ہوم   > کھیل

ٹم پین آسٹریلوی ون ڈے اسکواڈ کے کپتان مقرر

SAMAA | - Posted: May 9, 2018 | Last Updated: 2 years ago
SAMAA |
Posted: May 9, 2018 | Last Updated: 2 years ago

آسٹریلیا کے وکٹ کیپر بیٹسمین ٹم پین کو ٹیسٹ کے بعد ون ڈے کرکٹ ٹیم کا بھی کپتان مقرر کردیا گیا ہے۔

دوسری طرف انجری کا شکار فاسٹ باولر مچل اسٹارک پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے قبل مکمل فٹ ہونے کے لئے پر امید ہیں۔ بال ٹیمپرنگ ایشو میں اسٹیو اسمتھ کپتانی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے تھے، وکٹ کیپر ٹیم پین کو ٹیسٹ کا کپتان نامزد کیا گیا تھا اور اب کرکٹ آسٹریلیا نے انہیں ون ڈے کی کپتانی بھی سونپ دی ہے۔

وہ انگلینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز میں ٹیم کی قیادت کریں گے، ون ڈے میں ٹم پین کے ساتھ نائب کپتان ایرون فنچ کو ٹی ٹوئنٹی ٹیم کا کپتان نامزد کر دیا گیا ہے۔

آسٹریلیا کی ٹی ٹونٹی انگلینڈ کے خلاف واحد ٹی ٹونٹی کھیلنے کے ساتھ زمبابوے اور پاکستان کے خلاف ٹی ٹونٹی سیریز کھیلے گی، میچز زمبابوے میں کھیلے جائیں گے۔ فاسٹ باولرز مچل اسٹارک اور پیٹ کیومنز فٹنس مسائل کے باعث ٹیم سے باہر ہیں،ان کے بارے میں اس امید کا اظہار کیا گیا ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے قبل مکمل فٹ ہو جائیں گے۔

واضح رہے کہ مارچ میں جنوبی افریقہ کے دورے کے دوران بال ٹیمپرنگ اسکینڈل کے نتیجے میں آسٹریلوی کپتان اسٹون اسمتھ اور نائب کپتان ڈیوڈ وارنر اور کوچ کو کیپ ٹاؤن ٹیسٹ کے لیے اپنے اپنے عہدوں سے مستعفی ہونا پڑا۔ اس اسکینڈل کو آسٹریلوی کرکٹ کی تاریخ کا ’بدترین باب‘ قرار دیا گیا ہے، جس کے بعد کپتانی کے فرائض 33 سالہ وکٹ کیپر بلے باز ٹم پین کو سونپے گئے ہیں۔

 

 

 

جنوبی افریقہ کے دورے پر گئی آسٹریلوي ٹيم کے بلے باز کیمرون بن کروفٹ کی طرف سے گیند کی حالت بدلنے کی کوشش کے نتیجے میں آسٹریلوی کرکٹ ٹیم سخت تنقید کی زد میں آئی، کیپ ٹاؤن میں جاری تیسرے ٹیسٹ میچ کے تیسرے دن رونما ہونے والے اس واقعہ پر ناقدین نے سخت مایوسی کا اظہار کیا تھا۔

اس نئے اسکینڈل کو آسٹریلوی کرکٹ کی تاریخ میں سن 1981 کے اُس واقعہ کے بعد کا ’شرمناک ترین واقعہ‘ قرار دیا جا رہا ہے، جس میں آسٹریلوی ٹیم کے سابق کپتان گریگ چیپل نے نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلے گئے ایک ون ڈے میچ میں اپنے بھائی ٹریور چیپل کو ’انڈر آرم‘ بال کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ تب میچ کی آخری گیند پر نیوزی لینڈ کو میچ برابر کرنے کی خاطر چھ رنز درکار تھے۔

اسمتھ کو سر ڈان بریڈمین کے بعد آسٹریلیا کا ایک بہترین بلے باز قرار دیا جاتا ہے۔ ان کی کپتانی میں آسٹریلیا کئی کامیابیاں بھی سمیٹ چکا ہے اور اب ان کی طرف سے کپتانی سے الگ ہونے کو آسٹریلوی کرکٹ کے لیے ’ایک دھچکا‘ قرار دیا جا رہا ہے۔

 

 

 

آسٹریلوی کرکٹ بورڈ ’کرکٹ آسٹریلیا‘ کے سربراہ جیمز سودرلینڈ نے کہا ہے کہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات کے بعد فیصلہ کیا جائے گا کہ اس اسکینڈل میں ملوث کھلاڑیوں اور انتظامیہ کے خلاف کیا اضافی اقدامات اٹھائیں جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات کے نتائج سے ہی واضح ہو سکے گا کہ کپتان اسمتھ یا دیگر کھلاڑیوں کے خلاف کیا کارروائی کی جائے۔ جنوبی افریقہ کے اس دورے کے دوران اسمتھ اور لیہمن کو گراؤنڈ میں کھلاڑیوں کے ’جارحانہ انداز اور خوشی منانے کے طریقہ کار‘ کو پہلے ہی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube