرم آ رہی تھی تو آپ کو بھارت بھی چھوڑ دینا چاہیے۔

 

 

کوہلی کے بیان پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ایک ٹوئٹر صارف نے لکھا کہ بھارت میں ہرشخص اپنی پرستش چاہتا ہے۔ مودی کے حامی شخص سے اور کیا توقع کی جاسکتی ہے۔

 

کوہلی کو یہ بھی یاد دلایا گیا کہ بھیا خود آپ نے بھی تو سال 2008 کے انڈر19 ورلڈ کپ کے دوران جنوبی افریقن کھلاڑی ہرشل گبز کو فیورٹ کہا تھا۔

ایک حضرت نے تو کوہلی کے اس مشورے کو ''پاکستان جانے'' جیسا قرار دے دیا۔